عوامی تحریک کے 37کارکنوں کیخلاف دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم معطل

عوامی تحریک کے 37کارکنوں کیخلاف دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم معطل

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے دورکنی بنچ نے پولیس پر حملے اور ایک اہلکار کے قتل کے مقدمے میں عوامی تحریک کے 37 کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم عبوری طور پر معطل کر دیا، عدالت نے قتل کیس کا ٹرائل انسداد دہشت گردی عدالت کی بجائے عام عدالت منتقل کرنے سے بھی روک دیاہے ۔جسٹس سردار شمیم احمد خان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے محکمہ پراسکیوشن کی اپیل پر سماعت کی، محکمہ پراسکیوکیشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عوامی تحریک کے اسد، الیاس سمیت 37کارکنوں پر کامونکی پولیس کے درجنوں اہلکاروں پر حملہ کرنے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کا مقدمہ درج ہے، اس حملے میں ایک اے ایس آئی لیاقت زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا جس کے بعدمقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کر لی گئی، ٹھوس تفتیش اور شہادتیں ہونے کے باوجود انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مقدمے میں سے دہشت گردی کی دفعات ختم کر کے کیس کا ٹرائل عام عدالت کو منتقل کرنے کا حکم جاری کیا ہے جوغیرقانونی اقدام ہے، انہوں نے استدعا کی کہ مقدمے میں سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے اور کیس کا ٹرائل عام عدالت کو منتقل کرنے کا حکم کالعدم کیاجائے، ابتدائی سماعت کے بعد دو رکنی بنچ نے تمام ملزموں اور پولیس سے 17اپریل تک جواب طلب کر لیا ہے۔

دفعات ختم

مزید : علاقائی


loading...