’موسیقی سننے والے لوگ اس شرمناک عادت میں مبتلا ہوجاتے ہیں‘ بالآخر سائنسدانوں نے اعتراف کرلیا، جدید تحقیق میں ایسا انکشاف کہ موسیقی کو روح کی غذا قرار دینے والوں کے ہوش اُڑجائیں گے

’موسیقی سننے والے لوگ اس شرمناک عادت میں مبتلا ہوجاتے ہیں‘ بالآخر ...
’موسیقی سننے والے لوگ اس شرمناک عادت میں مبتلا ہوجاتے ہیں‘ بالآخر سائنسدانوں نے اعتراف کرلیا، جدید تحقیق میں ایسا انکشاف کہ موسیقی کو روح کی غذا قرار دینے والوں کے ہوش اُڑجائیں گے

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) موسیقی کے دلدادہ اسے روح کی غذا قرار دیتے ہیں لیکن سائنسدانوں نے موسیقی کے متعلق ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ اسے روح کی غذا قرار دینے والے اپنا سا منہ لیے رہ جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ ”موسیقی کا ایک انتہائی تاریک پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ خوش کن گانے سننے سے انسان میں لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور وہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہماری تحقیق کے نتائج میں انکشاف ہوا ہے کہ موسیقی کے انسانی روئیے پر انتہائی گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ریپ (Rap) اور میٹل (Matel)جیسی اقسام کی تیز موسیقی انسان کو زیادہ تشدد پسند بناتی ہے۔“

کچھ لوگ سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ بدتمیزی کیوں کرتے ہیں؟ بالآخر سائنس نے اصل وجہ بتادی

اسرائیلی شہر ریشون لی زیون کے کالج آف مینجمنٹ اکیڈمک سٹڈیز کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں سینکڑوں افراد پر تجربات کیے جس میں انہیں مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے مختلف قسم کی موسیقی سنا کر ان کی ذہنی حالت کے تجزئیے کیے گئے۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ناﺅمی زیف کا کہنا تھا کہ ”تحقیقاتی نتائج میںیہ بات ثابت ہوئی ہے کہ تیز موسیقی سننے والے افراد ہر وہ کام کرنے پر رضامند ہو جاتے ہیں جو دوسرے انہیں کہتے ہیں۔ خواہ وہ کام ان کی اخلاقیات کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے لوگوں کو جو بھی پیغام دیا جائے وہ اسے بہت آسانی سے قبول کر لیتے ہیں۔ چنانچہ سیاستدان اور لسانی و دیگر شدت پسند گروہ اس چیز کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور موسیقی کے رسیا افراد سے کوئی بھی متشدد کام آسانی سے کروا سکتے ہیں۔ لیبارٹری میں ہم محدود پیمانے پر تجربات کر سکے ہیں چنانچہ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ ایسے لوگ تشدد کرنے میں کس حد تک آگے جا سکتے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...