سول افسران بارے عمران خان کی زبان قابل مذمت ،رانا ثنا ء اللہ

سول افسران بارے عمران خان کی زبان قابل مذمت ،رانا ثنا ء اللہ

لاہور( جنرل رپورٹر‘ نمائندہ خصوصی ) صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر عمران خان نے کسی کا آلہ کار بن کر نہ صرف محمد شہباز شریف بلکہ پنجاب کے سول آفیسرز پر بھی من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں ان کے پاس احدچیمہ یا پھر ان کے خاندان کے کسی بھی فرد کو حکومت پنجاب کی طرف سے کوئی ایک بھی پلاٹ کا ثبوت ہے تو وہ سامنے لائیں وگرنہ اپنے الزامات پر قوم سے معافی مانگیں۔ایوان وزیراعلی میں رانا ثنا اللہ نے ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خاں کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی نہ اپنی عزت ہے اور نہ وہ کسی دوسرے کی عزت محفوظ رہنے دینا چاہتا ہے اور اس نے منہ میں جو آئے اسے کہہ دینا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں سول آفیسرز کا نام لے کر ہرزہ سرائی کی ہے اور یہ تاریخ میں نئی بات ہے اور کسی شخص کو اتنا گرنے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا ۔ سول آفیسرز آئینی و قانونی طور پر سیاست نہیں کر سکتے اور نہ کسی بات کا جواب دے سکتے ہیں ۔ عمران خان نے فواد حسن فواد، آفتاب سلطان، امداد اللہ بوسال، عمر رسول سمیت دیگر کا نام لیا ہے جن کی 25سے 35سالوں کی سروس ہے اور ان افسران نے دیانتداری سے او رمیرٹ پر سروس کی ہے ،انکے بغیر حکومت کے امور نہیں چلائے جاسکتے ۔ عمران خان نے سول آفیسرز کے بارے میں جس طرح کی زبان استعمال کی ہے وہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے ۔ پنجاب حکومت ، سیاستدانوں اور (ن) لیگ کی جانب سے ان افسران سے معذرت خواہ ہوں کیونکہ ہماری وجہ سے انہیں بے عزت ، بے شرم شخص کی گفتگو کرنا کا سامنا کرنا پڑا ۔ عمران خان اپنی الفاظی سے قوم کو گمراہ کرتا ہے ، اس نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے نو سالوں میں نو ہزار ارب روپے خرچ کئے ہیں جبکہ ہمارا گزشتہ سال کا بجٹ 1762ارب روپے کا تھا جس میں ایک بڑا حصہ تنخواہوں کی مد میں خرچ ہوتا ہے ۔ خیبر پختوانخواہ کی آبادی پنجاب کا چوتھاحصہ ہے کیا وہاں 2ہزار ارب روپے عمران خان یا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے خرچ کئے ہیں۔ احد چیمہ یا اس کی فیملی کو دس یابیس نہیں ایک پلاٹ دکھادے جو اربوں یا کروڑوں نہیں لاکھوں روپے مالیت کا ہی ہو۔ اگر تم میں غیرت ہے تو اسے ثابت کرو اس پلاٹ کا نمبر اورمالیت بتاؤ یا اس کا کوئی تحریر آڈر دکھا دو۔ الزام عائد کیا گیا کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں14ارب روپے کی کرپشن ہوئی جبکہ اس کی تو ادائیگی ہی نہیں ہوئی۔ یہ کہا گیا کہ احد چیمہ نے 32کنال اراضی رشوت کے طور پر لی حالانکہ جس کمپنی پر الزام لگایا گیا ہے اس کا کنٹریکٹ منسوخ ہو گیا اور وہ ہائیکورٹ میں ہے ۔ احد چیمہ کے پاس اس اراضی کی خریداری کی پوری ٹریل موجود ہے اور انہوں نے اپنے اثاثوں میں بھی اسے ظاہر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ احد چیمہ سے 21فروری کو بطور سی ای او ریکارڈ مانگا گیا جس پر انہوں نے کہا کہ وہ 26فروری کو بورڈ کے اجلاس سے منظوری لینے کے بعد پیش کر دیں گے انہوں نے ڈھائی بجے نیب کو جواب بھیجا اور ساڑھے تین بجے انہیں گرفتار کر لیا گیا ۔ وہ ایک کمپنی کا سربراہ ہے لیکن اسے مجرموں کی طرح پکڑا گیا اور پھر ایک پولیس والے کو بندوق پکڑوا کر سینے پر کھڑا کر کے اس کی تصویر جاری کر دی گئی ۔ نیب نے اپنے قانون او رپروسیجر کو ایک طرف رکھ کر کارروائی کی جس پر سول آفیسرز او رپنجاب حکومت کے تحفظات ہیں۔ ہم نے اداروں میں ٹکراؤ کی پالیسی نہیں اپنائی ،اداروں میں ٹکراؤ ہوتا ہے اور نہ ہوگا اور نہ ہونا چاہیے ،ہم نے اس معاملے سے عدالت سے رجوع کیا ہے اور نیب سے کہا ہے او ریہ متعلقہ پلیٹ فارم ہے ۔ انہوں نے نیب کی جانب سے سکیورٹی کے لئے رینجرز کو طلب کرنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے اندر کا خوف ہوگا حالانکہ پولیس بھی انہیں سکیورٹی دے رہی ہے ۔وہ قانون کے مطابق فوج کو بھی بلا سکتے ہیں ۔ انہوں نے نیب قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ سوچ اور لوگوں کی بھی ہے اس پر اسمبلی میں بحث کریں گے اور جو بہتر ہوا وہ اقدام کیا جائے گا۔

رانا ثنا

مزید : کھیل اور کھلاڑی /پشاورصفحہ آخر