ملائیشین قونصل جنرل کا دونوں ممالک میں ویزہ ختم کرنے پر زور

ملائیشین قونصل جنرل کا دونوں ممالک میں ویزہ ختم کرنے پر زور

کراچی(اے پی پی) ملائیشیا کے قونصل جنرل اسماعیل بن محمد بکری نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان ویزہ فری ریجم کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کے عوام سے مؤثر طریقے سے رابطے استوار کئے جا سکیں اور کاروباری روابط بڑھائے جا سکیں۔ اگر ویزہ فری ریجم پر غور کیا جائے تو یقینی طور پر دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دے کر جیت ہی جیت کی صورتحال پیدا کی جا سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے چیئرمین عبداللہ ذکی، سینئر وائس چیئرمین محمد علی ضیاء اور دیگر ممبران سے ایسوسی ایشن کے دورے کے موقع تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ ملائیشین قونصل جنرل نے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایف ٹی اے پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔

اور کہاکہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف ٹی اے میں مزید مصنوعات اور اشیاء شامل کی جانی چاہئے۔ ملائیشین سپلائرز کے لئے پاکستان ایک اچھا تجارتی پارٹنر ہے جو پاکستانی تاجروں کے ساتھ اپنے کاوبار کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دینے کے مواقعوں سے معیشت کے مختلف شعبوں میں تجارت کو بڑھانے کا عمل جاری رکھا جا سکتا ہے جس سے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔ قبل ازیں پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے چیئرمین عبداللہ ذکی نے ملائیشین قونصل جنرل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور ملائیشیا مختلف اشیاء خصوصاً خوردنی تیل کی تجارت اور باہمی تعلقات سے لطف اندوز ہورہے ہیں لیکن دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارتی اشیاء کی تعداد میں مزید اضافہ کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سوپ انڈسٹری ملائیشیا سے خام مال کی درآمد کو فروغ دینے کی منتظر ہے جو آزاد تجارتی معاہدے کے تحت بہتر مواقع اور سہولیات فراہم کرنے سے ممکن ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پی او سی 2017ء میں شرکت کے لئے پی ایس ایم اے کے وفد کے دورہ ملائیشیا کو حتمی شکل دی جا چکی ہے جو مارچ 2017ء کے پہلے ہفتے میں کولالمپور میں منعقد ہو گا۔ عبداللہ ذکی نے پاکستان کی سوپ انڈسٹری کے مجموعی ڈھانچے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایاکہ 650 کے قریب فیکٹریاں صابن کی تیاری کے پیداواری عمل سے منسلک ہیں جس میں 500 فیکٹریاں غیر منظم جبکہ 150 فیکٹریاں مکمل طور پر منظم طریقے سے پیداواری عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید : کامرس


loading...