بری شہریت کے حامل ، 200پولیس اہلکاروں کو بطور سزا پنجاب کانسٹیبلری رپورٹ کرنے کا حکم

بری شہریت کے حامل ، 200پولیس اہلکاروں کو بطور سزا پنجاب کانسٹیبلری رپورٹ کرنے ...

لاہور(خبرنگار) صوبائی دارالحکومت کے مختلف تھانوں ، انویسٹی گیشن ونگ اور سیکیورٹی برانچ میں تعینات 200سے زائد اہلکاروں کے محکمانہ ریکارڈ کی چھان بین مکمل، بری شہرت کے حامل 200 اہلکاروں کو اگلے دو سال کے لئے سزا کے طور پر پنجاب کانسٹیبلری فاروق آباد رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور پولیس کے 1100سے زائد اہلکاروں کے بارے میں پولیس کے اپنے شعبہ ویجیلینس سیل نے رپورٹ تیار کر رکھی ہے کہ یہ اہلکار کئی کئی سال سے تھانوں میں ایس ایچ اوز کے کار خاص کے طور پر ڈیوٹی کر رہے ہیں اور ان اہلکاروں کے جرائم پیشہ افراد سے مبینہ طور پر تعلقات ہیں اور کریمینل ریکارڈ کے ساتھ ساتھ محکمانہ کارکردگی بھی ٹھیک نہ ہے۔ رپورٹ پر لاہور پولیس کے مختلف تھانوں، انویسٹی گیشن ونگ ، سی آئی اے اور سیکیورٹی برانچ میں کئی کئی سال سے تعینات اہلکاروں کے محکمانہ ریکارڈ کی چھان بین کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے جس میں پہلے مرحلہ میں 200اہلکاروں کا محکمانہ ریکارڈ اور کریمینل ریکارڈ چیک کیا گیا اور بری شہرت کے حامل اہلکاروں کو لاہور پولیس سے فارغ کر دیا گیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تبادلے کی لسٹیں پنجاب کانسٹیبلری کو بھجوادی گئیں ہیں اور آئی جی آفس،ڈی آئی جی آپریشنز و انویسٹی گیشن کے دفتر وں میں بھی اطلاع دے دی گئی ہے ۔ سکیورٹی ڈویژن میں تعینات پولیس اہلکاروں کو بھی فاروق آباد بھجوایا گیا ہے ،پولیس اہلکاروں کو اگلے 3روز کے اندر پنجاب کانسٹیبلری فاروق آباد شیخوپورہ رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایس ایس پی ایڈمن رانا ایاز سلیم نے اہلکاروں کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

مزید : علاقائی