ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کو ’’تارکین وطن کا ملک‘‘ کہنا چھوڑ دیا

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کو ’’تارکین وطن کا ملک‘‘ کہنا چھوڑ دیا

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تمام اہم آئینی اور قانونی دستاویزات میں تارکین وطن پر تفاخر کے اظہار کے ساتھ ساتھ اسے ہمیشہ ’’تارکین وطن کا ملک‘‘ قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن اب ایسا کیا ہوا کہ امیگریشن کے محکمے، ’’یو ایس آئی ایس‘‘ نے اپنے تازہ ’’مشن بیان‘‘ سے یہ اصطلاح غائب کر دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے جس کا مقصد اس واضح تبدیلی کا پیغام دینا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی میں تارکین وطن کی اہمیت باقی نہیں رہی۔ رہائش اور شہریت کے اس محکمے کے تبدیل شدہ منصبی کام کا مسودہ اس کے سربراہ لی فرانسس سسنا 19 اپریل کو یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس محکمے کے سربراہ بننے سے قبل ہی یہ رائے رکھتے تھے کہ ’’ایچ ون بی‘‘ ویزا جاری کرنے سے مقامی ملازمین کے حقوق متاثر ہوتے ہیں اور اس طرح وہ تارکین وطن کے بارے میں ایک مزاحمتی سوچ رکھتے تھے۔صدر ٹرمپ کی تارکین وطن کے حوالے سے منفی سوچ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، جو اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی یہ اظہار کرتے رہے ہیں کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ امریکی امیگریشن نظام میں واضح تبدیلیاں لے کر آئیں گے۔ گزشتہ برس ایک جائزے میں بتایا گیا تھا کہ امیگریشن کے امریکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اس سے مستفید ہونے والوں میں واشنگٹن ڈی سی سرفہرست ہے، لیکن اس کے باوجود انتظامیہ کا تارکین وطن سے مخالفانہ رویہ جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کے حکم پر گزشتہ برس ’’ایچ ون بی‘‘ کا ویزہ عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا اور انہوں نے کانگریس پر زور دیا تھا کہ وہ ’’ویزہ لاٹری پروگرام‘‘ کے خاتمے میں اس کی مدد کرے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد متعدد مسلم ممالک سے آنے والے وزیٹرز پر پابندیاں لگائی تھیں، جن پر انہیں اندرون اور بیرون ملک شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد انتظامیہ کی عدلیہ سے محاذ آرائی شروع ہوگئی تھی۔ اوبامہ انتظامیہ کے دور میں تارکین وطن کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جاتا تھا۔ سینیٹ میں ڈیمو کریٹک لیڈر ڈک ڈربن نے ’’مشن جہان‘‘ میں تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسے تبدیل کرسکتی ہے، لیکن وہ ہماری تاریخ نہیں بدل سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ٹرمپ انتظامیہ ایسا کرکے ہماری بدل سکتی۔ ہم انہیں اپنا مستقبل تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہم تارکین وطن ملک ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

مزید : صفحہ آخر