لنڈی کوتل بازار کی بندش قبائلی عوام کا معاشی قتل ہے ،سردار خان

لنڈی کوتل بازار کی بندش قبائلی عوام کا معاشی قتل ہے ،سردار خان

خیبر ایجنسی ( بیورورپورٹ)26,27,28 کو جماعت اسلامی کا دھرنا ایک کروڑ قبائلی عوام کو ایف سی آر کی قید سے نجات دلانے کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا ، طورخم بارڈر اور لنڈی کوتل بازار کی بندش قبائلی عوام کا معاشی قتل عام ہے ، فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے سے ترقی کی نئی راہیں کھل جائینگی ، لاہور کے دھماکے کو باجوڑ سے نتھی کرنا سازش ہے ، قبائلی عوام کو تمام تر بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ، جماعت اسلامی فاٹا کے امیر سردار خان کی لنڈی کوتل میں پریس کانفرنس سے خطاب ۔ جماعت اسلامی فاٹا کے امیر سردار خان نے جماعت اسلامی خیبر ایجنسی کے رہنماؤں کے ہمراہ لنڈی کوتل پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان سے قبائلی عوام کو ایک سازش کے تحت تمام تر بنیادی انسانی ، سیاسی ، جمہوری، آئینی، قانونی ، معاشی اور تعلیمی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پورے فاٹا میں نہ کوئی میڈیکل کالج ہے اور نہ ہی کوئی یونیورسٹی بنائی گئی ہے اور ایک سازش کے تحت قبائلی عوام کو پسماندہ رکھا گیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے جماعت اسلامی فاٹا کے امیر سردار خان نے کہا کہ دو نومبر 2015 کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے جرگے میں تمام تر قومی سیاسی قیادت اور قبائلی عوام نے بیک زبان حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فاٹا سے ایف سی آر ختم کر کے یہاں اصلاحات کی جائے اور فاٹا کو صوبے میں ضم کیا جائے جس کے ایک ہفتہ بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سرتاج عزیر کی سربراہی میں اصلاحات کمیٹی بنائی جس نے تمام تر قبائلی علاقوں کے دورے کر کے قبائلی عوام کی رائے جان کر ایک مؤثر اور جامع رپورٹ بنا کر حکومت کے سامنے پیش کی لیکن انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ کابینہ کے اجلاس سے فاٹا اصلاحات کو ایجنڈے سے نکال کر تعصب اور بد نیتی کا مظاہر کیا اس لئے جماعت اسلامی نے ، چھبیس، ستائیس اور آٹھائیس فروری کو پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے آئین اور قانون کے تحت ایک عظیم الشان اور پرامن دھرنا دینے کا فیصلہ کیا انہوں نے کہا کہ اس دھرنے میں سیاسی جماعتوں کے قائدین ، قبائلی اراکین پارلیمنٹ، قبائلی میڈیا کے نمائندوں، سماجی تنظیموں ، تمام مکاتب فکر اور عام قبائلی عوام کو بھر پور شرکت کی دعوت دی ہے اور یہ دھرنا فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے ، فاٹا میں جامع اصلاحات اور ایف سی آر کے خاتمے کے لئے سنگ میل ثابت ہو گا انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ تمام تر قبائلی عوام متحد ہو کر اس ظالمانہ نظام کے خاتمے کے لئے سیاسی جدوجہد کا آغاز کرے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ حکمرانوں نے ایک کروڑ سے زیادہ قبائلی عوام کو قید میں رکھ کر ان کو غربت اور پسماندگی کی طرف دھکیل دیا ہے جس سے نجات کے لئے جماعت اسلامی نے تحریک کا اغا ز کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ بارہ مارچ کو اسلام آباد میں دئے جانے والے سیاسی اتحاد کے دھرنے میں بھی بھر پور شرکت کرینگے انہوں نے کہا کہ پورے فاٹا میں کوئی میڈیکل اور انجنئیرنگ کالج نہیں اور جو برائے نام یونیورسٹی قائم کی گئی ہے اس کی حالت زار پر ترس آتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...