زکریایونیورسٹی میں ادبی میلہ، محرومیوں کے تذکرے

زکریایونیورسٹی میں ادبی میلہ، محرومیوں کے تذکرے
 زکریایونیورسٹی میں ادبی میلہ، محرومیوں کے تذکرے

  

محرومیاں ہوں گی تو اُن کا تذکرہ بھی ہوگا لیکن لاہور سے آئے ہوئے ایجوکیشن یونیورسٹی پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر رؤف اعظم اس بات کو بھی دل پر لے گئے اور بھری تقریب میں یہ کہتے رہے کہ محرومیوں کا ذکر کرنا ایک فیشن بن گیا ہے، حالانکہ ایسی بات ہے نہیں۔ موصوف غالباً زیادہ وقت لاہور میں گزارتے ہیں اور اُنہیں اپنے شاندار دفتر سے باہر نکلنے کا موقع کم ہی ملتا ہے، اِس لئے وہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو زیب داستاں اور افسانہ قرار دیتے رہے، لیکن لاہور ہی سے ملتان آئے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کے چیئرمین ڈاکٹر نظام الدین نے شاندار گفتگو کی اور کہا کہ یونیورسٹیوں کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کی نمائندگی کریں اور ان کے حالات کو بہتر بنانے میں اپنے علم و تحقیق اور مکالمے کو بروئے کار لائیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ بہاو الدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے دو روزہ ملتان ادبی میلے کا انعقاد کیا۔ اس میلے کے دوران بہت سے پروگرام رکھے گئے، جن کا مقصد ادب و فن کی طرف نوجوانوں کو راغب کرنا تھا۔

اِس میلے کی افتتاحی تقریب کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر طاہر امین نے کی، جبکہ مہمان خصوصی ڈاکٹر نظام الدین تھے۔ اِس ادبی میلے میں شرکت کے لئے لاہور سے ڈاکٹر نجیب جمال، اردو سائنس بورڈ کے صدر ڈاکٹر ناصر عباس نیئر، سلمان عابد، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ اُردو کے سربراہ ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، پنجاب یونیورسٹی کے ڈاکٹر ضیاء الحق ملتان آئے۔ بہاؤلپور سے آئے ہوئے ڈاکٹر نصر اللہ خان ناصر نے مختلف حوالوں سے خطے کی محرومیوں کا تذکرہ کیا۔ اُن کی گفتگو حوالوں اور شواہد سے بھرپور تھی۔ اُن کا تھیسز یہ تھا کہ لوگوں کو اپنی شناخت کے ساتھ شرکت کا احساس دلائے بغیر قومی یکجہتی کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ جنوبی پنجاب کی تہذیب و ثقافت اپر پنجاب کے مقابلے میں یکسر مختلف ہے۔ اِسی طرح ادب اور ادیب کا اندازِ فکر بھی ایک خاص رجحان اور کیفیت کا حامل ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ یہ چیزیں صرف یہیں تک محدود رہ جائیں بلکہ انہیں قومی سطح پر بھی شناخت ملنی چاہئے۔ اب ایسی باتوں کو ہر سطح پر سراہا جانا چاہئے، انہیں نظرانداز کرنا خطرناک ہے کیونکہ جب محرومیاں بہت بڑھ جاتی ہیں، تو اُن کا منفی انخلاء شروع ہو جاتا ہے۔

مجھے حیرت ہے کہ یہی بات لاہور سے آئے ہوئے ایجوکیشن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رؤف اعظم کو بُری لگی، حالانکہ ایک بڑے ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے یہ اُن کا فرض تھا کہ وہ اِس پہلو کو اہمیت دیتے۔ مثلاً وہ اپنی یونیورسٹی کی اِس خطے میں نمائندگی کے حوالے سے ہی دیکھتے تو اُنہیں اندازہ ہو جاتا کہ پنجاب کی سطح پر قائم ایجوکیشن یونیورسٹی جنوبی پنجاب کو کتنا نظر انداز کر رہی ہے۔ ملتان میں کئی دہائیوں سے ایک ایجوکیشن کالج قائم تھا، اُسے لیپا پوتی کرکے ایجوکیشن یونیورسٹی کے ملتان کیمپس کا درجہ دے دیا گیا۔ محدود سی بلڈنگ اور محدود سی جگہ، کیا جنوبی پنجاب کے طلبہ و طالبات کی ضرورتیں پوری کرسکتی ہے، پرائیویٹ تعلیمی ادارے جو یہاں چند سال پہلے قائم ہوئے اُن کے بڑے بڑے کیمپس بن گئے، مگر سرکاری اداروں کو پہلے سے موجود عمارتوں میں کھول دیا گیا۔ پہلے گورنمنٹ کالج برائے خواتین کچہری روڈ پر خواتین یونیورسٹی کا بورڈ لگا پھر ایجوکیشن کالج پر ایجوکیشن یونیورسٹی ملتان کیمپس کا بورڈ آویزاں کر دیا گیا۔ ہر سال کروڑوں روپے فیسوں کی مد میں لینے والی یہ یونیورسٹی سکول جیسے ماحول میں یونیورسٹی کیمپس چلا رہی ہے جس یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی سوچ احساسِ محرومی کو حقیقت ہی نہ مانتی ہو، اُس کی زیر نگرانی یہ نہ ہو تو کیا ہو۔

ہائیر ایجوکیشن کمشن کے چیئرمین ڈاکٹر نظام الدین گجرات یونیورسٹی کے بانی ہیں اور اُسے کامیاب بنانے پر اُنہیں چیف منسٹر شہبازشریف نے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمشن پنجاب کی ذمہ داری سونپی۔ مَیں ایک بار میٹنگ کے سلسلے میں ارفع کریم

ٹاؤر میں قائم اُن کے دفتر گیا تو مَیں نے دیکھا وہ ہر بات میں تعلیم کا معیار بڑھانے کی بات کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کی کاوشیں قابلِ قدر ہیں۔ وہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں کوالٹی ایجوکیشن کے لئے سیمینار کراتے، ماہرین کے لیکچرز دلواتے اور اساتذہ و پرنسپلز کی تربیت کے لئے ورکشاپس منعقد کراتے ہیں جس کے خاطر خواہ نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے ادبی میلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک خاص نکتہ اُٹھایا۔ اُنہوں نے کہا کہ ملتان کو نصف جہان کہا جاتا ہے، پھر اسی نصف جہان کے اثرات اردگرد کے شہروں پر کیوں مرتب نہیں ہو رہے۔ یہ جو ادبی میلہ منعقد کیا گیا ہے، اس میں جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں کی نمائندگی کیوں نہیں ہے۔ ایسی باتوں سے تو احساسِ محرومی مزید بڑھے گا۔

لاہور اس لئے ایک بڑا تہذیبی و علمی شہر بنا ہے کہ اُس نے اپنے قرب و جوار میں اپنے اثرات پہنچائے ہیں۔ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ساہیوال اور فیصل آباد اسی لئے ترقی کے دھارے میں داخل ہوئے ہیں کہ لاہور نے اُنہیں سپورٹ کیا ہے۔ علمی، ادبی، ثقافتی، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے لاہور نے ایک حب کا کردار ادا کرتے ہوئے ترقی کے اثرات پھیلائے ہیں، یہی کام ملتان کو بھی کرنا چاہئے۔ ملتان کبھی اکیلا ترقی نہیں کر سکتا، اسے اپنے اردگرد کے شہروں کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ زکریا یونیورسٹی ملتان بے شک ہر چھ ماہ بعد ادبی میلے کا اہتمام کرے اور اُس میں جنوبی پنجاب کے سب علاقوں کو نمائندگی دے، ہائر ایجوکیشن کمشن ایسے میلوں کو سپانسر کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لئے نئی نسل کو ادب، ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی طرف راغب کرنا ہوگا۔ اُنہوں نے وائس چانسلر کو تجویز پیش کی کہ وہ زکریا یونیورسٹی میں ایک سٹوڈنٹ سنٹر قائم کریں، جو بہت بڑی بلڈنگ میں ہو، جس میں ہر قسم کی مثبت سرگرمیوں کے مواقع موجود ہوں، ہائر ایجوکیشن کمشن اُس کے لئے فنڈز مہیا کرنے کو تیار ہے۔ میرا خیال ہے اس پیشکش سے زکریا یونیورسٹی کو فوری طور پر فائدہ اٹھانا چاہئے۔

زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طاہر امین نے اپنے صدارتی خطاب میں بہت اچھی باتیں کیں۔ اُنہوں نے کہا ادب، ثقافت اور موسیقی سب انسان کو اعتدال پسندی کا درس دیتے ہیں۔ سب سے بڑا مذہب انسانیت کا ہے، اسی لئے قرآن مجید میں حضور اکرم ﷺ کو رحمتہ للعالمین کہا گیا ہے، اپنے عقیدے یا رائے کو دوسروں پر تھوپنا، خطرناک رحجان ہے، جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی نے اپنے شاندار اور پرامن تعلیمی ماحول اور معیاری تحقیق کی بنیاد پر ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ ہم اسے مزید آگے لے جانا چاہتے ہیں، یہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں دوسرا ادبی میلہ ہے۔ آئندہ اس کا دائرہ مزید بڑھا دیا جائے گا، کیونکہ مکالمے کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ضروری ہے کہ اس سے فکر و تصور کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ دو روزہ ادبی میلے میں مختلف موضوعات پر نشستیں ہوئیں۔ اکثر موضوعات سرائیکی وسیب کی صورت حال سے متعلق تھے۔ اچھی بات یہ تھی کہ اس میں خواتین کو بھی بھرپور نمائندگی دی گئی۔ جنوبی پنجاب کی لکھاری خواتین کے ساتھ مکالمہ کی نشست جس کی نظامت ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے کی، نہ صرف خواتین لکھاریوں کی تخلیقات کا تعارف ثابت ہوئی بلکہ اُس میں اس خطے کی عورت کے مسائل اور محرومیاں بھی زیر بحث آئیں۔

ملتانی ثقافت کے مختلف شعبوں کو اُجاگر کرنے کے لئے دست کاری اور ہنرمندوں کے فن کا احاطہ کرنے والی سرگرمیوں کو اس میلے میں شامل کیا گیا۔ اس ادبی میلے کے کوآرڈینیٹر شعبہ اُردو کے چیئرمین ڈاکٹر قاضی عابد تھے۔ اُنہوں نے جب سے شعبے کا چارج سنبھالا ہے، یونیورسٹی میں ادبی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، اُن کے ساتھ ڈاکٹر عقیلہ جاوید، ڈاکٹر فرزانہ کوکب، ڈاکٹر سجاد نعیم اور ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب بھی اس میلے کی کامیابی کے لئے پیش پیش رہے۔ اس میلے میں سرائیکی کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کو بھی بطور خاص بلایا گیا، جنہوں نے اپنی شاعری سے سماں باندھ دیا۔ اچھی بات ہے کہ اب یونیورسٹیاں صرف سائنسی علوم کی سنگلاخ زمین پر ہی تیشہ نہیں چلا رہیں بلکہ علمی و فکری حوالے سے بھی چراغ جلانے کی کوشش کر رہی ہیں، جن کی فی زمانہ معاشرے کو اشد ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم