ہائی کورٹ بار الیکشن 27فروری کو ہوں گے ، ایم رمضان چودھری اور رانا ضیاءعبدالرحمٰن آمنے سامنے

ہائی کورٹ بار الیکشن 27فروری کو ہوں گے ، ایم رمضان چودھری اور رانا ...
ہائی کورٹ بار الیکشن 27فروری کو ہوں گے ، ایم رمضان چودھری اور رانا ضیاءعبدالرحمٰن آمنے سامنے

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے 27فروری کو ہونے والے الیکشن کے سلسلے میں امیدواروں کی انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں ۔لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت کے لئے 2، نائب صدارت کے لئے 6، سیکرٹری کے لئے4اور فنانس سیکرٹری کے عہدہ کے لئے 3امیدوار میدان میں ہیں ۔صدارت کے لئے ایم رمضان چودھری اور رانا ضیاءعبدالرحمن آمنے سامنے ہیں ۔سیکرٹری کے لئے شرجیل عدنان شیخ مضبوط ترین امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں جن کا انس غازی سے کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے ۔سیکرٹری کی نشست کے لئے جواد اشرف رانا اور عظمیٰ رزاق خان بھی اپنی جیت کے لئے بھرپور مہم چلا رہے ہیں ۔نائب صدر کی نشست پر ایم آر اعوان ، چودھری محمد سلیم ،راشد لودھی ،سردار طاہر شہباز خان ،شیخ سخاوت علی اور میاں محمد وسیم کے درمیان مقابلہ ہوگا ۔فنانس سیکرٹری کی نشست کے لئے دیبا خان ،سید اسد بخاری اور محمد ذیشان عامر امیدوار ہیں ۔خیال کیا جارہا ہے کہ صدارتی امیدواروں کے ساتھ ساتھ سیکرٹری کے عہدہ پر الیکشن لڑنے والے امیدوار وںنے بار کی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی مہم چلائی ہے ۔سینئر ایڈووکیٹ محمد اکرم شیخ کے صاحبزادے شرجیل عدنان شیخ سیکرٹری کے عہدہ کے لئے پروفیشنل گروپ کے امیدوار ہیں جنہیں جماعت اسلامی ،مسلم لیگ (ن) کے علاوہ تحریک انصاف کے وکلاءکی حمایت بھی حاصل ہے ۔حافظ عبدالرحمن گروپ ،پیر کلیم احمد خورشید گروپ کے علاوہ شفقت محمود چوہان گرو پ بھی شرجیل عدنان شیخ کے بڑے حامی ہیں ۔محمد اکرم شیخ خود سپریم کورٹ بار کے صدر اور پاکستان بار کونسل کے رکن رہ چکے ہیں ۔وہ وکلاءکے ایک بڑے گروپ کے قائد بھی ہیں جو تمام شرجیل عدنان شیخ کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔علاوہ ازیں بار میںانتہائی اثر و رسوخ کے حامل ارائیں گروپ کی حمایت بھی شرجیل عدنان شیخ کو حاصل ہے ،ان کے مدمقابل انس غازی ہائی کورٹ کے سابق جج نذیر غازی کے صاحبزادے ہیں ،ان کے والد وکلاءسیاست میں بھرپور حصہ لیتے رہے ہیں ،انس غازی اس وقت برسر اقتدار عاصمہ جہانگیر کے انڈیپنڈنٹ گروپ کے امیدوار ہیں جنہیں مسلم لیگ (ن) کے ایک دھڑے کے علاوہ تحریک انصاف کے وکلاءکے ایک گروپ کی حمایت بھی حاصل ہے ،علاوہ ازیں انہیں تمام دھڑوں کی حمایت حاصل ہے جو صدارتی امیدوار ایم رمضان چودھری کی حمایت کررہے ہیں ۔ایم رمضان چودھری انڈیپنڈنٹ گروپ کے صدارتی امیدوار ہیں ،انتخابی مہم اور بار کے بڑے گروپوں کی حمایت کی بنا پر ایم رمضان چودھری اپنی جیت کے لئے پرامید نظر آرہے ہیں ۔وہ پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل کے وائس چیئر مین بھی رہ چکے ہیں ۔رمضان چودھری کو پی ٹی آئی کے ایک دھڑے ،مسلم لیگ لائرز فورم کے صدر نصیر بھٹہ اور پیپلز پارٹی کے سردار لطیف کھوسہ اور جہانگیر بدر کے گروپوں کی حمایت حاصل ہے ،علاوہ ازیں سپریم کورٹ بار کے صدر علی ظفر ،ہائی کورٹ بار کے موجود صدر پیر مسعود چشتی ،لاہور با رکے صدر ارشد جہانگیر جھوجہ ،پاکستان بار کونسل کے ارکان اعظم نذیر تارڑ ،محمد احسن بھون ،عابد ساقی اور حفیظ الرحمن بھی رمضان چودھری کی بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔پروفیشنل گروپ کے صدارتی امیدوار رانا ضیاءعبدالرحمن اس سے قبل لاہور بار کے صدر رہ چکے ہیں انہیں پاکستان تحریک انصاف کے حامد خان گروپ ،میاں اسرار الحق گروپ ،حافظ عبدالرحمن انصاری گروپ ،پیر کلیم احمد خورشید گروپ ،محمد اکرم شیخ گروپ ،رانا برادری ،ارائیں گروپ اورشفقت محمود چوہان گروپ کی بھرپور حمایات حاصل ہے ۔علاوہ ازیں انہیں مسلم لیگ (ن) اورپیپلز پارٹی کے دھڑوں کی حمایت بھی حاصل ہے ،اس بنا پر صدارتی نشست پر سخت مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے ۔27فروی کو بائیو میٹرک نظام کے تحت ہونے والے انتخابات میں 21ہزار 414رجسٹرڈ ووٹرز اپناحق رائے دہی استعمال کریں گے۔الیکشن بورڈ کے سربراہ شہزاد شوکت کا کہنا ہے کہ تمام ووٹ بائیو میٹرک نظام کے تحت ڈالے جائیں گے اور اس سلسلے میںانتخابی عمل سرانجام دینے کے لئے 5پولنگ سٹیشنز قائم کر کے 65بائیو میٹرک مشینیں نصب کی جائیں گی۔

مزید :

لاہور -