کنزیومر آئٹمز کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن عائد موٹر سائیکل، گاڑیاں، موبائل، سگریٹ مہنگے ہونے کا امکان

کنزیومر آئٹمز کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن عائد موٹر سائیکل، گاڑیاں، ...
کنزیومر آئٹمز کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن عائد موٹر سائیکل، گاڑیاں، موبائل، سگریٹ مہنگے ہونے کا امکان

  


لاہور (ویب ڈیسک) سٹیٹ بنک نے کنزیومر آئٹمز کی درآمد کیلئے 100 فیصد کیش مارجن عائد کر دیا۔ سٹیٹ بنک کا کہنا ہے کہ 100 فیصد کیش مارجن عائد کرنے کا مقصد ان مصنوعات کی درآمد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ موٹر سائیکل، گاڑیوں، موبائل فون، سگریٹ کی درآمد پر 100 فی صد کیش مارجن ہو گا۔

سونے کی قیمت میں 600 روپے کا اضافہ ، فی تولہ 51 ہزار 500 روپے کا ہوگیا

کاسمیٹک، گھریلو برقی آلات کی درآمد پر بھی 100 فیصد کیش مارجن دینا ہو گا۔ امپورٹرز کو پہلے پوری رقم کا بندوبست کرنا ہو گا۔ امپورٹرز کا کہنا ہے کہ پرتعیش اشیاءکی قیمت 5 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔ 100 فیصد کیش مارجن کی شرط ان اشیا کے لیے تجویز کی گئی ہے جیسے موٹر وہیکل (الگ الگ پرزوں کی شکل میں اور مکمل ساختہ یونٹ، دونوں)، موبائل فون، سگریٹ، جیولری، بناﺅ سنگھار کی اشیا، ذاتی استعمال کی اشیا، برقی اور گھریلو آلات، اسلحہ اور گولہ بارود وغیرہ شامل ہیں۔ سٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ اس ضوابطی اقدام سے ان اشیائے سرمایہ کی درآمد کے لیے گنجائش پیدا ہوگی جونمو میں مددگار ہوتی ہیں۔

مزید : لاہور


loading...