ایک دوسرے کے کام میں غیر آئینی مداخلت ملک کیلئے خطرناک : رضا ربانی

ایک دوسرے کے کام میں غیر آئینی مداخلت ملک کیلئے خطرناک : رضا ربانی

کراچی(این این آئی)چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے کہاہے کہ ملک کی اشرافیہ نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کافی ہاؤس کو ختم کیااورملک میں انتہاپسندی کو پروان چڑھایا گیا،انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے استحکام کے لیے ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کرکام کرنا ہوگا،ایک دوسرے کے کام میں غیر آئینی مداخلت ملک کے لئے خطرناک ہوسکتی ہے۔ وہ نیشنل میوزیم میں ناموربیوروکریٹ عبدالقادرمنگی کی آٹوبایو گرافی پرمبنی کتاب کی تقریب رونمائی سے بطورمہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ میاں رضاربانی نے کہاکہ آج کے دور میں کتاب سے محبت نہیں رھی،ملک کی اشرافیہ نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کافی ہاس کو ختم کیا اورانتہاء پسندی کوپروان چڑھایا کچھ قوتیں دہشت گردی کے ذریعہ ریاست کے طرز زندگی کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں،ایسے ماحول میں کتاب لکھنا بڑی بات ہے انہوں نے کہاکہ مثبت سوچ رکھنے والی تحریکوں کو معاشرے کی سمت کا فیصلہ کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمان کو شفاف ہونے کی ضرورت ہے,پارلیمان کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عوام کے حقوق کی ترجمان ہے چیئرمین سینٹ نے کہا کہ احتساب کے بغیر کوئی معاشرہ کوئی ملک نہیں چل سکتا،سینٹ اور سینٹرز نے خود کو احتساب کے لئے پیش کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان سب سے کمزور ترین ادارہ ہے کسی بھی الیکشن کے بعد سیاسی صورتحال بہتر ہوتی ہے، آئین کی حکمرانی نہ ہو اور ادارے کمزور ہوں تو پارلیمان سے متعلق اسطرح کے حالات پیدا ہوتے ہیں ، آئین کے مطابق پارلیمنٹ کو سب سے زیادہ مضوط ادارہ ہونا چاہیے۔تقریب میں رکن سندھ اسمبلی مہتاب اکبرراشدی، جسٹس ریٹائرڈ اسلم جعفری، ڈاکٹرسلیمان شیخ ، مظہرجمیل ، اعجازمنگی ، یوسف شاہین اورمختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

رضا ربانی

مزید : صفحہ اول