نیب نے ڈاکٹر عاصم کیس میں جو بھی ریکارڈ مانگا ضرور دیں گے،2018ء گیس لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا سال ہوگا:شاہد خاقان عباسی

نیب نے ڈاکٹر عاصم کیس میں جو بھی ریکارڈ مانگا ضرور دیں گے،2018ء گیس لوڈ شیڈنگ ...
نیب نے ڈاکٹر عاصم کیس میں جو بھی ریکارڈ مانگا ضرور دیں گے،2018ء گیس لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا سال ہوگا:شاہد خاقان عباسی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیرپٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب نے ڈاکٹر عاصم کیس میں جو بھی ریکارڈ مانگا انکو ضرور دیں گے ‘2018ء گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا سال ہوگا‘ایل پی جی کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے سمری مشترکہ مفادات کونسل کو بھجواد ی ہے جس کی منظوری کے بعد ایل پی جی کی قیمتیں حکومت مقرر کرے گی،قطر سے ایل این جی کا معاہدہ دنیا کا بہترین معاہدہ ہے اور اس سے بہترکوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا‘ ایران پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے ۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گیس پائپ لائن کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور 150ارب روپے کے منصوبے پر جلد ہی کام شروع کر دیا جائے گا جبکہ ڈھائی سو ارب روپے کے ایک اور منصوبے پر کام کے لئے پیپرورک ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے سمری مشترکہ مفادات کونسل کو بھجواد ی ہے جس کی منظوری کے بعد ایل پی جی کی قیمتیں حکومت مقرر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فرق عوام پر منتقل کریں گے، دنیا میں سب سے زیادہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان نے کم کی ہیں۔جب تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے جاتی رہیں گی،حکومت ریلیف دیتی رہے گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ 2018ء میں گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی جس سے انڈسٹری چلے گی اور قومی معیشت کا پہیہ تیز چلے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قطر سے ایل این جی کا معاہدہ دنیا کا بہترین معاہدہ ہے اور اس سے بہترکوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔اس معاہدے کے نتیجے میں آنے والی گیس مقامی گیس سے سستی ملے گی۔قبل ازیں پانچ مرتبہ ایل این جی درآمدکرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں گیس کے 70نئے ذخائر دریافت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ چار ارب کیوبک فٹ گیس کے مقابلے میں آٹھ ارب کیوبک فٹ مانگ ہے اور طلب و رسد کے فرق کو دور کرنے کے لئے مارچ 2018ء تک1800 ملین مکعب کیوبک فٹ درآمدی ایل این جی قومی نظام میں شامل کی جائے گی جو مجموعی طلب کا 75فیصد ہوگی اور اس سے گیس کے بحران سے نجات ملے گی۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -