ہائی کورٹ عدالتی جائزہ کے لئے اورنج ٹرین منصوبے کے معاہدہ کی تفصیلات طلب

ہائی کورٹ عدالتی جائزہ کے لئے اورنج ٹرین منصوبے کے معاہدہ کی تفصیلات طلب
ہائی کورٹ عدالتی جائزہ کے لئے اورنج ٹرین منصوبے کے معاہدہ کی تفصیلات طلب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت سے اورنج ٹرین منصوبے کے معاہدے اور دیگر تفصیلات 7مارچ تک طلب کر لیں،جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے قرار دیا کہ عدالت اس منصوبے سے متعلق تمام معاہدوں اور دستاویزات کا جائزہ لے گی ۔درخواست گزار جوڈیشل ایکٹیوازم پینل کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ اورنج ٹرین منصوبہ آئین کے آرٹیکل 9، 10، 23 اور 24 کی خلاف ورزی ہے، منصوبے کیلئے لینڈ ایکوزیشن کی تمام کارروائی بھی آئین کی خلاف ورزی ہے، حکومت نے کسی بھی شہری کے اعتراضات سنے بغیر ہی ایوارڈ جاری کر دیا، چینی کمپنی کو منصوبے کا ٹھیکہ دیتے ہوئے پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کی گئی،پہلے معاہدے کے مطابق اس منصوبے کی لاگت ایک سو پنتالیس ارب تھی مگر پی سی ون ایک سو باسٹھ ارب جبکہ حکومت کی طرف سے اب اسکی لاگت ایک سو بیاسی بتائی جا رہی ہے،انہوں نے استدعا کی کہ اورنج ٹرین منصوبے کا مکمل ایوارڈ غیر آئینی قرار دیا جائے، لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی دفعہ 4، 5 اور 17 کو غیر آئینی قرار دیا جائے، منصوبے کے لئے بولی کا عمل اور قرضے کی منظوری بھی غیرقانونی قرار دی جائے، محکمہ ماحولیات اور آرکیالوجی کی منظوری کو ناجائز قرار دیا جائے، دو رکنی بنچ نے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت سے منصوبے کے معاہدے اور دیگر تفصیلات 7مارچ تک طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت تمام معاہدوں اور دستاویزات کا جائزہ لے گی۔

مزید :

لاہور -