شہباز کے پر کاٹنے کا منصوبہ

شہباز کے پر کاٹنے کا منصوبہ
شہباز کے پر کاٹنے کا منصوبہ

  

شہباز حکومت کو گرانے یا گھائل کرنے کے لئے احد چیمہ پر ہاتھ ڈالا گیا۔ اس طرح یہ تاثر بھی کافی حد تک زائل ہو گیا کہ چھوٹے میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ کے لئے ہر لحاظ سے قابل قبول ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ مقتدر حلقوں نے طویل سوچ و بچار کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی، پارٹی صدارت سے فراغت اور جیل میں ڈالنے کے باوجود مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔ جرنیلوں اور ججوں کے ساتھ ’’مثالی تعلقات‘‘ قائم رکھنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنے والے شہباز شریف اگر مسلم لیگ(ن) کی قیادت سنبھال بھی لیتے ہیں تو جیل میں بیٹھے بڑے بھائی کی کئی باتیں ماننے پر مجبور ہونگے اور اگر انہیں وزیراعظم بننے کا موقع مل گیا تو پارٹی میں سے بیشک ہم خیال لوگوں کو ہی آگے لائیں، مگر اسٹیبلشمنٹ مخالف ارکان کو باہر نہیں کر سکیں گے۔ پھر کسی بھی مرحلے پر کسی نہ کسی انہونی کا خطرہ موجود رہے گا۔ بہتر ہو گاکہ نواز شریف اور مریم کو جیل میں ڈال کر بیانات وغیرہ پر عدالتوں سے پابندی لگوادی جائے۔ شہباز شریف کو مختلف مقدمات میں الجھا کر اتنازچ کر دیا جائے کہ پارٹی امور پر توجہ ہی نہ دے سکیں۔ یعنی (ن) لیگ کے ٹکڑے کر دئیے جائیں۔

حوالدار اینکراور کالم نویس اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی خواہش کو سامنے لانے سے گریز نہیں کررہے۔ خیر یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ ٹکراؤ آخر کس سمت کو جائے گا، مگر ایک حوالے سے یہ اچھا ہی ہو گیا کہ شہباز شریف کے خلاف بننے والے منصوبے سے ان عناصر کے دعوؤں کا پول مزید کھل گیا جو ہر صورت مصالحت کے مشورے دیتے تھے۔ 2014 ء کے دھرنوں کے بعد نواز شریف نے مصالحت کی جتنی کوششیں کیں وہ ناکامی سے دو چار ہوئیں۔اسی طرح اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے سمجھے جانے والے شہباز شریف کو بھی اچھے تعلقات کی یکطرفہ اور بھرپور ٹریفک چلانے کے باوجود بھرے چوک میں چالان کا انعام ملنے والا ہے۔ شہباز شریف کا ٹریک ریکارڈ گواہ ہے کہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ نہ صرف حاضر سروس فوجی افسروں اور ججوں سے اچھے تعلقات رکھے جائیں، بلکہ ریٹائر ہونے والوں کو بھاری مراعات کے ساتھ پرکشش عہدوں پر تعینات کیا جائے۔ چودھری نثار کے ساتھ ان کی پکی دوستی کی سب سے بڑی بنیاد ہی ججوں اور خصوصاً جرنیلوں سے ہر صورت اچھے تعلقات قائم رکھنے کی پالیسی پر رہی۔

تقریباً تین ماہ قبل ایک ملاقات میں شہباز شریف نے سیاسی صورتحال پر رائے دینے کی کوشش کی تو عرض کیا سب کچھ آپ کے سامنے ہی ہے۔میں نے عرض کیا کہ جناب دیکھ لیں کہ ہو کیا رہا ہے؟ شہباز شریف نے توجہ سے بات سنی اور پھر کہنے لگے اگر گڈگورننس ہو تو معاملات آہستہ آہستہ بہتری کی جانب گامزن ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار اونچ نیچ ہو بھی جائے تو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ ملک کی سیاسی تاریخ کو مدنظر رکھ کر ہر چیز کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اسی دوران وزیراعلیٰ نے پھر سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا تو عرض کیا کہ گڈگورننس کے ذریعے غیر سیاسی قوتوں کو ان کے اصل کام تک محدود کرنے کی باتیں سو فیصد درست نہیں۔

ترکی کے واقعہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب باغی فوجی صدر طیب اردوان کو گرفتار کرنے یا جان سے مارنے کے لئے اس جزیرے پر پہنچے جہاں وہ چھٹیاں منارہے تھے تو تھوڑی دیر پہلے ہی طیب اردوان کا محافظ عملہ ان سے پوچھ رہا تھا کہ یہاں سے کہاں جائیں ؟وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ کسی قریبی ملک میں پناہ حاصل کر لیں یا پھر یہیں رک کر اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کریں؟ طیب اردوان نے لمحہ بھر سوچے بغیر حکم دیا کہ استنبول چلو۔ سو فیصد خطرات میں باغی ترک فوجی اور کمانڈر سڑکوں پر آچکے تھے۔ پوری دنیا کا میڈیا فوجی انقلاب کی خبریں دے رہا تھا۔ جلد ہی یہ بھی واضح ہو گیا کہ اس بغاوت کو امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ جان ہتھیلی پر لے کر طیب اردوان عوام کے درمیان گئے تو پھر دنیا نے وہ مناظر دیکھے جو نئی تاریخ رقم کر گئے۔ شہباز شریف بات غور سے سن رہے تھے سو یہ کہنے کی بھی جسارت کر ڈالی کہ چلیں طیب اردوان نے تو غیر معمولی طور پر گڈگورننس کا مظاہرہ کیا تھا، مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی بڑا کام کیے بغیر بنگلہ دیش میں وزیراعظم حسینہ واجد نے کس طرح سے اسٹیبلشمنٹ کو کنٹرول کیا۔ کٹھ پتلی جج اور میڈیا کو بھی پوری طرح سے ’’راہ راست‘‘ پر لے آئیں۔

بات ختم ہوئی تو وزیراعلیٰ صاحب نے بظاہر عدم اتفاق کرتے ہوئے ایک بار پھر سے گڈگورننس کو ہی ہر لحاظ سے جمہوری نظام کی مضبوطی اور ضمانت قرار دیدیا۔آج منظر کیا ہے؟ اب شہباز شریف براہ راست نشانے پر ہیں۔ اگرچہ میں خود کئی حوالوں سے ان کے طرز حکومت اور بعض اقدامات کا ناقد ہوں، مگر یہ بات تو پورا پاکستان مانتا اور جانتا ہے اگر ملک بھر میں کسی جگہ تھوڑی بہت گڈگورننس ہوئی ہے تو وہ پنجاب ہی تو ہے۔ باقی کوئی صوبہ اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکا۔ سو طے ہو گیا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ آپ لوگوں کو حکومت بھی کرنا تھی اور ساتھ ہی ایسے اقدامات بھی کہ جن کے ذریعے غیر سیاسی قوتوں کو ان کے اصل کام پر لگانے کی کوشش کی جاتی، ایسا نہیں کہ میڈیا والے عقل کل یا سیاستدان کوڑھ مغز ہوتے ہیں۔

میڈیا میں ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ ہے تو سیاسی میدان میں بھی گھامڑ پائے جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے حقیقی تجزیہ کار کسی موضوع کا بالکل درست احاطہ کررہے ہوں ،مگر حکومتی مناصب پر بیٹھے سیاستدان اپنے زاویے سے معاملات کا جائزہ لے رہے ہوں۔ سو کسی کو کوتاہی کا مرتکب اسی وقت ٹھہرایا جا سکتا ہے جب کوئی حتمی نتیجہ برآمد ہو جائے۔ بہرحال اس وقت تک تو صورتحال کچھ یوں ہے کہ مقتدر ادارے پنجاب حکومت کے درپے ہیں۔ نیب کو کون کنٹرول کررہا ہے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ عدالتی فیصلوں کے بارے میں کھلم کھلا گفتگو ہورہی ہے۔ تحریک انصاف تو خیر سے بنی ہی اسی کام کے لئے تھی اب پیپلز پارٹی کو بھی اسٹیبلشمنٹ کے ذیلی گروپ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ پنجاب حکومت کو لپیٹنے کے لئے احد چیمہ کی بھونڈے انداز میں ہونے والی گرفتاری پر بیوروکریسی نے سخت برا منایا۔ اسٹیبلشمنٹ کے گرگے بھانپ گئے کہ چالاک سول بیوروکریسی ساری گیم کو گھما سکتی ہے۔ اسی لئے فوری طور پر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سے کمک طلب کی گئی۔

دونوں جماعتوں کے ارکان پنجاب اسمبلی مقتدر حلقوں کی ہدایت پر ہی بند تالے کھلوانے سیکرٹریٹ جا پہنچے۔ آصف زرداری نے باقاعدہ پریس کانفرنس کھڑکادی۔ عمران خان کو الزامات کے کاغذات کا پلندہ فراہم کر دیا گیا ہے۔ 2014ء کے کنٹینر خطاب کی طرح وہ ان سطور کی اشاعت تک ایک بھاشن دے چکے ہونگے کہ ملک میں چور اچکا اور ڈاکو خاندان صرف ایک ہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے کھیل کو اسی طرح سے آگے بڑھا کر دو چار بیوروکریٹ اور پکڑے گئے تو حکومت گر بھی سکتی ہے۔

شہباز شریف کو ٹارگٹ کرنے کا سلسلہ ان کی نااہلی، گرفتاری تک بھی جا سکتا ہے۔ وہ خود کو مسٹر کلین قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے۔ ماڈل ٹاؤن والی اس ملاقات میں، جس کا تذکرہ کالم کے شروع میں کیا گیا ہے میں نے میاں صاحب سے عرض کیا تھا کہ جناب اب تو دھرنے، دنگے سے حکومتیں گرانے کا دور بھی گزر گیا۔ سادہ سا حل ہے کوئی الزام لگائیں، خوب پروپیگنڈا کروائیں اور مقدمہ عدالت لے جائیں، کام تمام ہو جائے گا۔ بااختیار اور طاقتور عدلیہ تو پانی کا بل بروقت جمع نہ کرانے پر بھی کسی کے متعلق فیصلہ دے سکتی ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہا۔ ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی اس جنگ میں شہباز شریف کارڈ بھی بے کار ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جمہوری قوتوں اور ن لیگ کی حمایت میں ایک ہی فیکٹر ہے جو بے حد اہم ہے وہ ہے ’’وقت کا پہیہ‘‘ جو کسی صورت الٹا نہیں گھوم سکتا۔ پہیہ کس جانب جارہا ہے وہ سب کو نظر آرہا ہے۔ معلوم نہیں شہباز شریف اور ان کے ہم خیال لیگی رہنما پالیسی تبدیل کرتے ہیں یا نہیں۔ ہاں !مگر ان کے ذہین و فطین ہونے سے انکار ممکن نہیں۔ یہ شہباز شریف ہی تھے جنہوں نے کارگل معاملے کو ٹھنڈاکرنے کے لئے امریکہ جانے سے متعلق جنرل مشرف کی درخواست پر بڑے بھائی سے کہا تھا کہ آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائیں۔ بوجوہ ان کی بات نہیں مانی گئی۔ ذرا سوچیں اگر ایسا ہو جاتا تو 1999 ء کا مارشل لاء لگنا ہی نہیں تھا۔ بظاہر بے چین نظر آنے والے شہباز شریف بزدل بھی ہر گز نہیں۔

مشرف دور میں جب امریکی صدر کلنٹن کے حکم پر عرب ممالک نے شریف خاندان کو جلا وطن کر کے باہر بھجوانے کا منصوبہ تیار کیا تو یہ شہباز شریف ہی تھے آخری وقت تک کسی کاغذ پر دستخط کرنے یا باہر جانے سے انکاری تھے۔ قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود ان کا موقف بہت سخت تھا کہ ہم ملک میں رہ کر حالات کا سامنا کریں گے، مگر اپنے والد مرحوم کے اصرار پر ان کو یہ فیصلہ مجبوراًتبدیل کر کے بڑے بھائی کے ساتھ ہی عازم جدہ ہونا پڑا۔ بہرطور اب حالات اس نہج پر آچکے ہیں کہ سیاست اور احتجاج کو ساتھ ساتھ چلانا مجبوری بن گیا۔ جلاوطنی کسی صورت قبول نہیں ہو گی ،ساری بات عزم کی ہے۔ کھیل پھر پلٹ سکتا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ لڑائی کے اصل فریق آنے والے دنوں میں کون کون سے کارڈ کس کس موقع پر استعمال کرتے ہیں۔ وقت کا پہیہ الٹا نہیں گھومے گا، مگر بعض لوگوں کے غلط اندازوں یا ناقص پالیسیوں کے سبب تھوڑا سست ضرور ہو سکتا ہے۔ پاکستان زندہ باد۔

مزید : رائے /کالم