عدالت میں پولیس افسر کی حمایت پر جسٹس سرفراز ڈوگر نے سرکاری وکیل کی سرزنش کردی

عدالت میں پولیس افسر کی حمایت پر جسٹس سرفراز ڈوگر نے سرکاری وکیل کی سرزنش ...
عدالت میں پولیس افسر کی حمایت پر جسٹس سرفراز ڈوگر نے سرکاری وکیل کی سرزنش کردی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے اشتہاری ملزم کی توہین عدالت کی درخواست میں ڈی پی او جھنگ کی حمایت کرنے پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رانا کامران کی سرزنش کر ڈالی، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری لاءافسروں کو عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔جسٹس محمد سرفراز ڈوگر نے تھانہ شورکوٹ میں سرکاری اراضی پر قبضے کے اشتہاری ملزم غلام رسول کی توہین عدالت کی درخواست پرسماعت کی، ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود ملزم غلام رسول کوسرکاری ارضے پر قبضے کے مقدمے میں شامل تفتیش نہیں کیا جا رہا ہے ، عدالتی حکم پر ڈی پی او جھنگ ہمایوں سندھو عدالت میں میں پیش ہوئے ، انہوں نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ غلام رسول خود ہی شامل تفتیش نہیں ہو رہا تھا جس پر اسے اشتہاری قرار دیا گیا ہے، ملزم غلام رسول سمیت 165افراد کے خلاف 2013ءمیں محکمہ اوقاف کے مینجر کی درخواست پر سرکاری اراضی کے قبضے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسر نے ملزم کو خود فون کر کے شامل تفتیش ہونے کا بھی کہا مگر ملزم ٹال مٹول سے کام لیتا رہا، ڈی پی او نے کہا کہ مقامی سیاستدان قبضہ گروپوں کی حمایت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ابھی تک صرف تین ملزم گرفتار ہوئے ہیں جبکہ باقی ملزموں کی گرفتاری ابھی باقی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ ان افراد کے خلاف نام بتائے جائیں جو قبضہ گروپوں کی حمایت کر رہے ہیں ، اس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رانا کامران نے ڈی پی او کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او کے ذمہ رپورٹ پیش کرانا تھا جو عدالت میں کردی گئی ہیں جس پر فاضل بنچ نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری وکلاءکو عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ، عدالت نے ڈی پی او جھنگ کو دوبارہ 4 مارچ کو طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس مقدمے کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے ۔

مزید :

لاہور -