2سال تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ کرنا حکومت کے لئے سوالیہ نشان ،آصف زرداری لوگوں کو ساتھ ملانے کی صلاحیت اور مہارت رکھتے ہیں:شاہ محمود قریشی

2سال تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ کرنا حکومت کے لئے سوالیہ نشان ،آصف ...
2سال تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ کرنا حکومت کے لئے سوالیہ نشان ،آصف زرداری لوگوں کو ساتھ ملانے کی صلاحیت اور مہارت رکھتے ہیں:شاہ محمود قریشی

  


کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اگر2سال قبل نیشنل ایکشن پلان پر عمل اورکراچی کی طر ز پرپنجاب اور اندرون سندھ میں رینجرز کا آپریشن شروع کردیا جاتا تو لاہور ، سہون شریف،اور دیگر علاقوں میں دھشت گردی کے واقعات پیش نہ آتے ، 2سال تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ کرنا حکومت کے لئے سوالیہ نشان ہے، آصف زرداری لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی مہارت اور خداداد صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں:راحیل شریف نے دھرنا ختم کرنے اور شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی: عمران خان

حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری سندھ میں اپنا سیاسی وجود رکھتے ہیں کوئی انھیں تسلیم کرے یا نہ کرے، انھیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں لوگوں کو شامل کریں او ر ویسے بھی وہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے میں خدادداد صلاحیت اور مہارت رکھتے ہیں، جو لوگ پیپلز پارٹی میں جارہے ہیں وہ اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی میں جانے والوں کے حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب کشتی میں زدیادہ افراد سوار ہوجاتے ہیں تو وہ ڈوب جاتی ہے،تحریک انصاف سے جو لوگ پیپلز پارٹی میں گئے ہیں نہ تو میں انھیں تحریک انصاف میں لایا تھا نہ ہی میں نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی نے 4مارچ کو آل پارٹیز کانفرنس رکھی ہے ، اس سے سلسلے میں مجھ سے پیپلز پارٹی کی جانب سے رابطہ کیا گیا تھا ،انھوں نے مجھے بتایا کہ پیپلز پارٹی کا ایک وفد اس حوالے سے بھیجا جائے گا، ان کے وفد سے ملاقات کے بعد ہی پیپلز پارٹی کی اے پی سی کے ایجنڈے کے بارے میں معلوم ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ آج دو سال کے بعد پورے جاہ و جلال کے ساتھ رینجرز کا آپریشن شروع کردیا گیا ہے، ساری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف پولیس موثر طریقے سے کارروئیاں کرتی ہے، لیکن ہمارے ہاں ججزاور گواہوں کے تحفظ کے لئے فوجی عدالتوں کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا تھا، دراصل وفاقی حکومت کے حوالے سے سارے سوالات اٹھتے ہی ہیں کہ وہ کیا کرتی رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اکیسویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے اور آپس کی مشاورت سے لائی گئی تھی لیکن سیاسی اور جمہوری حکومت نے اس کا ڈرافٹ تبدیل کردیااور جب ڈرافٹ تبدیل کیا گیا تو سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،اب سنا اس پر نظر ثانی کے لئے حکومت نے اجلاس بلایا ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سہون شریف وزیر اعلی سندھ کا حلقہ ہے جہاں لال شہباز قلند ر کے مزار کا سانحہ پیش آیا وہاں میر ے جانے کے تین روز بعد سندھ حکومت کوہلاک شدگان کے لواحقین اور زخمیوں کے لئے پیسے دینے کا خیال آیا ہے۔

مزید : قومی


loading...