فوجی عدالتیں، پیپلز پارٹی کا بائیکاٹ ختم جماعت اسلامی ،جے یو آئی کو اعتراض!

فوجی عدالتیں، پیپلز پارٹی کا بائیکاٹ ختم جماعت اسلامی ،جے یو آئی کو اعتراض!
فوجی عدالتیں، پیپلز پارٹی کا بائیکاٹ ختم جماعت اسلامی ،جے یو آئی کو اعتراض!

  


تجزیہ:چودھری خادم حسین:

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے فوجی عدالتوں میں توسیع کے مسئلہ پر سابق صدر آصف علی زرداری سے رابطہ کیا اور ان سے بات چیت کے نتیجے میں پیپلز پارٹی نے پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ ختم کر دیا گزشتہ روز کمیٹی کا اجلاس بھی ہوگیا، تاہم بات پھر نہ بن سکی ، اس مرتبہ خود مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی معترض ہوئے کہ دائرہ اختیار کے حوالے سے مسودہ پر اختلاف کیا، مطالبہ کیا کہ فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے الفاظ دہشت گردی کی تعریف سے نکال دیئے جائیں، چنانچہ اب نئے اور پرانے مسودہ ترمیم کوپھر سے غور کے لئے زیر التوا رکھا گیا اور اب ایک سب کمیٹی بنا کر معاملہ اس کے سپرد کردیا گیا ہے تاکہ یہ کمیٹی مسلسل غور کرکے اتفاق رائے پیدا کرے اور پھر پارلیمانی کمیٹی مسودہ منظور کرکے ایوان سے ترمیم کی منظوری لے تاکہ فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آسکے جس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

اطلاعات تو یہی ہیں کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے خیالات ملتے جلتے ہیں اور ان دونوں جماعتوں کی طرف سے اعتراض تھا، تحریک انصاف نے تو یہ بھی کہا کہ خود حکمرانوں کی اپنی مرضی نہیں ہے ورنہ پہلے ہی دوسالہ مدت مکمل ہونے کی نوبت نہ آنے دیتی اور وقت سے پہلے یہ مشق کرلی جاتی، بہر حال اب ضرورت نے مجبور کیا اورپارلیمانی کمیٹی میں مسئلہ آگیا جہاں متنازعہ ہوگیا، یہ عجیب بات اور تضاد ہے کہ اعتراض کے بعد رضا مندی بھی دی گئی لیکن سب نے اتفاق نہ کیا اب خود توسیع کے داعی مولانا فضل الرحمان معترض ہیں، حالانکہ تحریک طالبان، اب داعش اور لشکر جھنگوی جو کچھ بھی کررہے ہیں یہ سب فرقہ واریت اور مذہبی منافرت ہی کا پہلو لئے ہوئے ہیں اور اسی تفریق کی بنیاد پر تو یہ حملے کررہے ہیں، سب مسالک اور علماء کرام دہشت گردی کے خلاف فتوے دے چکے ہوئے ہیں خود مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی بھی تمام تر تحفظات کے باوجود حمائت نہیں کرسکتی، اس لئے بہتر تو یہی ہے کہ یہ تنازعہ نہ پیدا کیا جائے اور جو کچھ پہلے مسودہ ترمیم میں تھا اور رائج بھی تھا اسے منظور کرلیا جائے کڑوا گھونٹ ہی سہی تاہم حالات حاضرہ میں ان فوجی عدالتوں کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے، یہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں جسے لٹکایا جارہا ہے اگر قیام کا فیصلہ ممکن ہے تو پھر جزئیات میں اختلاف کے باعث تاخیر غیر مناسب ہے۔

پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے صدر آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری جو پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں اپنا اپنا کام کرنے میں مصروف ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں نے کام تقسیم کرلیا ہے، بلاول تو پارٹی کی تنظیم مکمل کرنے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ آصف علی زرداری سیاسی جوڑ توڑ میں ہنر آزما رہے ہیں ، بلاول بھٹو نے جنوبی پنجاب کے بعد سنٹرل پنجاب کی تنظیم کے فیصلے کئے جو مجموعی طور پر پسند کئے گئے کہ 90سے 95فی صد تک پرانے راہنماؤں اور کارکنوں کو ہی ذمہ داری سونپی گئی اور کوشش کی گئی کہ نوجوان سامنے آئیں جو جیالوں کی موجودہ نسل سے ہوں، اب سندھ کے لئے انٹرویوز کا سلسلہ جاری ہے اور جلد ہی یہ بھی حل ہو جائے گا اور شاید بلاول اب ملکی حالات کے باعث سیاسی سرگرمیاں التوا میں ڈالنے کا فائدہ اسی طرح حاصل کرنا چاہتے ہیں اور پھر موقع ملتے ہی سرگرم عمل ہوں گے۔

جہاں تک آصف علی زرداری کا تعلق ہے تو وہ بلاول ہاؤس کراچی میں بیٹھ کر جو کچھ کررہے ہیں اس کے نتیجے میں نبیل گبول کو پھر سے جماعت میں قبول کرلیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سابق سپیکر اور حال رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور ان کے صاحبزادے (رکن سندھ اسمبلی) کو بلیک لسٹ کرکے ان سے استعفیٰ طلب کیا گیا ہے، یہ اقدام شاید اس اطلاع کے بعد اٹھایا گیا کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا تحریک انصاف کی طرف رجوع کررہے ہیں اور ان کی بات چیت بھی ہو چکی ہے شاید اسی لئے آصف علی زرداری نے قطعی تعلق ختم کرنے اور پرانی دوستی کو بالکل دفن کرنے کے لئے نوٹس جاری کئے، نبیل گبول کو متبادل کے طور پر واپس لیا اور تحریک انصاف کے صدر کو بھی توڑ لیا، یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ فوری طور پر آئندہ انتخابات سے کہیں پہلے سندھ میں یہ سب کرگزرنا چاہتے ہیں کہ ان کے صاحبزادے بلاول کو تنازعات سے پریشانی نہ ہو، بہر حال پیپلز پارٹی کے جیالے اور عہدیدار ان کے اقدامات کے نتائج دیکھنا چاہتے ہیں کہ مفاہمت کی سیاست سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیسے ہوگا۔

مزید : تجزیہ


loading...