چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔!

چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔!
 چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔!

  


وطنِ عزیز کے حالات اور خصوصاً اِس ’’شہر زِندہ دِلاں لاہور‘‘ کے حالات، جس پر پے در پے نازل ہونے والی آفاتِ ناگہانی کی تفصیل میں جا کر قارئین کو افسردہ و ملول نہیں کرنا چاہتا :

ہوتے ہیں مرے شہر میں ہر روز دھماکے

ویسے میرا شہر لاہور ہی کیا؟کونسا شہر ہے جو بچا ہُوا ہے؟

’’افسردہ دل افسردہ کُند انجمنے را‘‘۔۔۔ مگر

لوٹ جاتی ہے اِدھر کو بھی نظر کیا کیجیے!

نئے سال کے آغاز ہی سے قادرِ مطلق اور قاض�ئ قصا و قدر نے ادباء و شعرأ اور دانشوروں کو اپنی زَد میں لیا ہُوا ہے۔’’تُو چل مَیں آیا‘‘ کے مصداق رفتگاں کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور ہم بے شک اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں۔ جنوری کے آغاز سے اب فروری کے اواخر تک سات آٹھ نابغ�ۂ روزگار ادبی شخصیات ہم سے ہمیشہ کے لئے جُدا ہو گئیں۔ بقول جمال احسانی:

چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار

مَیں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے

واقعاتی و زمانی ترتیب کے مطابق محترمہ فردوس حیدر، محترمہ بانو قدسیہ، محترمہ حمیدہ کھوڑو، ڈاکٹر ناہید شاہد، سید علی رضا کاظمی اور حسین شاد یکے بعد دیگرے اِس جہانِ فانی کو چھوڑ کر عالمِ جاودانی کو سدھارے!۔۔۔فردوس حیدر اپنے انداز کی افسانہ نگار، ناول نویس اور سفر نامہ نگار تھیں۔ شروع میں وہ ڈائجسٹوں میں لکھتی تھیں۔ وہاں سے ممتاز افسانہ نگار مرحوم امراؤ طارق ’’]بدن کا طواف‘‘فیم[ خالص ادب کی طرف کھینچ لائے اور پھر اُن کے افسانے محبیّ نسیم درانی کے معیاری موقر سہ ماہی جریدے’’سیپ‘‘ کراچی اور ’’ادب لطیف‘‘ لاہور میں بھی چھپے! حق مغفرت کرے آخری دَور میں فردوس حیدر بہت سے لکھنے والوں کی طرح تنہائی کا شکار تھیں!

5فروری2017ء کو88برس کی عمر میں چند روز علیل رہ کر محترمہ بانو قدسیہ بھی مُلکِ عدم کُوچ کر گئیں۔ وہ ایک لیجنڈری افسانہ نگار، ناول نویس، ڈراما نگار، اہلِ قلم تھیں۔ مشہور زمانہ ’’بابا جی‘‘ اشفاق احمد کی طویل مُدت ہمسفر رہیں۔ زندگی بھر کبھی قدم بڑھا کے شوہر کے آگے آگے نہ چلیں۔ وہ ایک ’’پتی وَرتا‘‘ بیوی کی طرح اشفاق احمد کے پیچھے پیچھے چلیں۔ اگرچہ لکھنے لکھانے میں ہمدوش تھیں، یک جان، دو قالب تھیں۔ مر کے بھی ساتھ رہیں اشفاق احمد کے پہلو میں نہیں، قدموں میں جگہ ملی۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں مُدتِ مدید سے ’’داستاں سرائے‘‘ کو آباد کئے ہوئے تھیں، 121-C ماڈل ٹاؤن کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر جی بلاک ماڈل ٹاؤن کے قدیمی قبرستان میں آسودۂ خاک ہو گئیں۔ ماڈل ٹاؤن کا قبرستان اگرچہ بھر چکا ہے اور یہ صرف ماڈل ٹاؤن کی کوٹھیوں کے مالکان کے لئے مخصوص ہے، باہر والوں کے لئے جگہ بالکل ختم ہو چکی ہے، یہ گورکنوں کا کمال ہے کہ وہ کسی کے لئے جگہ تلاش کر دیں، چنانچہ یہ محترمہ بانو قدسیہ کی خوش قسمتی ہی ہے کہ اُن کے حسب منشا یعنی خواہش کے مطابق اُن کی قبر کے لئے اشفاق احمد کے قدموں میں جگہ بن گئی۔ یوں وہ مر کر بھی شوہر کے پہلو میں نہیں قدموں ہی میں آسودۂ خاک ہیں۔ مرحومہ پر الگ سے تفصیلی مضمون مجھ پر قرض ہے، سر دست یہی کہنا ہے کہ ’’راجہ گدھ‘‘ جیسا ناول اُن کے ادبی شجر نامے میں اول نمبر پرہے!

سندھ کی حمیدہ کھوڑو،(سابق وزیر تعلیم) بھی چل بسیں۔ صدر جنرل ایوب خاں کے عہد میں ’ایبڈو‘ ہونے والے پاکستان کے سابق وزیر دفاع، ممتاز سیاست دان محمد ایوب کھوڑو کی دانشور صاحبزادی حمیدہ کھوڑو سندھ اور سندھیوں کے لئے ہمہ جہت مصروفِ عمل رہیں۔ 1976ء میں حکیم محمد سعید شہید]ہمدرد[ کی طرف سے منعقدہ تین روزہ مولانا محمد علی جوہر سیمینار اور آخری روز مشاعرے میں اُن سے میری خصوصی ملاقاتیں رہیں میرا اوّلین مجموعہ غزل’’ڈوبتے چاند کا منظر‘‘ چھپ چکا تھا۔ مَیں نے وہ حمیدہ کھوڑو صاحبہ کو اپنا ایک مشہورِ زمانہ شعر لکھ کر پیش کیا:

خدا کرے کہ ترے حُسن کو زوال نہ ہو

مَیں چاہتا ہوں، تجھے یونہی عمر بھر دیکھوں

ساتھ ہی ایک کٹیلا جملہ نہایت شائستگی اور سادہ دلی سے ادا کیا کہ آپ کے بارے میں نااندیشوں کا الزام ہے کہ بعض ’’پنجابی شاونسٹ‘‘ کی طرح آپ’’سندھی شاونسٹ‘‘ ہیں۔ وہ زیر لب مسکرائیں، لوگ جو جی چاہے کہیں مَیں سندھ کے مظلوم و مقہور و بے نوا لوگوں کے لئے آواز بلند کرتی ہوں، کرتی رہوں گی‘‘۔ مَیں نے کہا: یہ تو بہت اچھی بات ہے مگرمنہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والی وڈیرا کلچر میں پروان چڑھنے والی وزیر با تدبیر کی صاحبزادی کو عام سندھی کا کیا غم؟ کہیں الیکشن لڑنے کا ارادہ ہے کیا؟‘‘ وہ خاموش رہیں تو مَیں نے کہا ’’وقت کم ہے شام کا آخری سیشن مشاعرہ ہے، آپ ہمیں ضرور سننے آیئے! اور ایک فرمائش پوری کر دیجئے، وہ یہ کہ مجھے آپ کے والد گرامی ممتاز سیاست دان محمد ایوب، کھوڑو صاحب سے ملنے کا بڑا اشتیاق ہے اُنھیں کسی نہ کسی طرح ضرور ہمراہ لایئے!‘‘۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی ، جب حمیدہ کھوڑہ رات کے مشاعرے میں والد صاحب کو ساتھ لائیں اور بڑے اچھے تعارف کے ساتھ مِلوایا۔۔۔ اُن کے ساتھ دس بارہ برس کی اُن کی اکلوتی بیٹی بھی تھی، اپنے شوہر سے وہ ملاقات نہ کرا سکیں، وہ کراچی میں نہ تھے پھر جب وہ صوبائی وزیر تعلیم ہو گئیں تو جب کبھی اسلام آباد آتیں رسمی سی ملاقات ہو جاتی تھی، یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔ ان پر بھی تفصیل سے پھر لکھوں گا۔

پنجابی، اُردو کے شاعر، ادیب، نقاد، پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج شعب�ۂ پنجابی کے اُستاد ڈاکٹر ناہید شاہد17فروری2017ء کو حرکتِ قلب بند ہو جانے کے سبب انتقال کر گئے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں پروڈیوسر بھی رہے، پھر پی ایچ ڈی کر کے اُستاد بننا پسند کیا اور مَرتے دم تک کاغذ قلم سے رشتہ استوار رہا۔ اُن کی خواہش بعد از مرگ بھی یہ تھی:

کاغذی قبروں میں دفنا دو مجھے

مجھ میں لفظوں کا چُھپا شہکار ہے

کس قدر زخموں کا مجھ پر بار ہے

سانس لینا بھی مجھے دشوار ہے

*****

ظلم کا اقرار کچھ یوں مجھ سے کروایا گیا

کاٹ کر میری زباں کاغذ پہ لکھوایا گیا

مر گیا پھر بھی نہ پوری ہو سکی میری سزا

جسم میرا کانچ کے ٹکڑوں میں دفنایا گیا

18فروری2017ء کو ڈاکٹر ناہید شاہد کی تدفین ہو رہی تھی کہ سید علی رضا کاظمی کی سُناؤنی آ گئی۔ انار کلی بانو بازار کے کاروباری حلقوں میں ’’کاظمی برادران‘‘ بہت مشہور تھے،ان میں سے ایک علی رضا کاظمی ادب کی طرف آ گئے مشاعرے کرتے کراتے رہے۔ وحید الحسن ہاشمی کی شاگردی کے سبب کئی کتابوں کے مصنف بن گئے ’’ماں‘‘ پر پوری ایک کتاب مرثیے کی صُورت میں مطبوعہ یادگار ہے۔ اور بھی کتابیں ہیں۔ حمد، نعت، سلام،مرثیہ زیادہ لکھتے تھے۔ 19 فروری 2017ء کو اردو پنجابی کے ممتاز شاعر حسین شاد بھی 80 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ انہوں نے ویڈیو کے لئے بہت سے یادگار فیچر اور ڈرامے لکھے۔ ان کی سات مطبوعہ تصانیف ہیں۔ تدفین 20 فروری کو ہوئی، اسی ماہ میں اسی سال میں ایبٹ آباد کے خوش فکر شاعر صوفی عبدالرشید بھی رخصت ہوئے اور لاہور کے ایک بہادر پرنٹر، پبلشر ہفت روزہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کے بانی مبانی طیب منصور بھی اللہ کو پیارے ہوئے۔ رہے نام اللہ کا ........ بے شک!

چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار

مزید : کالم


loading...