فوجی عدالتوں پرتحفظات برقرارقانونی اصلاحات کے بغیر فائدہ نہیں ،عمران خان

فوجی عدالتوں پرتحفظات برقرارقانونی اصلاحات کے بغیر فائدہ نہیں ،عمران خان

اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہاہے کہ پانامہ کیس میں تحریک انصاف نے اپنافرض اداکردیا،اب فیصلہ عدالت کریگی،قبائلی عوام کوجائزحقوق اورسیاسی طاقت فراہم کرکے قبائلی علاقہ جات میں امن اورترقی لائی جاسکتی ہے ،ماضی کی طرح نظراندازکیاگیاتودہشتگرددوبارہ قابض ہوسکتے ہیں ،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لیڈرشپ کافقدان ہے اوروزیراعظم ترکی میں بیٹھ کرجنگ لڑرہے ہیں ۔جمعہ کے روزنجی ٹی وی کوانٹرویومیں انہوں نے کہاکہ نوازشریف کواندازہ ہی نہیں تھاکہ پانامہ کامعاملہ عدالت تک جائے گا،حکومتی وزراء پارلیمنٹ میں ایک اورعدالت میں دوسری کہانی بیان کرتے ہیں ۔وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں ایک بیان دیااورسپریم کورٹ میں دوسرامتضادبیان دینے کے بعدوزیراعظم صادق اورامین نہیں رہے ،وزیراعظم کاجھوٹ ثابت ہوجائے توانہیں عہدے پررہنے کاکوئی حق نہیں ہے ۔تحریک انصاف نے اپنافرض اداکیااورپانامہ کیس کوسپریم کورٹ تک لے کرگئی ہے اب عدالت فیصلہ کریگی ۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف کومعلوم ہے کہ ان پرلگے تمام الزامات سچے ہیں ،اس لئے انہوں نے آئی سی آئی جے کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی ،نوازشریف نے 2016ء سے پہلے بیرون ملک پراپرٹی کااعتراف ہی نہیں کیا۔اورنہ ہی الیکشن کمیشن میں اپنے فلیٹ کی خریدوفروخت کی دستاویزات جمع کرائیں ۔پانامہ کیس سے پہلے ٹی وی انٹرویومیں مریم نوازنے بیرون ملک میں پراپرٹی کی ملکیت سے انکارکیاتھا۔ملک کاوزیراعظم ہونے کایہ مطلب نہیں کہ ملک میں لوٹ کھسوٹ شروع کردی جائے ۔عمران خان کاکہناتھاکہ خیبرپختونخواہ میں جتنی تحریک انصاف نے قانون سازی کی اتنی قانون سازی پورے ملک کے کسی بھی صوبے میں نہیں ہوئی ۔تحریک انصاف واحدسیاسی جماعت ہے ،جس نے پولیس کوسیاست سے آزادکیااوران کوطاقت دی ،سیاسی آزادی ملنے پرپولیس نے شاندارکارکردگی دکھائی ،جس کے باعث تنگی میں دہشتگردوں کازبردست مقابلہ کیااوران کوشکست دی ۔کے پی کے احتساب کمیشن کی کارکردگی کی وجہ سے صوبے میں کرپشن بہت کم ہوئی ہے ۔سرکاری اہلکارکرپشن کرنے سے خوف کھاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام کے مستقبل کافیصلہ ان سے مشاورت سے ہی کیاجائیگا،قبائلی علاقوں میں امن وترقی کیلئے قبائلی علاقے کے لوگوں کے ساتھ مشاورت کرکے وہاں مدرسہ اصلاحات لائی جائیں ۔قبائلی علاقہ جات میں بلدیاتی الیکشن کرائیں اورطاقت وہاں کے عوام کودیدیں تیزی سے قبائلی علاقوں میں ترقی ہوگی۔اگرقبائلی علاقوں کوماضی کی طرح نظراندازکیاجاتاہے تووہاں پھرسے دہشتگردقابض ہوسکتے ہیں ۔عمران خان نے کہاکہ ملک میں آئے روزدہشتگردی کے واقعات ہورہے ہیں اوروزیراعظم ترکی میں بیٹھ کردہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں ۔نوازشریف کے پاس دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے کوئی پلان نہیں ،دہشتگردی کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ،دہشتگردی کے خاتمے کیلئے لیڈرشپ کافقدان ہے ،اگرمیں وزیراعظم ہوتاتودہشتگردی کے خاتمے کیلئے سب کوساتھ مل کرروڈمیپ تیارتا۔ہمارے فوجی عدالتوں پرتحفظات برقرارہیں ،قانونی اصلاحات کے بغیرملٹری کورٹس کافائدہ نہیں ہوگا۔

مزید : صفحہ اول


loading...