سیاست میں عدالتی کردار نے شدید سیاسی ردعمل کو جنم دیا : بیرسڑ راحیل کامران

سیاست میں عدالتی کردار نے شدید سیاسی ردعمل کو جنم دیا : بیرسڑ راحیل کامران

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاکستانی سیاست میں عدالت کے کردار پر بحث اور مناسب قرارداد کی منظوری کیلئے پاکستان بار کونسل میں تحریک پیش کردی گئی ۔یہ تحریک پاکستان بار کونسل کے رکن بیرسٹر راحیل کامران شیخ نے پیش کی ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ میاں نوازشریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے الگ کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے 21فروری کے فیصلے نے ملکی سیاست میں جوڈیشلائزیشن کے رجحان کے معاملہ پر بحث چھیڑ دی ہے ۔سیاسی تنازعات ، عوامی پالیسی اور بڑے اخلاقی معاملات کے حل کیلئے عدالتوں پر انحصار کیا جارہا ہے ۔راحیل کامران شیخ کی طرف سے پاکستان بارکونسل کے ممبران کو بھجوائے گئے مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ پاناما پیپرز کا معاملہ سامنے آنے کے بعدپاکستان بار کونسل کے کچھ ارکان کا خیال تھا کہ آئین کے آرٹیکل184(3)کے تحت سپریم کورٹ کو اس بابت کیس کی سماعت کا اختیار حاصل ہے جبکہ دیگر ارکان اس سلسلے میں مختلف رائے رکھتے تھے ،دوسری رائے رکھنے والوں کے تحفظات تھے کہ اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کوسیاسی بنا دے گی ۔انہوں نے اپنا خیال ظاہر کیا ہے کہ سیاسیات میں عدالتی کردار نیا نہیں ہے ۔سپریم کورٹ اس سے پہلے بھی حکمرانوں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرتی آئی ہے ،بے نظیر بھٹو، نوازشریف اور 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے مقدمات اس کی مثال ہیں ۔پاکستان کا دستور بھی ایک سیاسی دستاویز ہے جس کے تحت عدالتیں اور سیاسی ادارے قائم ہیں اور عدالتوں کو آئین کی تشریح کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر فوج کی سیاسی مداخلت کے حوالے سے بھی عدالت کا بطور ادارہ کردار رہا ہے ،عدالتی اختیار کے استعمال کو عوام کی اکثریت مسترد نہیں کرتی ۔یہ معاملات سیاسی خطرات کی نسبت ججوں کیلئے زیادہ حساس ہیں جیسا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو ان کی موت کے بعد بھی معاف نہیں کیا گیا جبکہ فوجی آمر کا ساتھ دینے والوں کو مختلف حکومتی ادوار میں وزیر کے طور پر بھی خوش آمدید کہا گیا ۔ملکی سیاست میں حالیہ عدالتی کردار نے شدید سیاسی رد عمل کو جنم دیا ہے جس کا مقصد عدالتوں کی انتہائی فعالیت کے پر کترنا ہیں ۔راحیل کامران شیخ نے اپنے خط میں پاکستان بار کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی بار میں سیاست میں عدالتی کردار کی نوعیت اور وسعت کے حوالے سے بحث کرکے مناسب قرارداد منظور کی جائے۔

تحریک پیش

مزید : صفحہ اول