شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں: مذہبی سیاسی رہنماء

شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں: ...

لاہور(بلال چوہدری)ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل میں سفارشات پہلے سے موجود تھیں ،اگر میاں بیوی شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کو پیدا کریں تو اس میں شرعی طور پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے ،ان خیالات کا اظہار روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے کیا ۔جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور سیاسی پارلیمانی امور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں اس قسم کی سفارشات پہلے سے موجود ہیں ۔وفاقی شرعی عدالت نے بھی کسی شادی شدہ جوڑے کو میڈیکل پرابلم ہے اور اس کی وجہ سے بچہ نہیں ہو رہا تو وہ شرعی اصولوں کو سامنے رکھ کے ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا کر سکتے ہیں اس کو جائز قرار دیا ہے باقی طریقوں کو ناجائز قرار دیا ہے۔اس لئے یہ شرعی طور پر بھی جائز ہے۔قرآن بورڈ کے سربراہ مولانا غلام محمد سیالوی نے کہا کہ اس حوالے سے علماء کے فتاوی موجود ہیں اگر میاں بیوی کے اپنے ہی مادہ کو استعمال کیا جائے تواس میں کوئی ہرج نہیں انہوں نے کہا کہ مادہ کو حلال طریقہ سے بھی نکالا جا سکتا ہے اور اس کو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔سنی تحریک کے ڈویثرنل صدر مجاہد عبد الرسول نے کہا کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس طرح سے بچہ پیدا کیا جا سکتا ہے لیکن اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ وہ حلال ہے یا حرام ۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کو پیدا کرنے کے لئے جو مادہ اکٹھا کیا جاتا ہے وہ مختلف افراد کو اکٹھا کیا جاتا ہے اگر مادہ میں بچے پیدا کرنے کے جراثیم ہوں تو اس کو محفوظ کر لیا جاتا ہے یہ طریقہ حرام ہے ۔مادہ حرام طریقہ سے نکالا جائے تو یہ بچہ بھی حرام ہو گا۔اگر احتلام کے ذریعے بھی مادہ نکلے تو وہ بھی محفوظ نہیں ہو سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مادہ حلال طریقہ سے نہیں نکل سکتا اس لئے یہ طریقہ کار حرام ہو گا۔لیکن اگر مادہ حلال طریقہ سے نکلے تو یہ طریقہ کار حلال ہو گا۔خطیب جامع نعیمیہ حفیظ قادری کا کہنا تھا کہ اگر کسی خاتون کو ماں بننے میں مسئلہ ہے تو اس کے کے شوہر کا نطفہ لیکر ٹیسٹ ٹیوب میں رکھا جائے اور حمل ہو جائے اور پھر بچہ پیدا ہو جائے تو یہ شرعی طور پر جائز ہے ۔مادہ نکالنے کا حلال طریقہ موجود ہے اس لئے یہ عمل جائز ہے اگر حلال طریقہ سے کیا جائے۔یاد رہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے شادی شدہ جوڑے کے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے طریقہ کار کو دو روز قبل جائز قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ اس کے علاوہ دیگر طریقے غیرشرعی ہونگے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...