ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھا نے والے کو دہشت گرد سمجھ کر کارروائی کی جائے، فضل الرحمن

ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھا نے والے کو دہشت گرد سمجھ کر کارروائی کی جائے، فضل ...

اسلام آباد (آئی این پی) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف جو بھی ہتھیار اٹھائے اسے دہشت گرد سمجھ کر کارروائی کی جائے۔ تحریک انصاف فوجی عدالتوں کے معاملے پر مذہبی طبقے کو ریاست کے مقابلے پر لانیکی کوشش نہ کرے‘ اسٹیبلشمنٹ کے کسی مذہب اور مسلک کے خلا ف ہونے کی رپورٹ نہیں ملی‘۔مذہب اور ریاست کو مقابلے میں لانا ملکی مفاد کے خلاف ہے‘ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی بنائی ہوتی تو آج فوجی عدالتوں کی کارکردگی کے حوالے سے ہونے والے سوالات پیدا نہ ہوتے‘ دہشت گردی کو مذہب اور فرقے سے جوڑنا درست نہیں ‘ ریاست کے خلاف جو بھی ہتھیار اٹھائے اسے دہشت گرد سمجھ کر کارروائی کی جانی چاہئے‘ برادریوں کے درمیان عدم اعتماد اور چھوٹی قوموں میں عدم تحفظ پیدا کرنا قو میت نہیں‘ پارلیمنٹ اور تمام سیاسی جماعتیں راضی ہیں تو فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کو کراہت اور ناپسندیدگی کے ساتھ قبول کرنے کو تیار ہیں‘ مذہب اور مسلک کو انسداد دہشت گردی قانون سے علیحدہ نہ کیا گیا تو حمایت نہیں کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر ہمیں پہلے بھی تحفظات تھے اب بھی ہیں۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر پر دو سوال پیدا ہوتے ہیں کہ کیا موجودہ صورتحال میں نیشنل ایکشن پلان کی ضرورت بڑھ گئی ہے یا نیشنل ایکشن پلان ناکام ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا فوجی عدالتوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے یا فوجی عدالتیں ناکام ہوچکی ہیں۔جے یو آئی ف کا واضح موقف ہے کہ سارے قانون کو مذہب اور فرقوں کے ساتھ وابستہ کیا جارہا ہے اگر ایسا کیا جاتا ہے تو ہم ایسے کسی قانون کو تسلیم نہیں کریں گے۔ہمیں امن چاہئے پوری پارلیمنٹ اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ہونی چاہئے تو ہم مخالفت نہیں کریں گے۔ مذاہب فرقوں کو ریاست کے مقابل لانا ریاست کی نفی اور ملکی مفاد کے منافی ہے ہر مکتبہ فکر کے مدارس آئین‘ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے ساتھ ہیں تاہم کسی داڑھی والے کو پکڑ کر یا کسی کو چارپائی سے اٹھا کر یہ پیغام کیوں دیا جارہا ہے کہ ریاست ان کے ساتھ نہیں ہے ریاست کو ان کے مقابلے میں لاکھڑا کیا جارہا ہے ایسا لب و لہجہ اختیار کیا جارہا ہے جس سے لگتا ہے جیسے ریاست کو مذہبی طبقے سے لڑانے کی سازش کی جارہی ہو ہم کسی قیمت پر بھی اس سازش کو ناکام نہیں ہونے دیں گے۔ ملک میں امن کے لئے سب ایک پیج پر ہیں سب ساتھ مل کر چلیں تاہم قانون میں کسی متنازعہ لفظ کا استعمال نہیں ہونا چاہئے

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...