ایک منظر ، سبز دریچے سے

ایک منظر ، سبز دریچے سے
ایک منظر ، سبز دریچے سے

  

’’جب مجھے چندرا ورتی سے محبت شروع ہوئی، اسے مرے ہوئے تیسرا روز تھا‘ ‘۔ یہ ہے قدرت اللہ شہاب کے اولین افسانہ کا پہلا جملہ ۔ مَیں کہانی کار نہیں ، پھر بھی چندراورتی کی طرح جب پروفیسر سجاد شیخ سے میری دوستی کا رشتہ جُڑا تو استاد شاگرد کے رسمی بندھن سے میری جان چھوٹے کئی مہینے ہو چکے تھے ۔ جان چھوٹنے والی بات عجیب سی ہے ، مگر اُن لوگوں کی سمجھ میں ضرور آ جائے گی جو شرعی آدمی اور ملامتی صوفیوں کے تعلق کی باہمی مشکلات سے واقف ہیں ۔ میں جی سی یو ، لاہور سے بھاگ کر گورڈن کالج کے نیلے درختوں کی کھوہ میں آ بیٹھنے والا ایک مست ملنگ طالب علم تھا ۔ دوسری طرف پروفیسر حمید احمد خاں اور ایرک سپرئین کے تربیت یافتہ اور لیڈز یونیورسٹی کے تازہ گریجوایٹ استاد کا پانچ پانچ گھنٹے کا مدلل لیکچر جس کا نشانہ کسی نہ کسی ’’رومینٹک ایڈیٹ‘‘ کو اپنی زد پہ رکھتا ، جس سے اُن کی مراد غیر حقیقت پسندانہ رویوں سے تھی ۔

چار سال پہلے پروفیسر صاحب کے دنیا سے چلے جانے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ اُن کا اشارہ شاید میری ہی طرف ہوا کرتا ۔

اگر اُس وقت تک آجکل کے الیکٹرانک آلات عام ہو چکے ہوتے تو ہمارے ایم اے انگریزی کے سبھی لڑکیاں لڑکے سجاد شیخ کو ادبی کمپیوٹر کا نام دینے کی میری تجویز سے ضرور اتفاق کر لیتے ۔ خیر ، وہ مرحلہ تو ہماری کلاس کے کئی سال بعد آیا جب اساتذہ کی کمی کے باعث اسٹوڈنٹس کو یونیورسٹی فائنل کی تیاری کرانے کے لئے پروفیسر کو سات میں سے چھ پرچے اکیلے ہی پڑھانا پڑے۔ پر میرے زمانے میں بھی نظم و نثر ، تنقید ، ناول اور ڈرامہ کے کئی موضوعات ٹائم ٹیبل بناتے ہوئے آپ نے اپنے ہی کھاتے میں ڈال لئے تھے ۔ مین بلڈنگ کے چرچ نما نیم روشن کمرے میں صدر شعبہ ڈاکٹر فرانسس زیوئر نے کرسٹوفر مارلو پڑھاتے ہوئے بارہا پیانو بجا کر بابا بلھے شاہ کی کافی بھی سنا ئی ۔ لیکن سلسلہء سجادیہ میں اگر کوئی ایسے لاڈ پیار کے بارے میں سوچتا تو خود اس کا باجا بجا دیا جاتا ۔

یہاں تک کہ سجاد شیخ کی زبان سے کلاس روم کے اندر اردو ، پنجابی کا جملہ میں نے صرف ایک ہی بار سنا ۔ اُس روز وہ جوبلی ہال کی بیسمنٹ میں ہمیں پڑھاتے ہوئے صبح سے لے کر سہ پہر تک اِسی نکتہ پہ دلائل دیتے رہے کہ ولیم ورڈزورتھ شاعرِ فطرت نہیں ، شاعر انسان ہے اور فطرت اُس کی انسانی محبتوں کا تناظر فراہم کرتی ہے ۔ دن ڈھلے جب ’ گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے‘ انہوں نے اچانک ورڈزورتھ کی ایک ہم عصر ناول نگار کا نام لے لیا ۔ تیس نو آموز ججوں پہ مشتمل ہماری فل کورٹ کے لئے یہ اشارہ تھا کہ طویل مقدمہ سے فارغ ہوکر اب ایک ضمنی سماعت اور کرنا ہو گی ۔ اگلی قطار میں ایک لڑکی نے کنکھیوں سے دوسری کو دیکھا ، مظہر حبیب نے ہلکی سی احتجاجی انگڑائی لی ، مَیں نے ڈرتے ڈرتے اپنی گھڑی پہ نظر دوڑائی ۔ پروفیسر صاحب تاڑ گئے ۔ ’’بیٹا ، بات بیچ میں نہیں چھوڑ سکتا ، بُرے کے گھر تک پہنچنا پڑتا ہے‘‘ ۔ پہلی بار سب کھلکھلا کر ہنسے ۔

اب اگر جموں و کشمیر کی طرح اپنی استادی شاگردی کی کنٹرول لائن پار کرنے کا قصہ سناؤں تو یوں لگے گا کہ فریقین نے کوئی باقاعدہ لڑائی چھیڑ رکھی تھی جسے روکنے کے لئے اقوام متحدہ کو اقدام کرنا پڑے ۔ ہماری سرد جنگ تو بس اتنی تھی جس طرح ناصر کاظمی نے کہا ہے ’’وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا‘‘ ۔ جیسے ہم تین طالب علم شاعروں نے مل کر اپنا اردو مجموعہ شائع کیا تو فلیپ پہ فیض احمد فیض ، قدرت اللہ شہاب ، رشید امجد اور توصیف تبسم کے تبصرے تھے ۔ ناشر تھا ’شعبہء انگریزی ، گورڈن کالج ‘ ۔ ابتدا میں ڈاکٹر زیوئیر کا تعارفی مضمون تھا اور اُس میں بائبل کی آیت کہ یہ کتاب کالج کے ان معترضین کو ہمارا جواب ہے جو پو چھا کرتے ہیں کہ ’’کیا ناصرت سے کبھی کوئی اچھی چیز نکل سکتی ہے؟‘‘ یوں کتاب میں سجاد شیخ بالکل گول تھے جبکہ اُنہوں نے بھی بین الکلیاتی مشاعروں میں وقفے وقفے سے جیتی ہوئی ہماری ٹرافیاں کبھی غور سے نہ دیکھیں ۔

اِس مقام پر ٹرافیاں جیتنے والی ٹیم کے ساتھی زمان ملک کا ذکر ضروری ہو جاتا ہے ، جس کی اے پی پی سے وابستگی اُس وقت کی برٹش ایمبسی میں میری ملازمت سے کچھ ہی دن پہلے شروع ہوئی ۔ کالج ، یونیورسٹی میں ایک نہ ایک دوست تو ایسا ہوا ہی کرتا ہے جسے لوگ آپ کا ہمزاد سمجھنے لگیں ۔ اپنے بہن بھائیوں میں ’خان‘ کے نام سے جانا گیا زمان ملک اپنی اِس کھلی ڈلی پیشکش سے میرا ہمزاد بن گیا کہ یار شاہد ، شام کو فارسی پڑھنے کے لئے سیٹلائٹ ٹاؤن میں خانہ ء فرہنگ ایران تو جاتے ہی ہو ، لیکن ساری دوپہر سڑکوں پہ گھومتے رہنے کی بجائے میری طرف آ جایا کرو ۔ پھر امرتسری انداز میں یہ تشریح کہ ’’ساڈے گھر اچھی روٹی نوں چھڈ کے ہر سہولت ملے گی‘‘۔ اصل سہولت یہ حاصل ہوئی کہ ایک دن اتنا کہہ کر کہ شیخ صاحب تمہیں بہت یاد کرتے ہیں ، وہ مجھے اُن سے ملوانے کالج لے گیا ۔

ہماری ملاقات نیلے درختوں والے اُسی پروفیسرز میس میں ہوئی جہاں تین سال پہلے ڈاکٹر زیوئر نے میرا بی اے کا رزلٹ سن کر چائے نوش اساتذہ کو متوجہ کیا تھا ’’اوئے ، اس لڑکے نے وہ کام کر دیا ہے جو ہم سے کبھی نہ ہوا‘‘ ۔ ظاہر ہے میں تو اُسی لمحہ ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ پہ بیعت ہو گیا۔ پر اِس میس کی چائے میں کوئی بات ہے ضرور۔ میرے لئے کپ انڈیلتے ہوئے شیخ صاحب پہلے تو انگریزی میں گویا ہوئے کہ تم اب زیادہ با وقار لگ رہے ہو ۔ پھر کہا ’’یاد جے ، جدوں تُسیں پڑھدے سو، تہاڈی ساڈی نئیں سی بندی‘‘۔ اِس کے بعد لگا زور کا قہقہہ ، پھر ٹیکسی میں سوار ہو کر کالج کے بیک گیٹ سے مری روڈ ، چاندنی چوک اور کالی ٹینکی پار کر کے ای بلاک کا 54 نمبر بنگلہ ۔ اب گھر میں جا کر کیا بیٹھے ، یوں سمجھیں کہ پیر مغاں کی جڑوں میں بیٹھ گئے ۔ ڈائیننگ ٹیبل پر یہ بھی معلوم ہو گیا کہ گھر میں بچے نہیں ہیں ۔

شیخ صاحب نے انہی دنوں اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر میں کوٹھی بنوائی اور آخری برسوں میں اسے بیچ کر آئی ایٹ میں منتقل ہو گئے ۔ مگر وہ جو فارسی میں کہتے ہیں ملجا و ماوا ، تو کئی سال ’’آوارگی کی لہر‘ ‘ میں میرا چائے پانی کا ٹھکانہ اور مُوڈ آجائے تو کھانے اور سونے کا پتہ یہی سیٹلائٹ ٹاون والا گھر رہا ۔ پھر لاہور ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہماری ٹیچنگ کے دنوں میں ترجمہ نگاری ، تحقیقی سرگرمیوں اور نصابی کتابوں کی تدوین میں بطور ’چھوٹا‘ مدد دینے کے لئے بھی شیخ صاحب اکثر مجھے ، پروفیسر آف سوشیالوجی آصف ہمایوں اور اوپن یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر شاہد صدیقی کو طلب کر لیا کرتے۔ اسی گھر میں پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے لئے میری برطانیہ روانگی سے پہلے استادِ محترم نے اپنی دستخط شدہ تصویر عنایت کی اور فرمایا کہ وہاں شام کو سوٹ پہن کر ’پب‘ ضرور جایا کرنا ، خواہ ہارڈ ڈرنک کی بجائے ٹماٹر کا جوس ہی پیو ۔ تب میں ممتاز شاعر مظہر ترمذی کی طرح یہ جواب نہ دے سکا تھا کہ سر جی ، عمراں لنگھیاں پباں بھار۔

میری اس ’پباں بھار‘ والی بات کو لطیفہ نہ سمجھا جائے تو اچھا ہوگا ۔ اصل میں کئی بار خیال آیا ہے کہ انتہا ئی سنجیدہ معنوں میں اصول پرست ، انسان دوست اور علمی نظم و ضبط کے عادی سجاد شیخ نے مجھے ولایت بھیجتے ہوئے جو نصیحت کی ، وہ دبی دبی آرزو وجود کی کسی ارفع تر پرت کو چھو لینے کا جذبہ تو نہیں تھی ۔ شیخ صاحب کے عزیز و اقارب ، تعلیم و تدریس کے ساتھی اور سینکڑوں شاگرد اگر ناراض نہ ہوں تو میرا اشارہ انہی علامتوں کی طرف ہے جنہیں ہمارے استاد کے معالجین نے اعصابی تناؤ ، پرسنیلٹی ڈس آرڈر ، نیوروسز اور خدا جانے کن کن اصطلاحات کے لیبل لگائے ۔ لیکن شیخ صاحب کے سب سے قریبی دوست اور منفرد شاعر آفتاب اقبال شمیم نے کہا تو بس اتنا کہا کہ ’’سجاد کی بہاریہ کیفیتیں ‘‘ ۔ ساتھ ہی ہمارا دل دہلا دینے والی یہ خواہش پرستانہ دعا بھی کی کہ کاش ، ایک ایسی ہی بہار ہمیں بھی عطا ہو ۔ خدا جانتا ہے کہ یہ دعا قبول ہو جاتی تو آفتاب صاحب کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہ رہتا ۔

یہ اس لئے کہ شیخ صاحب پر پہلی بار یہ بہار ہماری طالب علمی کے زمانے میں اتری تو ہم میں سے کسی کو نروس بریک ڈاؤن کے معنی ہی معلوم نہیں تھے ۔ لیکن بعد میں کم سے کم تین مرتبہ میں نے اِس فصل گل و لالہ کے پھول اور کانٹے الگ الگ کرنے میں اپنی انگلیاں بھی فگار کی ہیں ۔ پہلے تو جب آپ پاکپتن کالج کے پرنسپل بنے اور چارج لینے سے پیشتر کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں ، خراب کنڈیوں اور فیوز بلبوں کی گنتی کر نے لگے۔ پھر جب چکوال سے تاریخ کا استاد اور میرا بے تکلف یار ، قیصر ذوالفقار بھٹی یہ دہائی دیتا ہوا پہنچا کہ پرو فیسر ، شیخ صاحب لگے گئے ۔ مَیں پریشانی کے عالم میں عیادت کی غرض سے گورنمنٹ کالج چکوال پہنچا تو شیخ صاحب نے ملتے ہی یہ کہہ کر میری انگلیاں نچوڑ کر رکھ دیں کہ ’’ہاتھ ہے اللہ کا بندہ ء مومن کا ہاتھ‘‘ ۔ جسم میں بے پناہ طاقت آگئی تھی ، ساتھ ہی وجود کے کسی بلند تر سطح میں ڈھل جانے کی خواہش ۔

میں ان میں سے کئی بہاریہ کیفیتوں کی تخلیقی اٹھان کا گواہ بھی ہوں ۔ جیسے وہ منظر نہیں بھولتا جب پروفیسر صاحب لاہور میں میری میزبانی کا مزا لیتے لیتے انگریزی ادب کے اُس وقت کے لائق طالب علم اور بعدازاں ایم اے او کالج کے پرنسپل طاہر یوسف بخاری کے پاس جی سی یو والے نیو ہاسٹل میں جا پہنچے ۔ پھر کمرہ نمبر چونتیس میں تحقیقی مسودے ٹائپ کرنے کے لئے اُن کا مینوئل ٹائپ رائٹر مسلسل کتنے دن کھڑکتا رہا ، اِس سلسلے میں مختلف مسالک الگ الگ روایات پر انحصار کرتے ہیں ۔ کنگ ایڈورڈ کے میگزین کے لئے پندرہ منٹ کے اندر میرے بھائی دانش کے حوالے کئے گئے کوئی پینتیس چالیس ٹائیٹل اس کے علاوہ ہیں ۔ پھر صوفی شعرا پر روزنامہ مسلم ، اسلام آباد کے لئے قلم برداشتہ لکھے گئے سلسلہ وار مضامین ، اسی ضمن میں اخبار کے اولین ایڈیٹر مشاہد حسین سید سے دوستانہ مگر جارحانہ جھڑپیں ، مرغوب ترین ڈرامے ’ہیملٹ‘ پہ ذرا ذرا دیر بعد گہری عالمانہ گفتگو اور اِس کھیل کے حقائق کو زندگی کی سچائیاں مان کر اُن میں جیون بتانے کی کوشش ۔ یہ تھا سجاد شیخ ، مگر کیا کروں اللہ والوں کی زبان میں پھر بھی ’’مثال ناقص ہے!‘‘

ممتاز شاعر ایذرا پاؤنڈ کے انتقال پر اردو کے صاحبِ طرز نظم گو اختر حسین جعفری نے جدائی کے موسم میں درختوں کے خالی ہاتھ دیکھ کر یہ شاعرانہ سوال اٹھایا تھا کہ ’’تجھکو کس پھول کا کفن ہم دیں ۔ ۔ ۔ تو جدا ایسے موسموں میں ہوا ۔۔۔ جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے‘‘ ۔ انہی کے منفرد ہم عصر آفتاب اقبال شمیم نے جعفری صاحب کی یاد میں مضمون لکھا تو جانے والے کے لئے اسی کے مصرعوں کا زادِ راہ ساتھ کر دیا تھا ۔ مجھ سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا کیونکہ میرا استاد ایسے موسموں میں رخصت ہوا جب ڈاکٹر توصیف تبسم کے الفاظ میں گورڈن کالج کی وصل گاہوں سے لے کر ایچ ایٹ کے احمد شمیم والے ’شجرستانِ ہجر‘ تک کا راستہ بہاروں کی یلغار سے ’’ کشادہ تر گل زمینوں کا سفر‘ ‘ بنا ہوا ہے ۔ تو مسافت کے اختتام پہ کیا کہا جائے ؟ ایک مانوس آواز نے میرا مسئلہ حل کردیا ہے ’’چل چل ، بوہتیاں گلاں نا کر، سنا اپنی اوہئی سپرنگ امیجری والی نظم ‘ ‘ ۔ تو پیش ہے سجاد شیخ کی پسندیدہ نظم کا ابتدائیہ :

دن کی مانوس تمازت پہ گماں ہوتا ہے

پھر شگفتِ گلِ بادام کی رُت آ پہنچی

پھر ہوا لائے گی اُس پیار کا نیلا موسم

جس کے مہکے ہوئے پیڑوں کی شناسا باہیں

آنکھ کے سبز دریچے پہ کھلا کرتی تھیں

مزید : رائے /کالم