ماں بولی کاعالمی دن

ماں بولی کاعالمی دن
 ماں بولی کاعالمی دن

  


مادری زبان کے عالمی دن کی اہمیت پاکستان کے لئے اس لئے زیادہ ہونی چاہئے، کیونکہ 1952ء میں 21 فروری کے ہی روز بنگالی زبان کی تحریک کے دوران ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علم اس احتجاج کے دوران پولیس کی گولیوں سے ہلاک ہوئے۔ 1988ء میں کینیڈا میں رہنے والے ایک بنگالی رفیق الاسلام نے اس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو خط لکھ کر استدعا کی کہ اقوام متحدہ کو دنیا کی زبانوں کو بچانے کے لئے اپنا کر دار ادا کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لئے21فروری کے دن کو ہی (ڈھاکہ یونیورسٹی میں طالب علموں کی ہلاکت کے باعث) مادری زبانوں کا دن قرار دینا چاہئے۔ اقوام متحدہ نے اس تجویز کو منظور کرتے ہوئے 21 فروری کو ہی مادری زبان کا عالمی دن قرار دے دیا۔ 21فروری 1952ء کو ہمارے اس وقت کے حکمران طبقات کو یہ سبق حاصل کرلینا چاہیے تھا کہ مادری زبانوں کو قومی زبان قرار دینا کسی بھی صورت میں قومی سلامتی کے منافی نہیں ہوتا، اگر ایسا ہوتا تو آج کینیڈا، روس، بلجیئم، نیوزی لینڈ، ایران اور بھارت جیسے ملکوں کی قومی سلامتی کب کی پارہ پارہ ہوچکی ہوتی۔ بلاشبہ 1956ء کے آئین میں اُردو کے ساتھ ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا، مگر 21 فروری 1952ء کوڈھاکہ کی زمین پر گرائے گئے خون کے دھبے مٹائے نہ مٹ سکے اور اس کے ہمیں بہت سنگین نتائج بھی بھگتنے پڑے۔ زبان کے مسئلے سے جنم لینے والے سانحہ کے باوجود آج بھی مادری زبانوں کے ساتھ ہمارا سلوک کسی بھی طور تسلی بخش نہیں ہے۔مئی 2011ء میں قومی اسمبلی میں ایک نجی بل پیش کیا گیا، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ ہندکو، سرائیکی، سندھی، شینا، پشتو، پنجابی، بروہی، بلتی اور بلوچی کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کے لئے آئین کے آرٹیکل دوسواکیاون میں ترمیم کی جائے، مگر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں اس بل کو مسترد کر دیا گیا۔ اسی طرح فروری 2014ء میں ایک مرتبہ پھر مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کا بل پیش کیا گیا ،مگر اسے بھی قائمہ کمیٹی نے مسترد کر دیا۔ 2013ئکے انتخابی منشور میں مسلم لیگ (ن) نے وعدہ کیا تھا کہ علاقائی زبانوں کی ترقی کے لئے نیشنل لینگوئج کمیشن قائم کیا جائے گا۔ اب حکومت کی میعاد ختم ہونے میں ایک سال اور چند ماہ کا عرصہ ہی رہ گیا ہے، مگر تاحال اس بارے میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آرہی۔

پاکستانی کے طور پر یہ بات قابل فخر ہونی چا ہئے کہ پاکستان میں ایسی ایسی زبانیں ہیں، جن میں صدیوں کی دانش اور ہزاروں سال کے انسانی تجر بات موجود ہیں۔ ماہرین لسانیات کے مطابق اس وقت پا کستان میں 72 زبانیں اور بولیاں موجود ہیں۔ پنجابی زبان میں 22، سندھی زبان میں13 بولیاں موجود ہیں۔ پشتو زبان کی بھی بہت سی بولیاں ہیں، مگر انہیں دوبڑے گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک شمالی یا یوسف زئی بولی اور دوسری جنوبی یا خٹک بولی، جسے قندھاری بھی کہا جا تا ہے، جبکہ بلوچی زبان میں بھی بولیوں کے دوبڑے گروپ ہیں۔ ایک مندوانی یا شمالی قبائل کی بولیاں اور دوسری مزاری یا جنوبی قبائل کی بو لیاں ہیں۔ اسی طرح شینازبان میں گلگتی، پانالی، استوری، گوریزی، چلاسی اور کوہستاتی بولیاں موجود ہیں۔ اتنی زیادہ زبانیں اور بولیاں پاکستان کا بہت بڑا تہذیبی اثاثہ ہیں، جن کی نہ صرف حفاظت ہونی چاہیے، بلکہ ان کو ان کا جائز مقام بھی ملنا چاہیے۔ بھارتی آئین کے آٹھویں شیڈول میں 22 زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ ان 22 میں سے کئی زبانیں تو ایسی ہیں جن کو بولنے اور سمجھے والوں کی تعداد بہت کم ہے، مگر ان زبانوں میں چونکہ سینکڑوں سال کی انسانی دانش اور تجربات ہیں، اس لئے ان زبانوں کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ سندھی، منی پوری، ڈوگری، کونکی جیسی زبانیں اس کی اہم مثالیں ہیں۔ آج دنیا بھر میں زبان اور ماہرین لسانیات کی اکثریت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ کسی بھی انسانی دماغ کے لئے ایسے علوم کو اس زبان میں سمجھنا زیادہ آسان ہوتا ہے، جس زبان میں اس انسان کا دماغ سوچتاہے یا خواب دیکھتا ہے، بلکہ علم کے کسی بھی شعبے میں، چاہے وہ سائنسی علوم ہوں یا سماجی، ان میں زیادہ بہتر تخلیق بھی ایسی ہی زبان کے ذریعے کی جاسکتی ہے جس زبان میں تخلیق کار سوچتا ہے۔

آج پاکستان میں کتنے فیصد آبادی ایسی ہے جو انگریزی میں سوچتی ہے اور کتنے فیصد آبادی ایسی ہے جو اُردو یا اپنی علاقائی زبانوں میں سوچتی ہے؟ یقیناً پاکستان میں اشرافیہ یا اس کے مرہون منت طفیلی طبقات کو نکال کر پاکستان کی واضح اکثریت اپنی علاقائی زبانوں میں ہی سوچتی ہے۔ اس نکتے پر اتفاق کے بعد اب ہم ماہرین لسانیات کے اس نکتے کی جانب رجوع کرتے ہیں کہ کسی بھی زبان کی ترقی کے لئے کئی بنیادی شرائط ہوتی ہیں، کسی بھی زبان کی ترقی کے لئے سب سے بڑی شرط یہی ہوتی ہے کہ یہ زبان معاشی ترقی میں رکاوٹ نہیں، بلکہ ایک معاون کا ساکردار ادا کرے۔کیا پاکستان میں کوئی بھی اہم علاقائی زبان معا شی ترقی کی ضمانت فراہم کرسکتی ہے؟ یقیناًنہیں،یہاں تو اُردو جیسی زبان بھی معاشی ترقی کی ضمانت دینے سے قاصر ہے۔ دراصل پاکستان میں زبان کا مسئلہ طبقاتی اور ایک حد تک تہذیبی بھی ہے۔ برطانوی سامراجی مفادات کے لئے تخلیق کی گئی ہماری بیوروکریسی کا ڈھانچہ آج بھی ایسا ہی ہے کہ یہ کسی بھی طورپر اپنے آپ کو ’’عامیوں‘‘کے ساتھ ملانے یا ان سے کسی بھی قسم کا تہذیبی یا ثقافتی تعلق قائم نہیں رکھنا چاہتی۔ مادری یا علاقائی زبانیں تو بہت دور کی بات ہے۔ بیوروکریسی تو اُردو کو بھی ہضم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ بیورو کریسی جانتی ہے کہ انگریزی زبان ہی ان کی حکمرانی کا سب سے اہم ستون ہے، اگر یہ ستون ہی گرگیا اور ان کو عوام کی زبان اختیار کرنا پڑگئی تو اس دن ان کا آدھا اقتدار ختم ہوجائے گا۔کئی تجزیہ نگاروں کے مطابق علاقائی زبانوں میںیہ صلاحیت نہیں کہ ان کے اندرسائنسی اور سماجی علوم کی اہم اصطلاحات کا ترجمہ ہوسکے۔ اصل مسئلہ ہماری علاقائی زبانوں کی صلاحیت کا نہیں، بلکہ صرف ہمارے حکمران طبقات کی نیت کا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انگریزی بھی تو شروع میں Anglo-Saxons قبیلوں کی ہی زبان تھی۔ چھ سوسال پہلے اس زبان کو بھی’’عامیوں‘‘ کی زبان تصور کیا جاتا تھا، مگر آج اس زبان کو عالمگیر حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔

پاکستان چونکہ ایک وفاق ہے اور ہر وفاق کی طرح یہاں پر بھی کئی قومیتیں، نسلی اور لسانی گروپ بستے ہیں۔ ایسے میں زبانوں کے مسائل میں بہت زیادہ پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔ایک قومیت کسی دوسری قومیت کی زبان قبول نہیں کرتی۔ اس حوالے سے بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں پر آزادی کے ساتھ ہی ہندی کے نفاذ کے خلاف کئی علاقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ خاص طور پر جنوبی بھارت میں خود کانگرس پارٹی کے کئی پرانے راہنماؤں نے بھی ہندی زبان کے نفاذ کے خلاف بغاوت کردی۔ کئی علاقوں میں اپنی مادری زبانوں کو جائز حقوق دلانے کے لئے مسلح تحریکیں تک برپا کی گئیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زبانوں کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کوحل کرنے کے لئے کئی اقدامات اٹھائے گئے۔1968ء میں بھارت میں۔۔۔three-language formula۔۔۔ اپنایا گیا، جس کے مطابق سکولوں اور تعلیمی اداروں میں انگریزی اور ہندی کے ساتھ ساتھ ریاست کی مقامی یا علاقائی زبان کی بھی تعلیم دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج یوپی، بہار، راجستھان اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں، جہاں انگریزی کے ساتھ ساتھ ہندی کو بھی عدالتی زبان کی حیثیت حاصل ہے تو وہیں تامل ناڈو جیسی غیر ہندی ریاست میں ہندی کی بجائے تامل ہی عدالتی زبان ہے۔ زبانوں کے اس تنوع کو تسلیم کرنے سے بھارت کمزور نہیں، بلکہ مضبوط ہورہا ہے۔ میں نے خود بھارتی پنجاب میں مشاہدہ کیا ہے کہ بڑے سے بڑا بیوروکریٹ، افسر، پروفیسر اور دانشور بڑے فخر کے ساتھ نہ صرف خود پنجابی بولتے ہیں، بلکہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی پنجابی میں بات کرنے میں کسی قسم کا عار محسوس نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں دیگر مادری زبانوں کی طرح اگر کسی کا بچہ پنجابی کے دولفظ بول دے تو اس کو ڈانٹ پلادی جاتی ہے کہ اجڈ، جاہل اور گنوار لوگوں کی زبان میں بات مت کرو۔ یہی ہے وہ سماجی رویہ جس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم


loading...