’سعودی عرب میں خواتین یہ کام بھی کررہی ہیں‘ معروف صحافی اور عربی اخبار کی ایڈیٹرنے حیران کن انکشاف کردیا

’سعودی عرب میں خواتین یہ کام بھی کررہی ہیں‘ معروف صحافی اور عربی اخبار کی ...
’سعودی عرب میں خواتین یہ کام بھی کررہی ہیں‘ معروف صحافی اور عربی اخبار کی ایڈیٹرنے حیران کن انکشاف کردیا

  

ریاض ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سعودی عرب میں کئی شعبہ جات میں خواتین کا کام کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور بہت سے میدان ایسے ہیں کہ جن میں ابھی بھی خواتین پر پابندیاں عائد ہیں لیکن سعودی عرب میں اب خواتین زندگی کے کئی شعبہ جات میں آگے آرہی ہیں اور ان کو مردوں کے شانہ بشانہ مواقع بھی مل رہے ہیں ۔ سعودی خاتون صحافی اخبار’’سعودی گزٹ ‘‘کی پہلی خاتون ایڈیٹر ان چیف منتخب ہو کر سعودی عرب میں نئی تاریخ رقم کر چکی ہے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے دوسری خواتین کے لئے بھی مشعل راہ ہے۔

 اخبار خلیج ٹائمز کے مطابق سومیا جبراتی کی اخبار سعودی گزٹ میں ایڈیٹر ان چیف کے عہدے پر تعیناتی فروری 2014میں ہوئی ۔ وہ صحافت کے میدان میں رپورٹر کی حیثیت سے کام کرنے، سعودی عرب کے دونوں انگریزی پبلیکیشنز میں بطور ڈپٹی ان چیف کام کرنے کا10سال سے زائد عرصہ کا تجربہ رکھتی ہیں۔جبراتی کو 2011ء میں مصری انقلاب کی کوریج کرنے والی واحد سعودی رپورٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور ان کا نام2015ء میں بی بی سی کی جانب سے جاری کردہ دنیا کی 100خواتین میں بھی شامل ہے۔

سعودی گزٹ کی ایڈیٹر ان چیف جبراتی کا کہنا ہے کہ’’ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں سعودی عرب میں اس طرح کے نمایاں مقام پرپہنچوں گی، مجھے اس عہدے کی خواہش نہیں تھی اور میرا خیال ہے کہ اس عہدے کی نسبت صحافت کی دنیا میں دلچسپ کام فیلڈ رپورٹنگ ہے تاہم سعودی عرب میں اس عہدے پر تعینات ہونے والی پہلی خاتون ہونے کی حیثیت سے مجھ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ صرف میری ذات تک ہی محدود نہیں ہے ، یہ ایک تجربہ ہے اورمیرے لئے اس میں کامیاب ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے سعودی عرب میں دیگر خواتین کیلئے قائدانہ حیثیت سے کام کرنے کے معاملے میں حوصلہ افزائی ہو گی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ بیرونی دنیا میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں میڈیا پر مردوں کی اجارہ داری ہے لیکن میں یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتی ہوں کہ میرا تعلق سعودی عرب میں خواتین صحافیوں کی تیسری اور چوتھی نسل سے ہے ۔ میری اس بات سے بہت سے لوگوں کو حیرت ہوگی کہ سعودی عرب میں خواتین کا صحافت کے پیشے سے منسلک ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس کی شروعات کا سہرا میرے سر جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ہمیشہ سے ہی نیوز روم میں کام کرنے والوں میں اکثریت خواتین کی رہی ہے، اس کی وجہ کوئی مخصوص کوٹہ یا کوئی اور وجہ نہیں ہے ، خواتین میں اس کا رجحان آج بھی موجودہے اورابھی بھی خواتین اس شعبہ میں مردوں کی نسبت زیادہ تعداد میں کام کر رہی ہیں۔ یہ بات قطعاً معنی نہیں رکھتی ہے کہ وہ آزاد خیال گھرانوں سے ہیں یا ان کا تعلق تنگ نظراور فرسودہ سوچ رکھنے والے گھرانوں سے ہے وہ صرف نڈر ہو کر اپنا کام کر رہی ہیں اور اس شعبہ میں آگے بڑھنے کی خواہشمند ہیں ۔

جبراتی کا کہنا ہے کہ لوگ خواتین کے میڈیا کی فیلڈ سے منسلک ہونے کی اہمیت سے ناواقف ہیں جبکہ میرا ماننا ہے کہ ہرمعاشرے میں میڈیا تبدیلی میں فعال کردار ادا کر تا ہے اور میں اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہیں کہ میڈیا کی فیلڈ میں خواتین کی موجودگی معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی راہ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا اور پابندی ہٹائے جانے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ خواتین میونسپل کونسلر ز منتخب ہوئیں۔

مزید :

عرب دنیا -