وہ جگہ جہاں رہنے والے زہریلا پانی پیتے ہیں لیکن زہر اُن پر اثر نہیں کرتا کیونکہ۔۔۔ وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی قدرت کے نظام پر دنگ رہ جائیں گے

وہ جگہ جہاں رہنے والے زہریلا پانی پیتے ہیں لیکن زہر اُن پر اثر نہیں کرتا ...
وہ جگہ جہاں رہنے والے زہریلا پانی پیتے ہیں لیکن زہر اُن پر اثر نہیں کرتا کیونکہ۔۔۔ وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی قدرت کے نظام پر دنگ رہ جائیں گے

  


سینتیاگو(مانیٹرنگ ڈیسک)ہمارے ہاں آلودہ پانی پینے سے کئی طرح کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں مگر دنیا میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے جہاں کے لوگ انتہائی زہریلا پانی پینے ہیں لیکن ان پر یہ زہر اثر نہیں کرتا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ علاقہ جنوبی امریکہ کے ملک چلی کا صحرائے ایتاکیما (Atacama)ہے۔ اس صحرا کے پانی میں انتہائی خطرناک زہر سینکھیا(Arsenic)کی مقدار ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کی مقرر کردہ محفوظ حد سے 100گنا زیادہ ہے لیکن اس قدر زہریلا پانی پینے کے باوجود ان پر زہر اثر نہیں کرتا اور وہ صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔

وہ ملک جہاں آپ چھٹیاں گزارنے جائیں تو وہاں کی حکومت آپ کو پیسے ادا کرے گی، ایسا شاندار اعلان ہوگیا کہ آپ کا دل کرے گا ابھی اپنا سامان باندھ کر۔۔۔

یونیورسٹی آف چلی کے سائنسدانوں نے ان لوگوں کی اس حیران کن صلاحیت پر تحقیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”یہاں کے پانی میں ہزاروں سالوں سے سینکھیا موجود ہے۔ جب 7ہزار سال قبل لوگ اس صحرا میں آئے تھے تو ان کے پاس دو ہی راستے تھے، یہ زہریلا پانی پئیں یا پیاسے مر جائیں۔ چنانچہ انہوں نے یہ پانی پینا شروع کر دیا۔ بتدریج ان کا جسم اس کا عادی ہوتا چلا گیا اور آج یہ زہر ان پر اثر نہیں کرتا۔“ رپورٹ کے مطابق یہ صحرا دنیا کا خشک ترین صحرا ہے جہاں پانی بہت کم دستیاب ہے اور جتنا ہے اس میں سینکھیا کی بھاری مقدار شامل ہے۔

سائنسدانوں نے یہاں کے 150باشندوں پر تجربات کیے جن کے نتائج میں یہ چشم کشا انکشاف ہوا کہ ارتقائی عمل سے گزر کر ان لوگوں کے جینز میں ایک نایاب تبدیلی رونما ہو گئی ہے جو ان کے نظام انہضام سے متعلق ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ماریو اپاتا کا کہنا تھا کہ ”اس جینیاتی تبدیلی کے باعث ان لوگوں کے جسم میں سینکھیا کو ہضم کرنے کی صلاحیت پیدا ہو چکی ہے جس کی وجہ سے یہ ان پر اثر نہیں کرتا۔ ان لوگوں میں پیدا ہونے والا جین کوڈ AS3MTکہلاتا ہے جو سینکھیا کوتوڑ کر دو چھوٹے اجزاءمیں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کم زہریلے ہوتے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...