عرفان اللہ مروت کی پی پی میں شمولیت پر بختاور اور آصفہ بھٹو کارد عمل کارکنوں کے دباﺅ کا نتیجہ ہے : ڈاکٹر شاہد مسعود

عرفان اللہ مروت کی پی پی میں شمولیت پر بختاور اور آصفہ بھٹو کارد عمل کارکنوں ...
عرفان اللہ مروت کی پی پی میں شمولیت پر بختاور اور آصفہ بھٹو کارد عمل کارکنوں کے دباﺅ کا نتیجہ ہے : ڈاکٹر شاہد مسعود

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ عرفان اللہ مروت کے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے پر بختاور اور آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے آنے والا رد عمل پرانے کارکنوں کے دباﺅ کا نتیجہ ہے ۔

نجی ٹی وی نیوز ون کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی خاتون کارکن وینا حیات کے ساتھ 1991 میں اجتماعی زیادتی کی گئی تھی ، اس وقت غلام اسحاق خان صدر اور ان کے رشتہ دار عرفان اللہ مروت وزیر تھے۔ اس وقت شہلا رضا بھی گرفتار ہوئی تھیں ۔ عرفان اللہ مروت کے پی پی میں شامل ہونے پر شہلا رضا سمیت دیگر کارکنان کی جانب سے رد عمل آیا ہوگا۔پی پی کے پرانے کارکنوں کے جاگنے کے رد عمل میں اگر بختاور اور آصفہ نے ٹویٹس کیے ہیں تو یہ اچھی بات ہے ، لیکن پی پی میں شامل صف اول کے لوگوں کے بارے میں بھی ٹویٹس بنتی ہیں۔

”ایسی بیمار ذہنیت کے لوگوں کو جیل میں سڑنا چاہیے“بختاور اور آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے والدکے فیصلے کے خلاف بغاوت کردی

واضح رہے کہ سابق صوبائی وزیر عرفان اللہ مروت نے سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تو ان کی بیٹیوں بختاور اور آصفہ بھٹو زرداری نے اس فیصلے کے خلاف بغاوت کردی۔ انہوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہوئے عرفان اللہ مروت کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

مزید : اسلام آباد


loading...