ہمیں ایوارڈ نہیں وسیب کی شناخت،حقوق اور صوبہ چاہیے،سرائیکی رہنما

ہمیں ایوارڈ نہیں وسیب کی شناخت،حقوق اور صوبہ چاہیے،سرائیکی رہنما

ملتان (سٹی رپورٹر) پنجاب سے ایوارڈ نہیں ‘ صوبہ چاہتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ ، پاکستان سرائیکی پارٹی کے رہنما ممتاز ڈاہر ، سرائیکی شاعر(بقیہ نمبر34صفحہ7پر )

طارق موتھا ، غلام فرید ساغر ، جاوید شانی اور ظفر مسکین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ رفعت عباس نے حکومت پنجاب کی طرف سے پرائڈ آف پنجاب ایوارڈ کو مسترد کیا تو پلاک نے یہ ایوارڈ سرائیکی شاعر اشو لال فقیر کو دینے کا اعلان کیا ، اشولال نے بھی یہ ایوارڈ مسترد کر دیا ۔ ان شعراء نے کہا کہ ہمیں ایوارڈ نہیں وسیب کی شناخت اور اس کے حقوق چاہئیں ۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج آرٹ اینڈ کلچر سرائیکی وسیب کا برسوں سے استحصال کر رہا ہے ۔ سرائیکی وسیب کے وسائل پنجابی زبان کے نام پر خرچ کر رہا ہے ۔ جس کی بناء پر سرائیکی شاعروں کا احتجاج بجا اور درست ہے ۔ پنجاب حکومت سرائیکی وسیب کے شاعروں کی آواز کو سمجھنے کی کوشش کرے اور بلا تاخیر سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ پلاک جیسا ادارہ فوری طور پر سرائیکی زبان کی خدمت کیلئے بھی بنایا جائے ۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ جس طرح رفعت عباس اور اشو لال نے وسیب کے جذبات کی قدر دانی کی ہے ‘ اس طرح کا مظاہرہ دوسرے شاعروں کو بھی کرنا چاہئے اور اب جو بھی رفعت عباس کے نام پر لیا گیا ایوارڈ لینے کی کوشش کرے گا وہ وسیب کا غدار ہو گا اور وسیب کے لوگ اس کا بائیکاٹ کریں گے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...