کراچی کا اصل رنگ آئند6ماہ میں نظرآئے گا ،جام خان شورو

کراچی کا اصل رنگ آئند6ماہ میں نظرآئے گا ،جام خان شورو

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو نے کہا ہے کہ کراچی کا اصل رنگ شہریوں کو آئندہ 6 ماہ میں نظر آنا شروع ہوجائے گا۔ کراچی کے عوام کو موجودہ ترقیاتی کاموں کے باعث درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور جلد تمام ترقیاتی کاموں کو مکمل کرالیا جائے گا۔شارع فیصل پر دونوں ٹریک پر سڑک کی ازسر نو تعمیر کا کام جون 2017 تک مکمل کرلیا جائے گا۔جلد ہی کراچی کے عوام کو لیاری ایکسپریس وے کی طرز پر ملیر ایکسپریس وے کا تحفہ دیں گے ساتھ ہی سب میرین چورنگی، راشد منہاس روڈ، ناتھا خان سمیت متعدد مقامات پر انڈر پاسز اور اوور ہیڈ پل کی تعمیر جلد شروع کی جارہی ہے۔ شہر میں جاری ترقیاتی کاموں پر دن رات کام جاری ہے اور اس کی مکمل مانیٹرنگ میں خود کررہا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ شب شارع فیصل پر جاری سڑک کی تعمیر کے کام کا اچانک معائنہ کرنے کے دوران وہاں موجود میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کراچی ترقیاتی پیکج کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو، پروجیکٹ مینجر شارع فیصل ایاز علی شئیر، منظور برنی اور دیگر بھی موجود تھے۔ وزیر بلدیات سندھ نے روڈ کی کارپیٹنگ کے معیار پر مذکورہ افسران سے تفصیلی بریفنگ لی اور انہیں سڑک کی جلد سے جلد اور ٹریفک کی روانی میں خلل نہ پڑے اس کی خصوصی ہدایات دیں۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو نے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں 22 سے زائد مقامات پر ترقیاتی کاموں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور وہ خود ان تمام کاموں کی مانیٹرنگ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شارع فیصل اس شہر کی شہ رگ ہے اور اس کی توسیع کے ساتھ ساتھ اسے انٹرنیشنل معیار پر بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شارع فیصل پر میٹروپول سے اسٹار گیٹ پر دونوں اطراف 27 کلومیٹر کی سڑک بنائی جارہی ہے اور اس پر کم و بیش 933 ملین روپے کی لاگت آئے گی اور یہ جون 2017 تک مکمل کرلی جائے گی اور اس کے تمام اخراجات سندھ حکومت ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سڑک اعلیٰ معیار کی سڑک ہوگی اور اس کے لئے کراچی میں پہلی بار 36 فٹ چوڑی کارپیٹنگ مشین کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جام خان شورو نے کہا کہ کراچی کے عوام 6 ماہ کے بعد کراچی کو اس کے اصل رنگ میں دیکھنا شروع کردیں گے اور ہماری موجودہ سندھ حکومت پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر کراچی میں شب و روز ترقیاتی کاموں پر اپنی مکمل توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی کراچی کے عوام کو لیاری ایکسپریس وے کی طرز پر ملیر ایکسپریس وے کا تحفہ دیں گے ساتھ ہی سب میرین چورنگی، راشد منہاس روڈ، ناتھا خان سمیت متعدد مقامات پر انڈر پاسز اور اوور ہیڈ پل کی تعمیر جلد شروع کی جارہی ہے۔ جام خان شورو نے کہا کہ ہمیں عوام کو موجودہ درپیش مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لئے دن رات کام کیا جارہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ ہم نے بجٹ میں کراچی کے عوام سے جو وعدے کئے تھے اس کو تو پورا کررہے ہیں اس کے علاوہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر 10 ارب روپے کے کراچی پیکج پر بھی تیزی سے کام جاری ہے ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی کراچی کے لئے اربوں روپے کے ترقیاتی کاموں کے لئے رقم مختص کی جارہی ہے اور انشاء اللہ ہم کراچی کے عوام کو روشنیوں کا شہر واپس کرنے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔ صفائی ستھرائی، پانی اور سیوریج کے مسائل کے سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی کے دو اضلاع ساؤتھ اور ایسٹ میں صفائی کا ٹھیکہ چائنا کی ایک کمپنی کو دے دیا گیا ہے اور اس کی مشینری بھی کراچی پہنچ گئی ہے اور آئندہ چند روز میں یہ ان اضلاع میں اپنا کام شروع کررہی ہے جبکہ پانی کی کمی سے نبردآزما ہونے کے لئے K-4 ، کے ساتھ ساتھ دیگر 100 اور 65 ملین گیلن یومیہ پانی کے اضافے کے منصوبوں پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ سیوریج کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے واٹر بورڈ میں ایمرجنسی نافذ کرکے سیوریج پر کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی ازسر نو تعمیر سے قبل وہاں اسٹرانگ واٹر ڈرین نظام بنایا جارہا ہے تاکہ مستقبل میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جاری ترقیاتی کاموں کی وزیر اعلیٰ سندھ، محکمہ بلدیات کے علاوہ مختلف ایجنسیاں پر مانیٹرنگ کررہی ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ کراچی میں سڑکوں کا اب جو نیٹ ورک بنے وہ سالہا سال کے لئے ہو اور عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ اس موقع پر نیاز سومرو نے میڈیا کو بتایا کہ شارع فیصل پر ایف ٹی سی سے کارساز تک کا کام 30 مارچ تک جبکہ مکمل اسٹار گیٹ تک 30 جون 2017 تک سڑک کے دونوں اطراف کو مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر متبادل راستہ بنا کر دن رات کام کیا جارہا ہے جبکہ جہاں متبادل راستہ ممکن نہیں وہاں اس طرح کے انتظامات کئے گئے ہیں کہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...