سپیرئر یونیورسٹی کے زیر اہتمام "پاکستانی میڈیا یا مافیا؟"کے موضوع پر سیمینار

سپیرئر یونیورسٹی کے زیر اہتمام "پاکستانی میڈیا یا مافیا؟"کے موضوع پر سیمینار

لاہور(پ ر) سپیرئر یونیورسٹی شعبہ ابلاغیات کے زیر اہتمام "پاکستانی میڈیا یا مافیا؟"کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید ، بیرسٹر عامر سلطان، سینئر اینکر پرسن اسامہ طیب، سینئر تجزیہ کار رضوان رضی، بریگیڈئر (ر) غضنفر علی اور ڈپٹی ڈائریکٹر سیفما عبداللہ ملک نے شرکت کی اور طلبہ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار سے خطا ب کرتے ہوئے میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ چند دہائی پہلے میڈیا صرف حکومتی آلہ کار کا کردار ادا کرتا تھا۔ میں میڈیا کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ملک کے اہم مسائل کے ساتھ ساتھ حکومتی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔میڈیا کی وجہ سے ہماری قوم میں جمہوری شعور پیدا ہورہا ہے۔بہت جلد ہم ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوجائیں گے ۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جمہوریت کھوکھلی ہوچکی ہے۔ہماری جمہوریت ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار ہے۔ میڈیا نے جمہوری اقدار کے تحفظ کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ہمارے ملک میں ادارے حکومت کی گرفت میں ہیں۔ نیب سمیت تمام ادارے ملک وملت کی خدمت کرنے کی بجائے حکمرانوں کو تحفط دینے میں مصروف ہیں۔جب تک ادارے مضبوط نہیں ہونگے قوم کے تمام مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ان داروں کو طاقتور بنانے کے لئے میڈیا کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ بعض اوقات میڈیا بھی چٹ پٹی خبروں کی تلاش میں معاشرے میں تعمیری کردار ادا کرنے سے غافل نظر آتا ہے۔ میڈیا میں سیاسی ٹاک شوز کے ذریعے عوام کو صرف نفرت سکھائی جارہی ہے جب کہ ملک کے اہم مسائل ابھی بھی میڈیا کی نظروں سے اوجھل نظر آتے ہیں۔ اسمبلی میں آئین سازی کی بات ہو تو میڈیا خاموش ہوجاتا ہے۔ جبکہ سیاسی لیڈر کہ کھوکھلے نعرے میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں۔ میڈیا ملک کا اہم ستون ہے اور مجموعی طور پر پاکستانی میڈیا کا کردار قابل ستائش ہے۔ پاکستان کے دشمنوں کی نقاب کشائی میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئر (ر) غضنفر علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا میڈیا کا کردار ہر لحاظ سے بہت اہم ہے، دہشتگردوں نے فاٹا سے لاہور کا رخ کرلیا ہے۔ قومی سلامتی ایسے فریم ورک کا نام ہے جس کے ذریعے میڈیا ملکی نظریات کا دفاع کرتا ہے۔ معاشرتی مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ میڈیاکسی ملک کا بین القوامی سطح پر بھی امیج بناتا ہے۔ میڈیا کا بنیادی کام خبر تلاش کرنا، خبر میں ملکی سلامتی کا عنصر دیکھنااور عوام کے لئے سنجیدہ انداز میں پیش کرنا ہے۔میڈیا پاکستان میں ایک بہت بڑے کارپوریٹ کلچر کی شکل اختیار کرگیا ہے لیکن شاید ابھی تک یہ شعور پیدا نہیں ہوسکا۔ہر خبر بریکنگ نیوز نہیں ہوتی اور نا ہی ہر بریکنگ نیوز خبر ہوتی ہے۔مشرف نے میڈیا کو آزاد کیا لیکن ہمارا میڈیا ملکی مسائل میں دلچسپی لینے کی بجائے کمرشلائزیشن کی طرف چلا گیا۔ نوم چومسکی نے کہاکہ میں نے پاکستانی میڈیا کو ہر لحاظ سے انڈین میڈیا سے زیادہ آزاد خیال اور ذمہ دار پایا۔سیاست اور صحافت میں جب تفریق ختم ہو جائے تو مافیا جنم لیتی ہے۔بادشاہوں نے تاریخ دانوں اور صحافیوں کے ہاتھ بھی کاٹے لیکن وہ اپنے فرائض سے غافل نہ ہوئے۔ اسی طرح آج کے صحافی میں بھی اپنے پیشے سے خلوص اور لگن کی حد تک جذبہ ہونا چاہیے ۔ سینئر تجزیہ کار اور کالم نگار رضوان الرحمان رضی کا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پہلے تو ہمیں مافیا کی تعریف سمجھنی چاہیے۔ ایسا گروہ جو باہمی مفادات کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور اپنا ایک لیڈر منتخب کرتے ہیں۔ جب بات ان کے لیڈر پر آئے تو وہ اپنے ساتھی کو بھی نہیں بخشتے۔ سنا ہے میڈیا دنیا کی اصلاح کا کام کرتا ہے تو پھر نجانے مودی اور ٹرمپ تختہ حکومت پر کیسے براجمان ہوجاتے ہیں۔ انڈین میڈیا نے مودی کو دکھایا کچھ اور وہ نکلا کچھ اور ، امریکی میڈیا اپنی جھوٹی انااور ضد پرقائم رہتے ہوئے ٹرمپ کو نشانہ بنا رہاہے۔ہر کالا دھن رکھنے والا آدمی پاکستانی میڈیا کا سیٹھ نظر آتا ہے۔ اپوزیشن والے بھی میڈیا پر تب ہی خوش ہوتے ہیں جب بات حکومت کا خلاف کی جائے مگر جب یہ حکومت میں آئیں تو میڈیا کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں۔ پہلے صحافتی اقدار اتنی مضبوط تھیں کہ وزیر اعظم بھی اپنی خبر کے لئے چیف ایڈیٹر سے منت سماجت کرتا تھا۔ مگر اب ایک ٹوئٹ میڈیا کی سپر لیڈ بن جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کو اس قدر آزاد کردیا ہے کہ وہ ہر بات بغیر کسی خوف کہہ سکتے ہیں۔ مافیا کا تصور اب ختم ہورہا ہے۔ زرد صحافت مر چکی ہے اور مردہ چیزوں کو برا بھلا نہیں کہتے۔سینئر اینکر پرسن اسامہ طیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ذرا کتابی باتوں سے ہٹ کر حقائق پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ پیپلز پارٹی والے برداشت کی بات کرتے ہیں مگر جتنی انہوں نے کرپشن کی ہے اس کے سوا کر ہی کیا سکتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف والے نظریاتی سیاست کے دعوے دار ہیں۔ مگر ان کی مرکزی قیادت نوجوانوں کو عدم برداشت سکھا رہی ہے۔ مانتے ہیں کہ میڈیا میں بعض کمزوریاں ہیں لیکن ہمین جائزہ لینا ہے کونسے ایسے عناصر ہیں جنہوں نے میڈیا کو مافیا بنا دیا ہے۔ہمیں اپنی نوکری کرنی ہے ہمیں اخلاقیات کا درس دیا جاتا ہے لیکن ہمارے سینئرز کوئی ایک تو ایسی مثال پیش کریں جس میں انہوں نے سیٹھ کلچر کی نفی کی ہو۔ڈپٹی ڈائریکٹر سیفما عبداللہ ملک کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ادارہ خراب نہیں ہوتا صرف کچھ کالی بھیڑیں اداروں کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔آزادی اظہار خیال بنیادی حق ہے۔ پاکستانی میڈیا مافیا نہیں بلکہ کچھ افراد کو اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے۔ ہمیں انفرادی طور پر معاشرتی اخلاقیات کا خیال رکھنا ہوگا۔ میڈیا نے بے پنا ہ قربانیاں بھی دی ہیں۔ ولی بابر اور سلیم شہزاد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے صحافتی اقدار کا تحفظ کیا۔ مستقبل کے صحافیوں کو یہی مشورہ ہے خدمت کا جذبہ لے کر آئیں اور اس مقدس پیشے کو مافیا بننے سے بچائیں۔رہنما پیپلز پارٹی بیرسٹر عامر سلطان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تنقید کرنا آسان کام ہے لیکن عملی زندگی بالکل مختلف ہے۔ فرشتے نے ابابیل سے نمرود کی آگ بجھانے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا مجھے پتا ہے میری کوشش ناکام ہے لیکن میں اللہ رب العزت کے سامنے آگ بجھانے والوں میں شمار ہو ں گا نہ کہ لگانے والوں میں۔ پاکستان میں سیاسی لیڈر بننے کے لئے سرمائے یا عہدے کی بجائے کردار کو مد نظر رکھنا ہوگا ۔ آزادی اظہار رائے عوام کا بنیادی حق ہے لیکن آزادی اظہار رائے کے نام پر اگر میڈیا مالکان حکومتیں بنانے اور گرانے کا نام لیں تو یہ حقوق غضب کرنا کہلائے گا۔سیمینار کے اختتام پر شعبہ ابلاغیات کے سینئر پروفیسر حافظ طارق صاحب نے سپیرئر یونیورسٹی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مہمانوں کو اعزازی شیلڈز پیش کیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...