حضرت امام حسین ؑ کی تربت مبارک سے ابلتی سرخ خاک شفا کا ایسا راز جو بنی نوع انسان کی بھلائی کا وسیلہ بن گیا

حضرت امام حسین ؑ کی تربت مبارک سے ابلتی سرخ خاک شفا کا ایسا راز جو بنی نوع ...
حضرت امام حسین ؑ کی تربت مبارک سے ابلتی سرخ خاک شفا کا ایسا راز جو بنی نوع انسان کی بھلائی کا وسیلہ بن گیا

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ریسرچ سیل)عراق میں مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے جانے والے زائرین اپنے ساتھ خاک شفا بھی لیکر آتے اور اسکی معجزاتی تاثیر بیماروں کو صحت یاب دیکھ کرربّ حضورکے سامنے سربسجود ہوجاتے ہیں جس نے جنت کے نوجوانوں کے سردارحضرت امام حسین ؑ کی تربت مبارک سے بنی نوع انسانیت کے لئے یہ چشمہ فیض جاری کیا ہے۔خاک شفا کے حوالے سے یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ حضرت امام حسین ؑ کی خاک شفا وہ سرخ رنگ کی مٹی ہے جو نواسہ رسولﷺ حضرت امام حسینؑ کی قبر مبارک میں آپؑ کے سرمبارک کی طرف سے اْبلتی ہے۔سرخ خاک شفا کو کئی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔لاہور میں محرم الحرام کے دوران شیعہ زائرین اس خاک شفا سے بنی تسبیح کی زیارت بھی کراتے ہیں جبکہ کربلا میں خاک شفا کے صدقات دینے کے لئے کئی طرح کی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ ایران کے ممتاز عالم دین حجۃ الاسلام حسین انصاریان سے جب سوال کیا گیا کہ حضرت امام حسین ؑ کی خاک شفا کی حقیقت کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ تربت امام حسین ؑ کی فضیلت کے بارے میں چندمستند روایات موجود ہیں جن میں سے ایک روایت کے راوی یونس بن ربیع ہیں ۔وہ کہتے ہیں’’ امام صادق ؑ نے فرمایا ہے’’ امام حسینؑ کے بالائے سر ایک سرخ رنگ کی مٹی ہے، اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کا شفا ہے۔‘‘یونس بن ربیع کہتے ہیں کہ’’ اس حدیث کو سننے کے بعد میں قبر کے پاس حاضر ہوا اور سر مبارک کی طرف قبر کو ہم نے کھودا اور جوں ہی ہم نے ایک بالشت کے برابر کھدائی کی تو سر مبارک کی طرف سے، ریت جیسی خاک جو پانی میں ملی تھی ہم پر برسی، اس کا رنگ سرخ تھا اور ان کا حجم اندازہ ایک درہم کے برابر تھا، ہم اس مٹی کو اپنے ساتھ کوفہ لے آئے اس کے بعد اسے مخلوط کرکے خمیر کی صورت میں مخفی رکھا اور پھر بعد تدریجاً لوگوں کو دیتے تھے تاکہ وہ اس سے اپنے بیماروں کا علاج کریں‘‘۔

دوسری روایت کے مطابق ابو حمزہ ثمالی نے امام صادق ؑ سے سوال کیا’’ میں آپ پر قربان ہوجاؤں، میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے اصحاب تربت امام حسین ؑ کو شفا پانے کے لئے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس تربت(خاک) میں شفا ہے ! کیا یہ صحیح ہے؟‘‘حضرت امام صادق ؑ نے جواب میں فرمایا’’ خاک قبر سے 4میل کے فاصلہ تک علاج طلب کریں، اور اسی طرح میرے جد رسول خداﷺ کی قبر کی خاک، امام حسن ؑ کی قبر کی خاک، امام علی بن حسین اور محمد بن علی ؑ کی قبر کی خاک ہر بیماری کے لئے شفا اور ہر اس چیز کے لئے سپر ہے جس سے آپ خائف ہو ں اور اس کے برابر دعا کے علاوہ کوئی دوا نہیں ہے، اور برتن میں باقی بچی خاک کے مخلوط ہونے اور یا کم تر ہونے کی وجہ سے یہ بے اثر نہیں ہوتی ۔اس کا انحصار اس شخص کے یقین پر ہے جو اس سے علاج کرنا چاہتا ہے اور جو مکمل یقین رکھتے ہیں، معالجہ کے لئے اس سے استفادہ کرنے کی صورت میں اذن الہی سے ان کے لئے شفا حاصل ہوتی ہے ‘‘۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...