چشتیاں‘ دھکا دیکر چھت سے گرائی جانیوالی سکول کی طالبہ نے سکیورٹی مانگ لی

چشتیاں‘ دھکا دیکر چھت سے گرائی جانیوالی سکول کی طالبہ نے سکیورٹی مانگ لی

چشتیاں(نمائندہ پاکستان)سروسز ہسپتال لاہور میں زندگی و موت کی (بقیہ نمبر31صفحہ7پر )

کشمکش میں مبتلا دانش گرلز سکول چشتیاں کی سیکنڈ ایئر کی طالبہ سدرا شہادت نے مبینہ طور پر دانش سکولزلاہور کے حکام کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو دانش گرلز سکول میں ظالمانہ اور طالبات دشمن اقدامات کے خلاف آواز بلند کرنے پر انتقاماََ سکول ہاسٹل کی تین منزلہ عمارت کی چھت سے دھکا دیکر قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ حکومت اور دانش سکولز اتھارٹی اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔ طالبہ نے مزید بتایا کہ پرنسپل دانش گرلز سکول چشتیاں نویدہ شہزاد کی جانب سے اس کی دیکھ بھال کیلئے تعینات کئے گئے۔ ملازمان اور خواتین دھمکی دیتی رہی ہیں کہ اگر تم نے حقیقت بیان کی تو تمہارا گلا دبا کر قتل کردیں گے۔ طالبہ نے مزید کہا کہ اسے بہترین طبی سہولتیں اور آپریشن کیلئے فوری اقدامات کرنے کے علاوہ خاتون پولیس کانسٹیبل تعینات کی جائیں۔ یاد رہے کہ پرنسپل مذکورہ کے علاوہ ایڈمن آفیسر ، ڈپٹی ایڈمن آفیسر، سیکیورٹی سپروائزر، منظورِ نظر جونیئر کلرک زوہیب وٹو نے طالبہ کے چھت سے گرنے کے المناک واقعہ کے بعد جھوٹ ، دروغ گوئی اور بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سخت خوف و ہراس میں سٹاف ، ملازمان، سیکورٹی گارڈزکو دھمکی دی کہ وہ بیان دیں کہ طالبہ سدرا شہادت سیڑھیوں سے گری ہے۔ چنانچہ دانش سکولز اتھارٹی پنجاب کے انکوائری آفیسر پرنسپل دانش بوائز سکول میانوالی محمد طیب اور ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کے انکوائری آفیسر اے ۔ ڈی ۔ سی ۔آر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کو گرلز سکول کی پرنسپل ودیگر متذکرہ افراد نے طالبہ کو سیڑھیوں سے گرنے کے بیانات داخل کرائے تھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...