20 سالہ نوجوان جو کبھی کالج نہیں گیا، ایک ایسی سادہ سی چیز ایجاد کرکے چند ماہ میں کروڑ پتی بن گیا کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی، نوجوانوں کیلئے سبق آموز کہانی

20 سالہ نوجوان جو کبھی کالج نہیں گیا، ایک ایسی سادہ سی چیز ایجاد کرکے چند ماہ ...
20 سالہ نوجوان جو کبھی کالج نہیں گیا، ایک ایسی سادہ سی چیز ایجاد کرکے چند ماہ میں کروڑ پتی بن گیا کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی، نوجوانوں کیلئے سبق آموز کہانی

  

لندن (نیوز ڈیسک) اعلیٰ تعلیم کا حصول اول تو ہر کسی کے لئے ممکن نہیں، اور اگر کوئی کسی بڑی یونیورسٹی سے مہنگی تعلیم حاصل کر بھی لے تو یہ بھی کامیابی کی ضمانت نہیں، لیکن برطانیہ میں ایک نوجوان نے بغیر کسی تعلیم کے ہی وہ کرشمہ کردکھایا کہ دنیا حیران رہ گئی۔

اخبار ”ڈیلی میل“ کے مطابق 20 سالہ جارڈن ڈیکن نے صرف 13 سال کی عمر میں پڑھائی چھوڑ دی اور اس کے بعد کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا، لیکن وہ نوجوانی میں ہی ایک کروڑ پاﺅنڈ (تقریباً ڈیڑھ ارب پاکستانی روپے) مالیت کی کمپنی کے مالک بن چکے ہیں، اور ان کا کاروبار حیران کن تیزی کے ساتھ ترقی کررہا ہے۔ جارڈن کی قسمت نے اس وقت پلٹا کھایا جب وہ اپنی ایک ایجاد کی وجہ سے بی بی سی کے پروگرام ”ڈریگنز ڈین“ میں 80 ہزار پاﺅنڈ کی سرمایہ کاری جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ 18 سال کی عمر میں یہ موقع جیتنے والے کم عمر ترین شخص تھے۔

مزید جانئے: قبر کھودنے والے میاں بیوی گرفتار، ایسا اقدام کیوں کیا اور پولیس کو قبر سے کیا ملا؟ ایسا انکشاف کہ جان کر ہی انسان گھبراجائے

جارڈن کی کامیابی کی وجہ وہ دلچسپ اور مفید ایجاد تھی جو انہوں نے اپنے دادا کی مدد کے جذبے سے کی تھی۔ جارڈن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے دادا کو پردے لٹکانے میں سخت مشکلات کا سامنا کرتے دیکھا تو کوئی ایسی چیز بنانے پر غور و فکر شروع کردیا کہ جو اشیاءکو دیواروں کے ساتھ باآسانی جوڑنے کے کام آسکے۔ انہوں نے ایک ایسا پلاسٹر بورڈ ایجاد کرلیا کہ جو اپنے مخصوص مادے اور ساخت کی وجہ سے باآسانی دیواروں کے ساتھ چپک جاتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی بھی چیز لٹکائی جاسکتی ہے۔ ان کی ایجاد کو مفید اور قابل عمل قرار دیتے ہوئے انہیں 80 ہزار پاﺅنڈ کی سرمایہ کاری کا حقدار قرار دیا گیا۔

جارڈن نے اپنے گھر کے ایک حصے میں ”گرپ اٹ فکسنگ“ کے نام سے پلاسٹر بورڈ کی تیاری شروع کی لیکن اب یہ کام ایک بڑی کمپنی کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ برطانیہ اور یورپ سمیت دنیا کے 32 مختلف ممالک کو وہ اپنی پراڈکٹ برآمد کرتے ہیں اور اب اسے امریکا میں بھی متعارف کروانے کے متعلق سوچ رہے ہیں۔ جارڈن کا کہنا ہے کہ ان کے لئے آج بھی سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ان کی کاوش ان کے دادا کے چہرے پر مسکراہٹ لاتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -