بائیں بازو کی نئی سیاست

بائیں بازو کی نئی سیاست
 بائیں بازو کی نئی سیاست

  


جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اِن دنوں جاگیرداروں، سرمایہ داروں کو للکار رہے ہیں اور ایسے پاکستان کی بات کر رہے ہیں، جس میں مزدور خوشحال ہوں، کسان مضبوط ہوں اور کچلے ہوئے طبقات کو بنیادی انسانی حقوق ملیں۔ دوسری جانب پاکستان میں موجود بائیں بازو کی جماعتیں سراج الحق کے اِن بیانات پر مسکرارہی ہیں۔لیفٹ کی لیڈر شپ کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے نظریات اور منشور میں بڑی تبدیلی کر لی ہے۔خیر! اِن سب معاملات کو جماعت اسلامی جانے یا پھر بائیں بازو کی جماعتیں، ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ لیفٹ کی تنظیمیں عرصہ دراز سے ایک ’’مردہ گھوڑے‘‘ کی حالت میں ہیں، مگر اب اِس گھوڑے میں زندگی کی رمق محسوس ہو رہی ہے۔ پاکستان سوشلسٹ پارٹی، پاکستان نیشنل پارٹی، عوامی پارٹی، مزدور کسان پارٹی اور لیبر پارٹی سمیت تقریباً12جماعتوں نے ’’عوامی ورکرز پارٹی‘‘ کے نام سے ایک بڑا پلیٹ فارم بنا لیا ہے اور سب پارٹیوں کو اِس میں ’’ضم‘‘ کر لیا ہے۔ عوامی ورکرز پارٹی کے صدر فانونس گجر ہیں، جن کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، عابدہ چودھری نائب صدر ہیں جوپجاب سے ہیں، پارٹی کے جنرل سیکرٹری اختر حسین ہیں جو کراچی سے ہیں اور فاروق طارق عوامی ورکرز پارٹی کے ترجمان ہیں۔ زاہد پرویز معروف قانون دان ہیں۔ پچھلے40سال سے لیفٹ کی تحریک سے وابستہ ہیں اور عوامی ورکرز پارٹی کے سینئر ترین ارکان میں ان کا شمار ہوتا ہے، ہمارے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے زاہد پرویز کا کہنا تھا کہ ہمارے خطے میں بائیں بازو کی تحریکوں اور تنظیموں کے ساتھ عجب ہاتھ ہوئے ہیں۔ تب بایاں بازو زوروں پر تھا جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی بنائی، لیفٹ کا نعرہ لگایا، یوں بائیں بازو کا ایک بڑا حصہ ذوالفقار علی بھٹو کی ’’نعرے بازی‘‘ کا شکار ہو کر پی پی پی میں چلا گیا، جن میں نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ بھی شامل تھا، بائیں بازو کے اِن لیڈروں کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو نے وہی کیا جو ایک سیاست دان مخلص کارکنوں کے ساتھ کرتا ہے، بائیں بازو کے ان لیڈروں کو جب معلوم ہوا کہ وہ جو کچھ سوچ کے ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی میں شامل ہوئے تھے، وہاں ایسا کچھ نہیں ہے تو بہت بددل ہوئے، کچھ کو پی پی پی نے رسوا کیا اور کچھ سیاست سے ہی کنارہ کش ہو کر گھروں میں بیٹھ گئے۔

سانحہ بنگلہ دیش نے بھی لیفٹ کی سیاست کو بہت کمزور کیا، بائیں بازو کی کمر توڑ کر رکھ دی، ساری بنگالی لیڈر شپ ہم سے علیحدہ ہو گئی، یوں لیفٹ کی تحریکیں دم توڑتی چلی گئیں، شاہی قلعوں سے لے کر جیلوں تک پی پی پی کے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ لیفٹ کے لیڈروں کو بھی دھکیل دیا گیا، ہر طرف خوف نے پنجے گاڑ دیئے اور پھر طیارہ اغوا کیس نے بائیں بازو کی نوجوان قیادت کو مجبور کر دیا کہ وہ مُلک چھوڑ کر بھاگ جائے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے بایاں بازو مزید بکھر کر رہ گیا، ورکر مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں غرق ہوتے چلے گئے، اس پر طرہ یہ کہ ضیاء الحق دور میں طلبہ سیاست اور مزدور یونینوں پر لگنے والی پابندیوں نے لیفٹ کی سیاست میں نیا خون شامل نہ ہونے دیا۔لیفٹ کی سیاست کی جو تھوڑی بہت بات کرنے والے بچے تھے وہ’’این جی او‘‘ زدہ ہو گئے، دولت کی چکا چوند نے ان کے نظریات پر پانی پھیر دیا،یوں مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور پسے ہوئے طبقات کی بات کرنے والا کوئی باقی نہ بچا؂ عابد حسن منٹو جیسے چند سر پھرے ہی باقی ہیں،جنہوں نے ہر طرح کے کمپرومائز کو دھتکار کر بائیں بازو کا چراغ جلائے رکھا، ورنہ کب کا بجھ گیا ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں عابدہ چودھری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جن کچلے طبقات کی ہم نمائندگی کر رہے ہیں، افسوس وہ خود اپنی تحریک سے نابلد ہیں، قوم کو اسٹیبلشمنٹ نت نئی گولی دیتی ہے اور انہیں گولیوں کے نشے پر لگا لیتی ہے، کبھی عمران خان چار سیٹوں کی بحالی کے لئے اسلام آباد میں کئی روزہ میلہ لگانے چڑھ دوڑتا ہے تو کبھی’’کرپشن لیگ‘‘ کے ’’لیکیج‘‘ کی کہانی میں ساری قوم اُلجھ کر رہ جاتی ہے۔ قوم کے اصل مسائل غربت، مہنگائی، صحت، تعلیم، انسانی آزادی، شخصی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق ہیں، جن کی طرف مقتدر قوتیں کسی کو دیکھنے ہی نہیں دیتیں۔ مزدور مر رہا ہے، نئی انڈسٹری لگائی نہیں جا رہی ہے، کسان کی حالت روز بروز بد سے بدتر ہوئے جا رہی ہے، طالب علم اور ان کے والدین رسوا ہوئے بیٹھے ہیں، نجی تعلیمی اداروں نے لوٹ کھسوٹ کا خوفناک بازار گرم کر رکھا ہے، کوئی انہیں پوچھنے والا یا روکنے والا نہیں ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی حالتِ زار پر ترس آتا ہے۔

سرکاری، نیم سرکاری اداروں اور انڈسٹریل ایریاز میں ’’سرکاری ٹاؤٹز‘‘ اور فیکٹری مالکان کے غنڈے یونین سازی میں مصروف ہیں، اصل مزدور اور نچلے طبقے کو سیاست سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دور کر دیا گیا ہے اور اگر کہیں کوئی حق اور سچ کی بات کرنے والا ہے تو اُسے میڈیا کوریج دینے کو تیار ہی نہیں ہے۔عابدہ چودھری نے یہ انکشاف کر کے ہمیں بے حد حیران کیا کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل مُلک بھر کے مزدوروں، کسانوں اور طلبہ کا ’’عوامی ورکرز پارٹی‘‘ کے پلیٹ فارم سے پشاور تا کراچی ایک بہت بڑا ٹرین مارچ کیا، مگر میڈیا نے اُن کے اتنے بڑے ’’ایونٹ‘‘ کی ایک خبر تک نشر نہ کی، ان کا یہ کہنا بھی بجا لگا کہ جن مزدوروں، کسانوں اور طلبہ کے لئے عوامی ورکرز پارٹی متحرک ہے، وہ سب مزدور کسان خود اپنے ’’کاز‘‘ کے ساتھ مخلص نہیں، کوئی اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لئے گھر سے نہیں نکلتا، کسی بھی سطح پر یہ شعور ڈویلپ نہیں ہو رہا کہ جاگیرداروں، سرمایہ داروں، تاجروں اور ٹھیکیداروں سے محروم طبقات کی جان چھڑوانی ہے اور سب کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لئے سرگرم ہونا ہے۔ عابدہ چودھری کا یہ گلہ بالکل بجا ہے کہ پاکستان کا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا بڑے بڑے سیاست دانوں سے لے کر ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو تو بھرپور کوریج دیتا ہے، مگر بائیں بازو کی سیاست یا سیاست دانوں کو لفٹ نہیں کراتا۔ان کا یہ کہنا بھی بالکل بجا ہے کہ میڈیا خبر کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے، مگر افسوس کہ ہمارے ہاں میڈیا کو خبر کی ضرورت نہیں، بلکہ چند بڑی شخصیات کے گرد کیمرے گھما کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ میڈیا نے پورے مُلک کو ’’کوریج‘‘ دے دی۔ قارئین کرام! عابدہ چودھری اور زاہد پرویز کے گلے شکوے اپنی جگہ، مگر ہم سمجھتے ہیں کہ لیفٹ کی سیاست کے حوالے سے لکھے جانے والے ہمارے اِس کالم میں ’’عوامی ورکرز پارٹی‘‘ کے ساتھ ساتھ چند دیگر تنظیموں اور شخصیات کا ذکر نہ کرنا بھی ناانصافی ہو گی، انجمن ترقی پسند مصنفین ایسی ادبی و سیاسی تنظیم ہے جو ہر دور میں بائیں بازو کی سیاست و ادب میں نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی مرکزی تنظیم کے ساتھ ساتھ صوبائی اور مختلف شہروں کی سطح پر تنظیمیں ہر ہفتے اپنے اجلاس منعقد کرواتی ہیں، یوں ادب و سیاست کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔ لاہور میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا اجلاس ہر بدھ کو پاک ٹی ہاؤس میں منعقد ہوتا ہے اور12مارچ کو اسی انجمن کے پرچم تلے جی سی یونیورسٹی میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہونے جا رہی ہے۔ پروفیسر اسلم طارق، ڈاکٹر عالم خان، ڈاکٹر سعادت سعید،عابد حسین عابد، ڈاکٹر طاہر شبیر، ریاض احمد، مقصود خالق، عبدالوحید، حسنین جمیل، افتخار بیگ اور حسین شمس انجمن ترقی پسند مصنفین کو اپنے خون سے سینچتے ہیں اور ادب و سیاست کے نئے شگوفے کھلاتے ہیں۔ مشتاق چودھری نے پرانی’’این ایس ایف‘‘ میں نئی روح پھونکی ہے۔

مزید : کالم


loading...