دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کی آڑمیں پنجاب پولیس صوبائی عصبیت کو ہوا دینے لگی،حیران کن اقدامات شروع کردیے

دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کی آڑمیں پنجاب پولیس صوبائی عصبیت کو ہوا دینے ...
دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کی آڑمیں پنجاب پولیس صوبائی عصبیت کو ہوا دینے لگی،حیران کن اقدامات شروع کردیے

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان بھر میں دہشتگردی کی حالیہ نئی لہر کے باعث عوام میں شدید خوف و ہراس ہے جسے کم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات سے دہشتگردی میں کمی ہوگی یا نہیں یہ تو وقت گزرنے کے ساتھ ہی پتا چلے گا لیکن ان اقدامات کے نتیجے میں دانستہ یا نا دانستہ طور پر صوبائی عصبیت کو خوب ہوا دی جا رہی ہے جو ہمارے ملک کیلئے دہشتگردی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

نوجوان کی بیگم نے بچے کو جنم دے دیا، لیکن بچے کو دیکھتے ہی شوہر نے خود کشی کرڈالی وجہ ایسی کہ جان کر آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آجائیں

تفصیلا ت کے مطابق کچھ روز پہلے منڈی بہاﺅالدین کی پولیس نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں عوام سے پٹھانوں پر نظر رکھنے اور ان کی رپورٹ کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ بعد ازاں پنجاب پولیس کی جانب سے یہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا تھا لیکن اب لاہور میں بھی ایسے ہی واقعات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

لاہور کی سب سے بڑی کباڑی مارکیٹ بلال گنج کی انجمن تاجران کی جانب سے ” نوٹس برائے پٹھان حضرات“ کے نام سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں مارکیٹ میں کاروبار کرنے والے تمام پٹھانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے کوائف انجمن کے دفتر میں جمع کرائیں۔

علاوہ ازیں لاہور کے ہی بڑے شاپنگ سنٹر پینوراما کی جانب سے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک درخواست دی گئی ہے جس میں انجمن تاجران نے انتظامیہ سے پٹھانوں کی شکایت کی ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے ” انتظامیہ سے التماس ہے کہ ہمارے روڈز پر بہت سارے مشکوک افراد پھرتے رہتے ہیں، کوئی عینکیں بیچ رہا ہے تو کوئی زمین پر تھیلے رکھ کر ڈرائی فروٹ بیچ رہا ہے اور یہ سب لوگ تقریباً پنجابی نہیں ہیں“۔

شہر کی مختلف انجمنوں کی جانب سے یہ رویہ پولیس کے دباﺅ کی وجہ سے ہی اپنایا جا رہا ہے لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے چکر میں کہیں نیا محاذ نہ کھل جائے ۔

مزید : لاہور


loading...