منظم افواہ سازی حوصلے پست کر دیتی ہے

منظم افواہ سازی حوصلے پست کر دیتی ہے

لاہور کے علاقے ڈیفنس کے تجارتی مرکز زیڈ بلاک میں جمعرات کو دھماکے سے8افراد شہید اور35زخمی ہو گئے، یہ دھماکہ ایک زیر تعمیر پلازے میں ہوا، زور دار دھماکے سے قریبی عمارتوں اور گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے سے17گاڑیاں اور 20موٹر سائیکلیں تباہ ہو گئیں۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکہ17کلو گرام بارودی مواد کا ہو سکتا ہے، ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ یہ سلنڈر دھماکہ ہے۔ فرانزک رپورٹ کے بعد دھماکے کی نوعیت کا صحیح تعین ہو گا، پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا زخمیوں کو بارودی مواد کے زخم نہیں آئے، گویا یہ بارود کا دھماکہ نہیں ہے، ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ دھماکہ سلنڈر کی گیس لیکیج سے ہوا یا ٹائم ڈیوائس سے پنجاب پولیس کے مطابق یہ اتفاقیہ حادثہ ہے۔ڈیفنس جیسی جدید آبادی میں جہاں حفاظتی انتظامات بھی نسبتاً بہتر ہیں اور لوگ گمان رکھتے ہیں یہ آبادی غریب غربا کے علاقوں کے مقابلے میں محفوظ ہے اِس طرح کے دھماکے سے بہت زیادہ افراتفری پھیل گئی۔ اگرچہ یہ دہشت گردی کی واردات نہیں تھی، لیکن افواہوں کے نتیجے میں اور لاہور سمیت مُلک کے مختلف حصوں میں ہونے والی دہشت گردی کی واداتوں کی وجہ سے لوگوں نے اِس کا سلسلہ بھی تخیل کی پرواز کے زور پر دھماکوں کی جاری وارداتوں سے ملا دیا، پھر گلبرگ کے ایک ریسٹورنٹ میں دھماکے کی افواہ اُڑا دی گئی۔ اگرچہ یہ افواہ تو درست ثابت نہ ہوئی لیکن اِس نے منفی اثرات ضرور مرتب کر دیئے اور اِس ریستوران کی شہر بھر میں دوسری برانچیں بھی بند کر دی گئیں۔ یہ فیصلہ ریستورانوں کی انتظامیہ نے محض خوف کے عالم کی وجہ سے کیا۔ البتہ گاہک خوفزدہ نہ تھے۔ رات گئے تک یہ لوگ ریستوران میں آتے رہے اور بند دیکھ کر واپس لوٹ جاتے رہے۔ اِن ریستورانوں کی دیکھا دیکھی بہت سے دوسرے ریستوران بھی بند ہو گئے اور افواہ سازوں کی پھیلائی ہوئی افواہ سے ہی سے افواہ سازوں کا مطلوبہ مقصد حاصل ہو گیا۔دھماکے میں جو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اُن پر تو اب اظہارِ افسوس ہی کیا جا سکتا ہے اور مرحومین کے لئے مغفرت کی دُعا ہی کی جا سکتی ہے،لیکن اِس سوال کا جواب ضرور تلاش کرنا چاہئے کہ کیا یہ کسی غفلت کی وجہ سے ہوا یاکوئی سازش تھی، کام کرنے والوں کی لاپروائی تھی،حادثہ تھا یا اس کے کوئی اور اسباب تھے، یہ دیکھنا ہو گا اگر گیس لیکیج تھی تو اِس کو درست کیوں نہ کیا گیا، غالباً اسی لئے متحدہ عرب امارات میں گیس سلنڈر کو عمارت کے اندر رکھنے کی اجازت نہیں ۔شہر میں جگہ جگہ گیس کے سلنڈروں کی دکانیں کھلی ہیں ،جہاں بڑے سائز کے کمرشل سلنڈروں سے گیس چھوٹے سلنڈروں میں منتقل کی جاتی ہے۔ یہ سارا کام پورے شہر(بلکہ پورے صوبے اور مُلک میں) جگہ جگہ ہو رہا ہے، کھلے عام ہو رہا ہے اور کسی ادارے نے کبھی یہ جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ جس طریقے سے گیس ایک سلنڈر سے دوسرے سلنڈر میں منتقل کی جاتی ہے کیا وہ حفاظتی انتظامات کے مطابق ہے؟ اس کاروبار میں ہزاروں لوگ ملوث ہیں اُن کا کاروبار اِسی سے وابستہ ہے اِس لئے وہ بلا دھڑک یہ کام کرتے چلے جاتے ہیں۔اگرچہ غیر معیاری سلنڈر پھٹتے بھی رہتے ہیں اور اِن کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں،لیکن اِس کاروبار میں حفاظتی انتظامات کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی گئی، اللہ نہ کرے کوئی حادثہ ہو جائے گا تو پھر ایک شور اُٹھے گا، دور کی کوڑیاں لائی جائیں گی، دانش بگھاری جائے گی، لیکن کیا مجال اِس سے پہلے کسی صاحبِ دانش کو یہ خیال آ جائے کہ اِس کاروبار میں جتنا رسک ہے اس کی اصلاح پر بھی کوئی توجہ دی جائے۔

جمعرات کو پھیلنے والی افواہوں کا نتیجہ ہی تھا کہ اگلے روز شہر میں ڈرے ہوئے مالکان نے بیشتر سکول بند کر دیئے، حالانکہ ڈیفنس کے ایک زیر تعمیر پلازے میں ہونے والے دھماکے کا کوئی تعلق بظاہر دہشت گردی سے نہیں تھا،لیکن چینلوں پر بیٹھے ہوئے دانشور اس کو کھینچ تان کر اس سے ملانے کے لئے کوشاں ہی رہے اور گنتی کر کے بتاتے رہے کہ دہشت گردی کے اتنے واقعات ہو چکے ہیں، لیکن متعلقہ اداروں کو ہوش نہیں،حالانکہ جس دھماکے کی بنیاد پر یہ ساری گفتگو ہو رہی تھی وہ نہ تو دہشت گردی تھی نہ کوئی بم پھٹا تھا اور نہ دھماکے کی نوعیت ایسی تھی، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر ہوتی۔ یہ ایسی کوتاہی تھی جس کا قصور وار اُن لوگوں کو ٹھہرایا جا سکتا ہے، جو ان گیس سلنڈروں پر کام کر رہے تھے۔ اس دھماکے سے اگر کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے تو یہ کہ جہاں کہیں بھی گیس کے آلات نصب ہوں اور گیس کے سلنڈر وغیرہ پڑے ہوں ،وہاں شعلہ جلانے سے گریز کیا جائے،لیکن دیکھا یہ گیا ہے ، پٹرول پمپوں پر گاڑیوں میں پٹرول بھروانے والے بھی سگریٹ سلگا لیتے ہیں اب اگر ایسے میں کوئی چنگاری پٹرول پمپ کو جلا کر خاکستر کر دے تو افراتفری تو پھیلے گی، لوگ بھی زد میں آئیں گے لیکن دیکھنا یہ چاہئے ، آخر کوتاہی کا آغاز کس طرح ہوا اور یہ حماقت کرنے والا (یا والے) کون تھے؟

ہر شہر میں ایسے کیمیکل کے ڈرم بھی غیر محتاط طریقے سے سٹور کئے جاتے ہیں جو آگ پکڑ لیتے ہیں۔ اگر کہیں حادثہ ہو جائے تو چند دن تک تو اِس سلسلے میں بڑی سرگرمیاں سامنے آتی ہیں،لیکن جب احتیاطی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے اُس وقت ہرکوئی لاپروائی کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے حتیٰ کہ ایسے سٹوروں پر آگ بجھانے والے آلات بھی پورے نہیں ہوتے۔اگر آلات دیواروں پر ٹانگ دیئے گئے ہوں تو بھی بعض صورتوں میں وہ نمائشی ثابت ہوتے ہیں، حالانکہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ نہ صرف ایسے آلات موجود ہوں بلکہ سو فیصد درست حالت میں ہوں اور بوقتِ ضرورت کام بھی آ سکیں۔ مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے اگر کسی ملٹی سٹوری بلڈنگ میں آگ لگ جائے تو پورے شہر میں ایسا انتظام نہیں ہوتا کہ اگر اوپر کی منزلوں میں آگ لگی ہوئی ہے تو وہاں پانی وغیرہ پہنچایا جا سکے، اِسی طرح ان عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستے بھی نہیں ہوتے۔ لاہور میں ایل ڈی اے ایک ایسا ادارہ ہے جو عمارتوں کی تعمیر کے لئے قوانین بناتا ہے اور اس کی ذمے داری ہے کہ وہ کوئی ایسی ملٹی سٹوری عمارت نہ بننے دے، جس میں ہر قسم کے حفاظتی انتظامات نہ ہوں،لیکن ایسی عمارتیں بھی شہر میں موجود ہیں ،جہاں ہنگامی تو کجا عام حالات میں بھی آنے جانے کے کشادہ راستے نہیں ہیں اور تو اور ایل ڈی اے کی اپنی تیرہ منزلہ عمارت میں جب آگ لگی تو ہنگامی طور پر باہر نکلنے کے راستے نہ ہونے کی وجہ سے اندر گھرے ہوئے لوگوں نے چھلانگیں لگائیں تو گر کر ہلاک ہو گئے یا زخمی ہو کر اپاہج ہو گئے۔اب ایل ڈی اے نے اِس عمارت کی اوپر کی پانچ منزلیں گرا دی ہیں تو خیال آیا ہے کہ ہنگامی حالت کے لئے راستہ ہونا چاہئے، چنانچہ اب بلڈنگ کے باہرہنگامی سیڑھیاں بنا دی گئی ہیں۔ کیا ایل ڈی اے والے ایسی سیڑھیاں ہر بڑی عمارت کے باہر حکماً بنا سکتے ہیں شاید نہیں، کیونکہ اس کام میں بڑی محنت اور ریاضت درکار ہے جو ہمارے ایسے اداروں کے بس کا کام نہیں۔

افراتفری اور بے یقینی کی فضا پھیلانا دشمن کا ہتھیار ہوتا ہے اگر لاہور جیسے شہر کے ایک حصے میں(گیس سلنڈر یا کسی اور وجہ سے) دھماکے کے بعد پورے شہر کو کامیابی کے ساتھ افواہوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے تو ذرا تصور فرمایئے کسی حقیقی نیشنل ایمرجنسی کی صورت میں ہمارے ہاں کیسے قیامت نہ ٹوٹ پڑے گی؟ نو دس دن بعد لاہور میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا فائنل ہونے والا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے انقرہ میں کہا یہ لاہور میں ہی ہو گا اور اس کے لئے حفاظتی انتظامات بھی کئے جائیں۔فیصلہ تو بروقت اور درست ہے، لیکن اِس سے پہلے افواہ ساز فیکٹریوں کو بند کرنا ہو گا۔

مزید : اداریہ


loading...