پاکستان،افغانستان میں تجارت نہ ہونے سے قومی خزانہ کو14کروڑ کا نقصان

پاکستان،افغانستان میں تجارت نہ ہونے سے قومی خزانہ کو14کروڑ کا نقصان

ملتان(جنرل رپورٹر)پاک افغان بارڈ ر پر کشیدہ صورتحال کے باعث طورخم سرحد گزشتہ آٹھ روز سے بند ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت نہ ہونے کے باعث (بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

قومی خزانے کو14کروڑ سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے کسٹم حکام کے مطابق پاک افغان ٹرانزٹ کی کسٹم ڈیوٹی کی مد میں روزانہ ایک کروڑ70لاکھ روپے خزانے میں جمع ہوتے ہیں دہشتگردی کی حالیہ لہر کے بعد وفاقی حکومت نے طورخم کو بند کردیا تھا جس کی وجہ سے سرحد کے اطراف ہزاروں ٹرالر‘کنٹینرز اور آئل ٹینکرز کی قطاریں لگی ہوئی ہیں ایک اندازے کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے مابین روزانہ1200سے1500ٹرکوں کی آمدورفت ہوتی ہے اس کے علاوہ طورخم کے راستے نیٹو افواج کو خوراک کی سپلائی بھی ہوتی ہے کراچی سے طورخم بارڈر تک کوئی بھی ٹرالر یا کنٹینر مختلف مدوں میں20سے25ہزار روپے ٹیکسز کی مد میں دیتا ہے گزشتہ سال بارڈر منیجمنٹ سسٹم کے نفاذ سے قبل طورخم کے راستے دو ہزار سے زائد ٹرکوں کی آمدورفت رہتی تھی تاہم نئے سسٹم کے نفاذ کے بعد ویزہ پالیسی کے باعث ٹرکوں کی آمدورفت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور اب1200سے1500ٹرکوں کا روزانہ تبادلہ رہتا ہے ذرائع کے مطابق تجارت بند ہونے کے باعث جلال آباد اور ملحقہ علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...