اداروں کی اصلاح اور حقداروں کو اس کا حق دینے کیلئے کھڑے ہیں:پرویز خٹک

اداروں کی اصلاح اور حقداروں کو اس کا حق دینے کیلئے کھڑے ہیں:پرویز خٹک

پشاور( سٹاف رپورٹر )وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر تعمیراتی کا م کا آغاز کرنے اور اسکی کم سے کم مدت میں تکمیل کیلئے تمام لوازمات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔ منصوبے کی تیز رفتار تعمیر کیلئے ٹائم لائنز کا تعین کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبے کے تینوں پیکیجز کاٹینڈر30 اپریل تک جاری ہوجانا چاہئے۔ پہلے دو پیکیجز کا ٹینڈر15اپریل جبکہ تیسرے پیکیج کا ٹینڈر 30 اپریل تک یقینی بنایا جائے۔پراجیکٹ کی ایوالوشن 8 دنوں میں اور کنٹریکٹ سائٹ پر موبیلائزیشن15 دن میں یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے پی ڈی اے کو ہدایت کی کہ ایف ڈبلیو او کے شروع کردہ یو ٹیلیٹیز اور سروس روڈ کی تعمیر نو کے مرحلے کو تیز رفتاری کے ساتھ مکمل کیا جائے ۔ کسی بھی رکاوٹ یا مشکل کی صورت میں فوراً آگاہ کریں۔ منصوبے کو ایک چیلنج سمجھ کر کام کریں۔پر اگراس کے عمل میں تیز رفتاری نظر آنی چاہئے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیف سیکریٹری عابد سعید، ایڈیشنل چیف سیکریٹری اعظم خان، محکمہ ٹرانسپورٹ اور خزانہ کے انتظامی سیکریٹریوں، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے، سٹرٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے نمائندوں اور منصوبے کے کنسلٹنٹس نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو منصوبے کی تعمیر کیلئے عملی اقدامات پر پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کیلئے چمکنی، ڈبگری اور حیات آباد میں تین ڈپو قائم کئے جائیں گے۔ اس مقصد کیلئے حیات آباد میں 30 کنال اراضی درکار تھی جس کا انتظام کیا جا چکا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے چمکنی ٹرمینل کی زمین کا حصول تیز کرنے اور کمرشل لائن پر بلڈنگ اور دیگر سرگرمیاں تیز رفتاری کے ساتھ پلان کرنے کی ہدایت کی۔ 70کروڑ روپے زمین کے حصول کے لئے مختص کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے باقی ما ندہ مطلوبہ اراضی کا حصول بھی جلد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کے لئے 380 ائرکنڈیشنڈبسوں کا انتظام کرنا ہے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے کو کمرشل بنیادوں پر تعمیر کیا جائے اور پارکنگ پلازے بنائے جائیں اور کنٹریکٹ کھلے مقابلے کے ذریعے ایوارڈ کئے جائیں ۔ ٹائم لائنز پر عمل درآمد یقینی ہونا چاہیئے اور ادائیگی کا طریق کارشفاف ہونا چاہیئے ۔ پی ڈی اے اس پراجیکٹ کے لئے علیحدہ سپیشل ٹیم رکھے ۔ مالی اور بلنگ آفس قائم کرلیں اور ہر شعبے کیلئے علیحدہ ونگ بنا لیں۔پراجیکٹ کی تیز تر تکمیل کیلئے تعمیر اتی کا م تین شفٹوں پر مشتمل دن رات سروس ہونی چاہیئے ۔ تمام معاملات خوش اسلوبی سے چلنے چاہئیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ چمکنی، حیات آباد اور ڈبگری میں بس ڈپو اور شاپنگ پلازے بھی بنائے جائیں جہاں بس پارکنگ ، ورکشاپ اور دیگر سہولیات دستیاب ہوں گی ۔ انہوں نے کہاکہ 40 ارب روپے کی مجوزہ لاگت سے یہ منصوبہ پشاور کی ٹریفک کے مسئلے کا کل وقتی حل ہے۔پراجیکٹ 8 روٹس کو باہم مربوط کرے گا۔ پشاور میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کے تناظر میں اس منصوبے کی جلد تکمیل ہمارے لئے ایک چیلنج ہے۔ کم سے کم وقت میں اس منصوبے کو گراؤنڈ پرلانا اور کم سے کم وقت میں مکمل کرنا ہے۔ ایک سال سے عوام کی نظریں اس منصوبے پر لگی ہیں۔ منصوبے کے تحت بس سٹیشنوں ، پارکنگ پلازوں، مسافروں کی سہولیات، ہوٹل اور کمرشل سرگرمیوں کے خاطر خواہ انتظامات ناگزیر ہیں۔پراجیکٹ کے تحت کمرشل سرگرمیوں سے کمپنی کو اپنے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی ۔ پشاور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ناظم اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو ہوں گے ۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک اس منصوبے کیلئے مالی معاونت فراہم کرے گا۔ اس کو ایک قابل عمل منصوبہ کے طور پر گراؤنڈ پر لانا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ حتمی مائل سٹون پر پہنچنے سے قبل جو رکاوٹیں ہیں دور کریں مقررہ اہداف کو مقررہ وقت میں حاصل کریں تاکہ پراجیکٹ میں تاخیر ی عوامل سر نہ اُٹھا سکیں۔ ایک وقت کے خرچ کے بعد اس کے لئے حکومت کو سبسڈی نہیں دینا پڑے گی۔پراجیکٹ میں سبسڈی کا تصور ہے ہی نہیں یہ منصوبہ خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا ۔ اس منصوبے کو وہ خود ہر فورم پر منظو ر کرائیں گے ۔ تمام لوازمات کو حتمی شکل دے کر منصوبے کی تعمیر کی طرف عملی قدم نظر آنا چاہیئے۔ اس منصوبے کی بروقت اور معیاری تعمیر وقت کا تقاضا بن چکی ہے۔

پشاور( سٹاف رپورٹر )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے سابق ایم پی اے ضلع کوہستان محمود عالم کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو عوام نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیا تھا ۔ تحریک انصاف گزشتہ اڑھائی تین سالوں سے نظام کی تبدیلی ، اداروں کی اصلاح اور حقدار کو اُس کا حق دینے کیلئے کھڑی ہے۔صوبائی حکومت نے اپنے ہر فیصلے میں عام آدمی کو مد نظر رکھا ۔یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف پر عوام کا اعتماد روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔انہوں نے ہمیشہ عوامی فلاح کی سیاست کی ہے اور اُنہیں پتہ ہے کہ غریب آدمی کے مسائل کیا ہیں۔اُسے کہاں کہاں پریشانی درپیش ہوتی ہے ۔ امیر آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اُس کے پاس دولت، سفارش اور بہت سے طریقے ہوتے ہیں جن سے وہ کام نکال لیتا ہے مگر غریب کیلئے ہمیشہ مسائل ہوتے ہیں۔ ہم نے غریب آدمی کو انصاف دینے ، حقدار کو اُس کا حق دینے ، میرٹ کی بالاد ستی ، اداروں میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کیلئے ریکارڈ قانون سازی کی ۔ ہم نے ایک مضبوط بنیاد ڈال دی ہے اسے مزید مضبوط کرنا ہے ۔ہم لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں اور وسائل عام آدمی کی فلاح میں خرچ کر رہے ہیں۔ اصلاحات کے اس عمل میں عوام کا تعاون درکار ہے جہاں کہیں غلط کام دیکھیں اُس کی رپورٹ دیں ۔اُس کا حساب کتاب حکومت کرے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ضلع کوہستان تحصیل داسو کے100 رکنی نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایم پی اے مولانا عصمت اﷲ، ایم پی اے شوکت یوسفزئی ، تحریک انصاف کے ڈویژنل صدر زرگل خان ، سابق ایم این اے گلگت بلتستان حمایت اﷲ خان ،روزی خان ایڈوکیٹ ، تحصیل ناظم داسو نور ولی شاہ اور تحصیل داسو کے عمائدین اس موقع پر موجود تھے ۔سابق ایم پی اے محمود عالم نے اپنے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلز پارٹی سے مستعفی ہو کر پاکستان تحریک انصاف میں بلا مشروط شمولیت کا اعلان کیا ۔ واضح رہے کہ محمود عالم کے بھائی ڈاکٹر سیف الرحمن ضلع ناظم بھی رہ چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے محمود عالم کو خاندان اور ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے کے فیصلے کا خیرمقد م کیا اور کہاکہ اُن کا یہ فیصلہ درست ثابت ہو گا ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ انکی حکومت کے جملہ اقدامات ، اصلاحات اور قوانین سازی کے عمل میں عام آدمی کی فلاح کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں ہماری بھر پور کوشش رہی ہے کہ عام آدمی کو صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات میسر ہوں۔ تھانے میں اس کو عزت ملے، حقدار کو اس کا حق ملے ، غریب کیلئے آسانیاں پید اہوں ۔ یہی تبدیلی ہے جس کیلئے ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ انہوں نے اداروں سے سیاسی مداخلت ختم کی ۔ اختیارات اداروں کو منتقل کئے۔خدمات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو توڑا۔ صوبائی محکموں میں آزاد اور با اختیار بورڈز بنائے جن میں پرائیوٹ سیکٹر کو بھر پور نمائندگی دی۔ یہ حکومت کے تاریخی اقدامات ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ پرویز خٹک نے کہاکہ ماضی کی کسی حکومت نے اپنے اختیارات نہیں دیئے مگر ہم نے تمام اختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے۔ ترقیاتی بجٹ کا تیس فیصد مقامی حکومتوں کو دیا۔ حکومت نے ایک سسٹم دے دیا ہے۔ جو اس سسٹم کو سمجھنے کی کوشش کرے گااس کو فائدہ ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انکی حکومت نے نا انصافی ، میرٹ کی خلاف ورزی، کرپشن کے خلا ف ادارے بنا دیئے ہیں جوڈیلیور کر رہے ہیں۔ ان قوانین سے عوام کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ظلم اور نا انصافی کے چنگل سے نکل سکیں ۔ اصلاحاتی اقدامات کے نتائج حاصل کرنے کیلئے عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔ عوام قوانین کی خلاف ورزی اور نا انصافی کی صورت میں متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔ اینٹی کرپشن، احتساب کمیشن اور شکایات سیل جیسے اہم فورمز موجود ہیں۔ خدمات بروقت فراہم نہ کرنے پر ذمہ دار کو جیب سے جرمانہ دینا پڑے گا

پشاور( سٹاف رپورٹر ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے حلقہ PK-29 مردان میں جاری ترقیاتی سکیموں کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رستم کو آئندہ اے ڈی پی میں کیٹگری سی کا درجہ دینے جبکہ کاٹلنگ ہسپتال کے لئے درکار اراضی کا فوری طور پر مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی۔ وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں حلقہ PK-29 ضلع مردان میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ ممبر صوبائی اسمبلی طفیل انجم، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122، کمشنر مردان، ڈی سی مردان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے حلقہ PK-29میں جاری سکیموں کی پراگرس طلب کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رستم کو کیٹگری ڈی تک اپ گریڈ کیا گیا ہے جس پر کام جاری ہے جون تک ہسپتال مکمل کیٹگری ڈی ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے آئندہ بجٹ میں اس ہسپتال کو کیٹگری سی کا درجہ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تحصیل کاٹلنگ کی عمارت 31مارچ تک مکمل کرکے متعلقہ حکام کے حوالے کرنے جبکہ کاٹلنگ میں ریسکیو 1122کے لئے اراضی کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مین کنال روڈ کی تعمیر و مرمت کے لئے فنڈز کا مسئلہ بھی جلد حل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ رستم پریس کلب کے لئے سمری محکمہ خزانہ کو بھیج دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مذکورہ سمری جلد پہنچانے اور حلقہ PK-29 کے دس دیہات کو بجلی کی فراہمی پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو اس سلسلے میں بتایا گیا کہ مذکورہ دیہات کو بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر مارچ میں ٹینڈر ایوارڈ ہوں گے اور مارچ کے آخر تک کام شروع کر دیا جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...