فکسنگ سکینڈل ، چیئر مین پی سی بی نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں کھلاڑیوں کو معصوم قرار دیدیا

فکسنگ سکینڈل ، چیئر مین پی سی بی نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں کھلاڑیوں کو معصوم ...

لاہور(سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے پی ایس ایل اسکینڈل میں ملوث کھلاڑیوں کو معصوم قرار دے دیا،کھلاڑیوں کو معلوم نہیں تھا کہ وہ جس شخص سے ملاقات کر رہے ہیں بکی ہے یا کوئی پرستار،ان خیالات کا اظہار انہوں نے قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں کیا، انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کا پہلا ایونٹ کامیاب رہا جس کے بعد بکیز آگئے، میچ فکسنگ پوری دنیا میں ہوتی ہے، ہندوستان ،بنگلا دیش اور سری لنکا سمیت جہاں بھی ٹی ٹوئنٹی میچز ہوتے ہیں وہاں بکی آجاتے ہیں،دونوں کھلاڑیوں کو چارج شیٹ دیدی ہے اور اب جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلا س چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔چیرمین قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے چیرمین پی سی بی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپکے علم میں پہلے سے معاملہ تھا تو آپ نے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا جبکہ نہ آئی سی سی سے آپ نے خود رابطہ کیا تھا تو میڈیامیں چلنے والی خبروں کی تردید کیوں نہیں کی گئی،انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو دبئی میں جاری پاکستان سپر لیگ میچوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کی اسپاٹ فکسنگ کے حوالے سے ہدایت کی ہے کہ فکسنگ اسکینڈل کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور اگر کھلاڑی ملوث ہیں تو ان کو سزا دی جائے تاکہ میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے اور اگر کھلاڑی ملوث نہیں ہیں تو ان کا دفاع کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریار خان نے بتایا کہ میچ فکسنگ میں تین کھلاڑیوں کے نام سامنے آئے ہیں ۔ میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ کوئی نئی چیز نہیں ہے دنیا بھر میں یہ چلتا ہے اور خاص طور پر یہ T-20 کے بعد یہ عام ہے ۔ بکی کسی اور کے ذریعے کھلاڑیوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں ۔ اس معاملے میں بھی یوسف نامی بکی ناصر جمشید کے ذریعے ان کھلاڑیوں تک پہنچا تھا۔ ہماری اینٹی کرپشن یونٹ کو ان کی ملاقاتوں کا علم ہوگیا تھا۔ اس لیے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے انہیں واپس بھیج دیا گیااور کھلاڑیوں نے بھی غلطی تسلیم کی ہے۔ عرفان کو صحیح بات کا علم نہیں تھا ۔ خالد لطیف اور شرجیل خان نے ملاقات کی سیکورٹی افسران کو اطلاع نہیں کی۔ناصر جمشید اور بکی یوسف کے خلاف انگلینڈ میں کرمنل کیس درج کرلیا گیا ہے اور کھلاڑیوں کے اب بیان ریکارڈ کیے جائیں گے۔ البتہ تمام معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ٹریبونل سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ماضی میں بھی اس حوالے سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے اگر ماضی میں سخت ایکشن لیے جاتے تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا۔ اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جانا چاہیے۔ چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ فاٹا بلوچستا ن اور آزاد جموں کشمیر میں کھیلوں کی طرقی کے لیے ترجیح دی جارہی ہے۔

قائمہ کمیٹی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی پانچ سالہ آمدن اور اخراجات کی تفصیلات سے آگا ہ کیا گیا۔ جس پر سینیٹر چوہدری تنویر خان نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو ایس او پی کی کاپی ، ٹی وی رائٹس کی کاپی ، بولی کی فیس اور کتنے پیسے وصول ہوئے،ادارے کی پراپرٹی کے کرایے کی آمدن ، کتنے اثاثے فروخت کیے گئے ، انتظامی ا خراجات وغیرہ کی تفصیلات تحریری طور پر فراہم کی جائیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بارویں ساؤتھ ایشین گیمز انڈیا کے شہر وں گوہاٹی اور سی لانگ میں 3فروری سے 16فروری 2016کو منعقد ہوئی تھی۔ پاکستان میں یہ دو دفعہ ہوچکی ہے ، نیپال کے بعد پاکستان میں پھر ہوگی۔ حکومت کی منظوری سے پاکستان کے 417کھلاڑیوں اور 8افسران نے شرکت کی تھی۔ سینیٹر روزی خان کاکڑ نے پاکستان سپورٹس بورڈ میں ڈیلی ویجز ملازمین کی تعداد اور خریدے گئے جوتوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی سفارش کی ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ پرانے جوتے بھی نئے جوتے کے ساتھ خریدے گئے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کے آج اجلاس میں سینیٹرز سردار محمد اعظم خان موسی ٰ خیل، سعود مجید ، روزی خان کاکڑ اور چوہدری تنویر خان کے علاوہ وزیر بین الصوبائی ریاض پیرزادہ ، سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ و دیگراعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

مزید : صفحہ اول


loading...