پانامہ کیس سے آپریشن رد الفسادتک

پانامہ کیس سے آپریشن رد الفسادتک
پانامہ کیس سے آپریشن رد الفسادتک

  


تحریر: محمد عرفان چودھری

آج کل پاکستان کی فضاء خاصی سوگوار ہے جس کی بنیادی وجہ آئے دن پاکستان میں ہونے والے بم دھماکے ہیں جن کی وجہ سے ایک محتاط اندازے کے مطابق سال 2016 ؁ء میں تقریباََ 367 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 1200 سے زائد افراد زخمی ہوئے پاکستان کے مختلف شہر بم دھماکوں سے گونجتے رہے اور تقریباََ پاکستان میں 16 بڑی نوعیت کے دھماکے ہوئے جن میں خود کش ، نصب شدہ اور دوسرے مختلف اقسام کے دھماکے ہوئے ایک طرف تو ملک پاکستان میں اندرون خانہ جنگ لگی ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب سرجیکل سٹرائیک کے نام پر دوسرے ملکوں نے جنگ چھیڑی ہوئی ہے اور آئے روز بلا اشتعال سرحدوں پر فائرنگ کر کے نہتے شہریوں کو شہید کیا جا رہا ہے اور ہر بار ان بم دھماکوں اور دہشت گردی کو مختلف عنوان دیے جاتے ہیں کبھی پانامہ کو لے کر ملک میں فساد کروائے جا رہے ہیں اور کبھی پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کو جواز بنایا جارہا ہے ۔محرکات جو بھی ہوں نقصان پاکستان کی عوام کا اور پاکستان کی معشیت کا ہو رہا ہے اور حکمران خواہ وہ حکومتی نمائندے ہوں یا حزب اختلاف والے پارلیمنٹ میں شورو غوغا مچا رہے ہیں کوئی کرسی کا ورد کر رہا ہے تو کوئی پانامہ میں پھنسے اپنے سینگ نکال رہا ہے ، کوئی پاکستان سے باہر بیٹھا نا حق قتل ہوئے لوگوں کا قصاص مانگ رہا ہے تو کوئی دھرنے پے دھرنا دیے جا رہا ہے کسی کو بھی ملک پاکستان کی اور پاکستانی عوام کے تحفظ کی فکر نہیں فکر ہے تو بس اپنی اور جب حکمران عوام کی فلاح کا کام چھوڑ کر اپنے مفاد میں لگے رہیں تو پھر دشمنوں کو کھلی آزادی ہوتی ہے کہ وہ سرجیکل سٹرائیک کرے یا کسی کوگھر کے اندر گھس کر مارے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی حکمران اپنے چکروں میں لگے ہوئے ہیں اور اُن کی جانب کوئی دھیان نہیں دے گا ۔

پاکستان میں دہشت گردی کی روداد بہت پرانی ہے ہر دور میں دہشت گرد آئے بم دھماکے کئے ذمہ داری قبول کی اور پھر حکومت کی جانب سے نقصان کروانے کے بعد اُن دہشت گردوں کے خلاف تیغ آزمائی شروع کر دی گئی ۔پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو سرحد پار سے جوڑا جاتا ہے اس سلسلے میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے جون 2014 ؁ء میں پاک فوج نے ضرب عضب کے نام سے مختلف دہشت گرد تنظیموں جن میں تحریک طالبان پاکستان، اسلامی تحریک ازبکستان، اسلامی تحریک مشرقی ترکستان، لشکر جھنگوی، القاعدہ جنداللہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف تیس ہزار فوجی جوانوں کے ذریعے آپریشن شروع کیا جو کہ وزیر ستان کے علاقے میں ابھی بھی جاری ہے اور ابھی تک دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔

ذرائع کے مطابق وزیرستان کا صرف پانچ فیصد علاقہ کلیئر ہونا باقی ہے جبکہ بڑے حصے پر پاک فوج نے اپنا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس کے علاوہ امسال نئے سورج کے ساتھ ہی پاکستان میں سابق جنرل راحیل شریف کی پاک فوج سے رخصتی کے ساتھ ہی دہشت گرد پھر سے اپنی بلوں سے باہر آ گئے ہیں اور 2017 ؁ء کے اوائل ہی سے دہشت گرد ایک بار پھر سے سرگرم ہو گئے ہیں جنہوں نے جنوری سے لے کر اب تک تقریباََ دس بم حملے کئے جس کے نتیجے میں پچاس سے زائد ہلاک جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہو ئے اور ان نئے حملوں میں لاہور کے علاقہ مال روڈ چیئرنگ کراس پر خود کش حملے کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر) احمد مبین صاحب اور ایس ایس پی زاہد گوندل صاحب نے جامِ شہادت نوش کیا جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم جماعت الاحرار نے قبول کی جس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ حملہ پولیس اہلکاروں پر کیا گیا اور میڈیا پر بہت زور و شور سے دھماکے کے تانے بانے پاکستان میں ہونے والے پی ایس ایل کرکٹ کے فائنل کیساتھ جوڑ دیے گئے ۔اسی طرح سیہون شریف میں لال شہباز قلندر کے مزار پر حملہ کیا گیا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دو بلدیاتی نمائندوں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے اسی طرح خیبر پحتونخوا کے علاقہ چار سدہ کی عدالت میں وکیلوں کو نشانہ بنایا گیا اور حال ہی میں لاہور کے معروف علاقے ڈیفنس کی کمرشل مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے جس کو ابھی تک بم دھماکہ تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ گیس سلنڈر پھٹنے کا حوالہ دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ افراد لقمہ اجل بنے اور تیس سے زائد زخمی ہوئے جبکہ ذرائع کے مطابق یہ ایک پلانٹڈ بم تھا اور باقاعدہ ایک ریسٹورنٹ میں نصب تھا جس کا افتتاح ہونا تھا اور اس دھماکے میں ریسٹورنٹ کا مالک بھی جاں بحق ہو گیا۔

یہ تمام صورت حال نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کے لئے چیلنجز سے کم نہیں ایک طرف پاکستان سُپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہونے والا ہے اور دوسری طرف پانامہ کیس کا فیصلہ ہو چکا ہے جس کو فی الحال محفوظ کر لیا گیا ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان پانامہ کیس کے تحت نا اہل ہوتے ہیں یا پھر سرخرو اس طرح کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ’’ رد الفساد‘‘ جیسے آپریشن شروع کرنا یقیناََ وقت کی ضرورت ہے اور سندھ، کے۔ پی۔ کے کی طرح پنجاب میں رینجرز تعینات کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا اس کے ذریعے دہشت گردوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے مگر کیا’’ رد الفساد‘‘ صرف ساٹھ دنوں کے لئے ہوگا؟ کیا سندھ کی طرح پھر سے رینجر کو ایکسٹینشن دینے یا نا دینے کا فیصلہ کرنا پڑے گا؟اس بات کو ذہن نشین کرنا ہوگا کہ یہ کومبنگ آپریشن تب تک ختم نا کیا جائے جب تک ملک سے مکمل طور پر دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا،اس کے علاوہ فوری طور پر افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جائے، مردم شماری کروائی جائے تا کہ پاکستان کے جو اصلی شہری ہیں اُن کی اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان و دوسرے غیر ملکی باشندوں میں شناخت کی جا سکے، پاکستان میں کام کرنے والے سفارت خانوں اور ملکی و غیر ملکی این جی اوز کی چھان بین کر کے رجسٹریشن کا عمل پورا کیا جائے تا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا سبب بننے والے محرکات کا جائزہ لے کر اُن کی بیخ کنی کی جا سکے، افغان بارڈر کو تاحیات بند کیا جائے تاکہ دہشت گردوں کے پاکستان میں داخلے کو روکا جا سکے اور سب سے اہم یہ کہ اگر ان بم دھماکوں کا مقصد پی ایس ایل کو روکنا ہے تو حکومت سے گزارش ہے کہ جب تک حالات سازگار نہیں ہوتے پی ایس ایل پر پابندی عائد کر دی جائے کیونکہ ایسے کھیل کا کیا فائدہ جس کی وجہ سے معصوم لوگ بم دھماکوں کا نشانہ بنیں ۔اس کے ساتھ اگر بم دھماکوں کا مقصد پانامہ کیس پر اثر انداز ہونا ہے تو عدالت عظمیٰ سے گزارش ہے کہ پانامہ کا کیس فائلوں میں محفوظ کرنے کی بجائے جلد از جلد باقاعدہ فیصلہ سنائے کیونکہ پاکستانی عوام کو ایسی حکومت بھی نہیں چاہیئے جو کہ عوام کی زندگی کی ضامن ہونے کی بجائے عوام کے گلے کا طوق بن جائے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...