جناب عطاء الحق قاسمی

جناب عطاء الحق قاسمی

ایک زمانہ تھا، جب اوّل اوّل عطاء الحق قاسمی صاحب کا نام ایک کامیاب اُستاد ،ہردلعزیز کالم نویس ،ادیب ،شاعر اور ڈرامہ نگا رکے طور پر سنا گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ قلم قبیلے میں ان کا نام معتبر ہوا۔ دھوپ نگلنے اور چاندنی اُگلنے والوں کی بات ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ قاسمی صاحب کی سرگزشت دوچار برس نہیں ،پوری نصف صدی کا قصہ ہے۔ وہ ناروے ، تھائی لینڈ میں پاکستان کے سفیر تعینات رہے ،الحمرا آرٹ کونسل کے چےئر مین مقرر ہوئے اور پھر پی ٹی وی کے سربراہ ۔گویہ تمام مناصب میاں نواز شریف کی عطا ہیں۔ مگر ایسا نہیں کہ جملہ عہدے عطاء الحق قاسمی صاحب کے قد کا ٹھ سے بڑے ہوں ۔ ان کا نام اور کام بہت بڑا ہے۔ ویسے بھی ان سے پہلے کون سے فرہاد مُنتخب ہواکرتے تھے ،یا آئندہ ہوں گے۔

معاشرے میں عطاء الحق قاسمی کا نام ایک علم دوست اور معتدل انسان کے طور پر موجود پایا گیا ہے۔ غیر سیاسی ،درد مند،دلنواز ،ادب پرور،محب وطن اور وضعدار ! وہ واقعی ایک خوب صورت انسا ن ہیں ۔ وقار ،کردار اور اقدار کے محافظ! انہیں بدنامی اور شہرت میں فرق کا بخوبی علم ہے۔ مقبول ہی نہیں ،قابل بھی ہیں۔ ان کی حب الوطنی پر کبھی کوئی سوال اُٹھا اور نہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ ایک باقاعدہ دینی پس منظررکھتے ہیں اور براہ راست ایک صوفی خانوادہ سے ذاتی تعلق !۔۔۔اخلاف میں سے ہیں ،مگر ناخلف نہیں عہد حاضر میں اِلّا ماشاء اللہ یہ ایک عجوبہ ہے کہ انہوں نے اپنے اس حوالے کو خلوت یا جلوت میں کبھی فروخت نہیں کیا ۔ بقول جگر مراد آبادی :

کیا جانے کیا ہو گیا ارباب جنوں کو

جینے کی ادا یاد نہ مرنے کی ادا یاد!

وطن عزیز میں عطاء الحق قاسمی کے دوستوں اور چاہنے والوں کی ایک وسیع تعداد موجود ہے۔ وسیع المشرب اور عالی ظرف اپنی راہ چھوڑتے اور کسی کو چھیڑتے نہیں اپنے حلقہ اثر سے قطع نظر دشمنوں اور جلنے والواں کی بھی کمی نہیں رکھتے، حاسد اور تیرہ باطن کہاں نہیں ہوتے اور کیوں نہ ہوں ؟ یہ دنیا ہے ہر قسم کی عداوتوں اور رقابتوں کی آماجگاہ ! ادھر اُدھر دوست نما دشمنوں کی بھیڑ لگی ہے۔ کیا انہیں سبز گھاس میں چُھپے کسی سبز رنگ کے سانپ نے ڈس لیا ہے؟ عام لوگوں کے نزدیک قاسمی صاحب کا ہر حوالہ ہی اجالا ہے۔

یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ محترم عطاء الحق قاسمی بے عیب ہیں ۔ہاں مگر کم عیب ! وہ بھی انہی گرد آلود فضاؤں میں رہتے ہیں ۔کسی نہ کسی سطح پر ان کا دامن بھی میلا ہوسکتا ہے یا ہوا ہوگا، مگرایسا بھی نہیں کہ ان کو نشانے پر رکھ لیا جاتا پاکستان میں ابھی حقیقی یا فرضی طہارت کا عمل اس قدر پختہ نہیں ہوا کہ حساب کتاب ان کے درجہ پر پہنچ چُکا ہو۔ابھی تواوپر گندگی کے بہت ڈھیر پڑے ہیں ،جن کی صفائی کا صحیح طریقہ سے آغاز ہی نہیں ہوپایا :

مصلحت نے زبان کو روک دیا

یاد آئی تھی کوئی بات مجھے!

جناب عطاء الحق قاسمی کا سب سے بڑا اثاثہ ،جیسا کہ لوگ جانتے ہیں ، قلم ہے پیشہ اور قلم مزدوری۔ جنرل پرویز مشرف کو ان سے کد تھی۔ مختلف زاویوں سے آڈٹ بھی کروایا، مگر کچھ بھی ہاتھ نہ آیا ۔ان کے ہاتھ صاف تھے وگرنہ ہاتھ ہوگیا ہوتا ۔یہ نیک شہرت کے حامل ایک اچھے انسان ہیں۔ فرشتہ یا شیطان ہر گز نہیں۔ان کے نامہ اعمال میں بھی دیگر پاکباز لوگوں کی طرح چھوٹی بڑی لغزشیں موجود ہوں گی، لیکن قابل گرفت جرم شاید کوئی بھی نہیں۔ یہ انسان کسی معاملے میں بھی شریک جرم نہیں۔ اس کا جرم کوئی ہے تو وہ باشعور ہونا یا شعورپھیلانا ہے۔ البتہ میاں نواز شریف ان پر مہربان ضرور ہوتے ہیں۔

عطاء الحق قاسمی سازشی مزاج رکھتے نہ کسی ساز باز کا حصہ بنتے ہیں۔ بنیادی طور پر الفاظ کے کاریگر ہیں اور ایک جہت سے مزدور! سب اہل وطن ان کی قلم مزدوری کو جانتے ہیں،وہ ایک ایسا کھرااور کُھردرا شخص ہے، جس نے ہمیشہ اندھوں کے شہر میں آئینے بیچے ! کیا وہ ایک ایسا مسلمان ہے ،جس نے قرون اولیٰ کے بجائے غلطی سے عہد تنّزل میں جنم لے لیا؟ کیا ان میں قلندرانہ صفات پائی جاتی ہیں ؟ میرا خیا ل ہے کہ یہ سب غلط ہے، ایسا کچھ بھی تو نہیں،لیکن یہ درست ہے کہ موصوف اس دور کے کافی سے زیادہ بُرے لوگوں میں ایک کم درجے کے اچھے انسان ضرور ہیں۔ نیک نامی ،رزق حلال ،بازپرس اور خالق کے حضور جواب دہی کا احساس رکھنے والا انسان ! یہ ایک چراغ ہے جو انسانیت کے بند ہوتے ہوئے بازار میں اب بھی روشن ہے آخر ہم اس سے اور کیا چاہتے ہیں؟

میں پیغمبر تو نہیں لیکن مجھے احساس ہے

ان بُرے لوگوں میں بھی مجھ سے بُرا کوئی نہیں

دنیا میں کسی بھی قسم کی بُرائی دوطرح سے پھیلتی ہے۔ یہ اوپر سے نیچے آتی یا پھر نیچے سے اوپر جاتی ہے، جس معاشرے میں بد عنوانی جس مقام سے فروغ پاتی ہو، اسی طرز پر اس کا مداو۱ ممکن ہے۔ نیچے سے اوپر کو جاتی ہو تو پہلے ادھر بند باندھا جانا ناگزیر،پاکستان میں بلاشبہ ہر نوع کی بدعنوانی اوپر سے نیچے آرہی ہے، لہٰذا مبنی بر حکمت اقدام یہی ٹھہراکہ اس کے خاتمے کا آغاز بھی اوپر سے کیا جائے ۔

کئی لوگ عطاء الحق قاسمی سے عناد رکھتے ہیں اور ان کا مفاد اس میں ہے کہ ان کو کسی طور پر گرایا جائے۔ اے کاش! وہ عدالت کا کندھا استعمال نہ کریں۔ قوم پاکستان میں احتساب کا بے لاگ عمل ایک با رپھر غیر موثر ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی۔

لوٹ لینے والوں کی خوش قسمتی اور لُٹ جانے والوں کی بد قسمتی کا سفر ختم ابھی نہیں ہوا ۔وہ کون سی شے ہے، جو یہاں بیچی اور خریدی نہیں گئی؟ کیا کیا نہیں بکا ؟ کب نہیں بکا اور کس کس نے نہیں خریدا ؟ اسلام اور عوام کے نام پر جو ہوا وہ توسب نے دیکھا،لیکن جو آئندہ ہونے جارہا ہے ،دکھائی نہ ہی دے تو اچھا ! مگر مچھوں کی گرفت کے بغیر چارہ نہیں ، لیکن چھوٹی اور معصوم مچھلیوں کے لئے بھی ’’جال‘‘ کیاضروری ہوچکا ہے؟ شاعر نے کہا تھا :

بہار پھولوں کے لب چُوم لے جسے سُن کر

مجھے وہ گیت سناؤ ، گھنا اندھیرا ہے!

مزید : رائے /کالم