مدعی یا حکمران نہیں منصف بنو: مریم نواز: احد چیمہ میں شہباز شریف کی جان: عمران خان، میاں ، کپتان کا ایجنڈا عوامی نہیں ذاتی: بلاول بھٹو

مدعی یا حکمران نہیں منصف بنو: مریم نواز: احد چیمہ میں شہباز شریف کی جان: عمران ...

سرگودھا(بیورو رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز نے کہا ہے آمریت دور میں بھی کبھی کسی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر نہیں رکھا گیا، لیکن اس بار ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) سینیٹ کا الیکشن اپنے انتخابی نشان سے نہیں لڑ سکے گی جو ووٹروں اور ووٹ کی پرچیوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے، چند افراد کا بندوق یا قلم کے ذریعے اپنی رائے مسلط کرنا آمریت سے کم نہیں ، نواز شریف کو صدارت اور وزارت سے محروم کرنیوالے عوام کے دلوں سے نہیں نکال سکتے، عوام بڑے فیصلے کیلئے تیار رہیں، گزشتہ روز باغ جناح سرگودھا میں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب میں انکامزید کہنا تھا میں عوام کی عدالت میں پاکستان کا مقدمہ لے کر آئی ہوں، پچھلی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ملک کیلئے مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں، تنخواہ نہ لینے پر وزارت عظمیٰ چھینی اور اب پارٹی صد ا ر ت بھی چھین لی ، لیکن عقلمندوں کو کوئی سمجھائے نواز شریف کی محبت دلوں سے نہیں نکالی جا سکتی، نواز شریف کو صدارت اور وزارت کی کوئی ضرو ر ت نہیں، صدر اور وزیر اعظم اﷲ کے کرم اور عوام کی محبت سے بنے انہیں سیاسی طور پر روکنے کیلئے کروڑوں ووٹروں کو بھی نا اہل کرنا ہو گا، کر پشن نہ کرنے کی وجہ سے خیبر سے کراچی تک عوام نواز شریف کیلئے سڑکوں پر نکلے ہیں، الزامات لگانے والے کوئی ثبوت بھی دکھا ئیں ، نواز شریف اور شہباز شریف نے بڑی تعداد میں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں، اس میں سے کرپشن سامنے لائی جائے، زیادتی نواز شر یف کیسا تھ نہیں ووٹ کی پرچی کیساتھ ہوتی ہے، انکے حق کیلئے عوامی عدالت پر اعتراضات بلا جواز ہے۔ عدلیہ بحالی کیلئے چلائی جانیوالی تحریک جا ئز تو ووٹ کا تقدس اور حرمت بحال کرانے کیلئے چلائی جانے والی تحریک غلط کیسے ؟ سپریم کورٹ کے 17 میں سے 5 جج نواز شریف کے کیسز میں لگے ہوئے ہیں، نیب کی جانب سے نواز شریف اور میرے خلاف جو گواہ تیار کیے گئے انکی گواہی سچ بن کر ہمارے حق میں آئی ہے ، ایسے ہتھکنڈوں سے نواز شریف کی عزت کم نہیں ہو سکتی کیونکہ انہیں عزت اﷲ نے دی ہے، لاڈلا بھی پانامہ فیصلے پر یہ کہنے پر مجبور ہو گیا یہ کیسا فیصلہ ہے۔ مریم نواز نے کہا منصفو !مدعی مت بنو، آئین پاکستان کہتا ہے حاکمیت اﷲ کے بعد عوام ،حاکم نمائندے ہیں۔ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، خطرناک لڑائی مت لڑیں، اسکا نقصان پاکستان کو ہو گا۔ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی، سازشوں اور لاڈلوں کے ڈبے خالی نکلیں گے، نواز شریف عوام کی جنگ لڑ رہے ہیں، نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی بنیں گے اور آئندہ وزیر اعظم بھی ہونگے۔ پاکستان اب تک مولوی تمیز الدین اور جسٹس منیر کے فیصلوں کو رو رہا ہے، عوام کی عدالت میں نواز شریف کا نہیں بلکہ پاکستان کا مقدمہ لائی ہوں۔ ہم آمریت کے اندھیروں کو مٹانے کی کوشش کررہے ہیں، کیا کسی نے کبھی دیکھا پوری جماعت کو الیکشن سے باہر کردیا ہو اور اس جماعت کو جو 22 کروڑ عوام کی نمائندہ ہے، اس پوری جماعت کو الیکشن سے باہر کردیا بلکہ شیر کا نشان بھی چھین لیا گیا۔ مذاق شیر کے نشان اور مسلم لیگ کیساتھ ہوا ہے اور یہ نواز شریف نہیں بلکہ عوام کیساتھ مذاق ہوا ہے، نواز شریف کے چاہنے والوں کے ووٹوں کی پرچیوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے، عوام کی رائے پر اپنی رائے بندوق یا قلم کے ذریعے نافذ کرنا آمریت ہے۔ جس طرح عوام نے نواز شریف کا مقدمہ لڑا ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔ پرویز مشرف نے چیف جسٹس سمیت 60 ججز کو نکال کر باہر کردیا تھا اور ان کے بچوں کا دودھ بند کردیا تھا تو یہ منصف بھی اپنے آپ کو بحال کرانے کیلئے عوام کی عدالت میں آئے تھے۔ عوام قانون کے رکھوالوں کیلئے باہر نکلے تو ٹھیک ہے لیکن عوام اپنے رکھوالے کیلئے باہر نکلے تو توہین عدالت ہوجاتی ہے۔ دنیا بھر میں یہ ہوتا ہے کہ ملزم کو شک ہوتا ہے کہ مقدمہ سننے والا جج انصاف نہیں کرسکتا اور بغض و عناد رکھتا ہے تو اس میں اخلاقی جرات ہوتی ہے کہ وہ خود بینچ سے ہٹ جاتا ہے لیکن یہاں پانامہ کا 5 رکنی اسکواڈ نواز شریف کیخلاف ہر وقت تیار رہتا ہے۔لاکھوں کی تعداد میں عوام انصاف کے منتظر ہیں۔ 2 روز قبل دنیا نے دیکھا نیب ہمارے خلاف گواہ تیار کرکے لایا لیکن وہ ہمارے حق میں گواہی دے کر چلے گئے۔ نواز شریف کی طاقت میں کمی نہیں آئی بلکہ ان کی اور مسلم لیگ (ن) کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت چلانا عوام پر چھوڑ دو اور مقدس اداروں کو سیاسی لڑائی میں مٹ گھسیٹو۔ سرگودھا کے شاہینوں کو نواز شریف کی بیٹی کا سلام، سرگودھا کے ادارے کو جہاں یتیم بچے پڑھتے ہیں ان کو عطیہ دے کر جا رہی ہوں، نواز شریف کو ہٹانے کے بعد میں نے ایک نیا نعرہ سنا ’’میں بھی نواز شریف ہوں‘‘ ووٹر نواز شریف کیخلاف فیصلے کو نہیں مانتے، میاں صاحب سرگودھا کے عوام ’’وی لو یو‘‘، نواز شریف وہ واحد وزیراعظم ہے جو دو مرتبہ وزیراعلیٰ رہا اور 3مرتب وزیراعظم رہا، پاکستان میں سب سے بڑے منصوبے نواز شریف نے لگائے، ان میں بجلی گھر، موٹروے، سی پیک شامل ہیں، اگر کوئی کرپشن ہوئی ہوتی تو سامنے آتی، کسی درخواست گزار اور کسی جج نے یہ بات نہیں کہی نواز شریف نے 10روپے کی کرپشن بھی کی۔ نواز شریف پر مقدمہ اسلئے چلایا کہ بیٹی کو تحفے کیوں دیئے، نواز شریف کے عوامی عدالت میں جانے پر بھی اعتراض لگایا گیا۔ نواز شریف اگر آپ کے پاس نہ جاتا تو کہاں جاتا،

ہم اس انتقام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن نے سارے شیروں کو اکٹھا کر دیا ہے، 2018کا الیکشن شیر جیتے گا، نواز شریف کی کرپشن ہے تو دکھاؤ اس کے اثاثے مت دکھاؤ، احتساب کرو استحصال مت کرو، حساب کرو، انتقام مت لو،اس موقع پر انہوں نے پوچھا انتخابات میں الیکشن کے ڈبے میں سے کیا نکلے گا جس پر عوام نے نعرہ مارا’’شیر‘‘۔ مریم نواز نے کہا ووٹ صرف اس کو دینا جس کے کندھے پر نواز شریف کا ہاتھ ہو،نوازشریف کا ساتھ دو گے، کیا نواز شریف کیساتھ یاری توڑ نبھاؤ گے، اس پر حاضرین نے ہاں میں نعرہ بلند کیا، آزمائش کی یہ گھڑی صرف نواز شریف اور میرے لئے نہیں بلکہ پورے پاکستان کیلئے ہے، وعدہ کرو وہ کردار ادا کرو گے جو سرگودھا کے شیر جوانوں اور دلیروں سے امید رکھی جا سکتی ہے، کیا بڑے فیصلے کیلئے تیار ہو، میں مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا کے ونگ کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ مریم نواز نے آخر میں وزیراعظم نواز شریف کے نعرے بھی لگائے، جس پر عوام نے بھی نعرہ بلند کیا۔

مریم نواز

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایل ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر احد چیمہ کی گرفتاری پر کہا ہے احد چیمہ وہ طوطا ہے جس میں شہبازشریف کی جان ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکامزید کہنا تھا احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد ہڑتالیں اور پوسٹروں کی مہم شروع ہوگئی، احد چیمہ نہ ہوا نیلسن منڈیلا ہوگیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ احد چیمہ شہباز شریف کا فرنٹ مین ہے، یہ ایسا آدمی تھا جو اربوں کے منصوبے دیکھ رہا تھا۔اپنے کینسرہسپتال کی لاگت سے موازنہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا احد چیمہ پر 14 ارب روپے کے آشیانہ ہاؤسنگ منصوبے میں گھپلوں کا الزام ہے جبکہ پشاور میں شوکت خانم میمو ر یل کینسر ہسپتال 4 کروڑ میں بنا، حالانکہ ایک کینسرہسپتال کافی مہنگا ہوتا ہے۔عمران خان نے کہا ان لوگوں نے چن کر اپنے خاص بیوروکر یٹس اداروں میں بٹھائے ہوئے ہیں، جن میں فواد حسن فواد، آفتاب سلطان، قمر زمان چوہدری، زاہد سعید، سبطین فضل علیم اور دیگر شامل ہیں ۔پریس کانفرنس میں عمران خان نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کو بیوروکریسی کا 'گاڈ فادر' قراردیا اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا آفتاب سلطان حلقوں کا انتخاب کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کا کون سا امیدوار جیت سکتا ہے اور کون نہیں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا آئی بی کا کام حلقے چننا نہیں ۔ سابق ڈی جی نیب قمر زمان چوہدری بھی ان کے خاص بندے تھے، جن کو انہوں نے حدیبیہ پیپر ملز میں خود کو بچانے کیلئے استعمال کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 'چھوٹا ڈان' قرار دیتے ہوئے عمران خان نے کہا انہوں نے 9 سال میں 9 ٹریلین روپے خرچ کیے، وہ ڈان والی ٹوپیاں پہنتے ہیں۔انہوں نے احد چیمہ کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد پنجاب کی بیوروکریسی میں ہلچل اور احتجاج پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا بیوروکریٹ کا کام ملک کی خدمت کرنا ہے، شریف خاندان کی نہیں،احد چیمہ کی گرفتاری پر بیوروکریسی کا احتجاج بھی شرمناک ہے۔گاڈ فادر شہباز شریف کی سربراہی میں کرپٹ ٹولہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے، اگر اس ٹولے کے ہاتھ صاف ہیں تو احتساب سے کیوں گھبراتا ہے؟

عمران خان

سکھر(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے ٹکراؤ کی پالیسی جمہو ریت اور ملک کے مفاد میں نہیں۔سکھر میں ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہرجان قیمتی ہے، ایک انسان کو بچانا انسانیت بچانے کے مترادف ہے، پانچ سال سیاسی جماعت ایک شہر کو ترجیح دیتی رہی لیکن پیپلزپارٹی نے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دی،سکول،کالج ،یونیورسٹی اور 6 بڑے ہسپتال بنائے۔اس موقع پر انہوں نے سابق وزیراعظم نوازشریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا میاں صاحب نے مخالفین کیخلاف فیصلوں پربغلیں بجائیں، آپ نے سزاؤں کیلئے ججوں پر دباؤ ڈالا، میاں صاحب آپ نے ایک آمر کو معافی نامہ لکھ کردیا، آپ کو عمر قید کی سزاسنائی گئی،آپ نے اپیل تک نہیں کی، آٹھ سال بعد واپس آئے تو ساری سزائیں معاف کردی گئیں ۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا ملک میں اصل مسائل پر بات نہیں ہورہی، پانامہ اور اقامہ کی عوام کو پرواہ نہیں، آپ کو کیوں نکالا اس سے عوام کو غر ض نہیں، یہ عوام کے مسائل نہیں، عوام کے مسائل پر کام نہیں ہورہا، مہنگائی کہاں تک پہنچ گئی؟صحت و تعلیم کی صورتحال کیاہے۔ مرکز،کشمیر اور پنجاب میں ان کی حکومت ہے مگررونا ختم نہیں ہوتا، جو کام ان کو کرنا ہے وہ نہیں کرتے، جو نہیں کرنا وہ کررہے ہیں، ملک کے اثاثے اونے پونے داموں بیچے جارہے ہیں، ذاتی ایئرلائن چلارہے ہیں اور قومی ایئرلائن فروخت کررہے ہیں، حالات جیسے بھی ہوں، اپنی ماں کا زیور نہیں بیچاجاتا۔ نواز شریف اور انکے خاندان کیساتھ وی آئی پی احتساب ہورہا ہے جبکہ نوازشریف پورا نظام لپیٹنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ چھوٹے اور بڑے صوبوں کیلئے نیب اور عدالتوں کا معیار دہرا کیوں ہے، ملک کا وزیراعظم خود کو وزیر اعظم ماننے کو تیار ہی نہیں ، چیف جسٹس نے جناح ہسپتال تو دیکھ لیا اب وہ وقت نکال کر شہید بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر بھی دیکھیں اور چیف جسٹس این آئی سی وی ڈی سکھر بھی تشریف لاکر دیکھیں یہاں پر بالکل مفت و معیاری علاج ہوتا ہے۔ چاروں صوبوں کے تعلیمی بجٹ سے زیادہ لاہور کی اورنج ٹرین کا بجٹ ہے، اب عوام فیصلہ کریں کہ شوبازی چاہیے یا عوام کی حقیقی خدمت چاہیے۔ میاں صاحب نے کرپشن اور خاندانی حکمرانی بچانے کیلئے سسٹم کو داؤ پر لگا دیا، خیبر پختونخوا حکومت مدرسہ حقانیہ کو بھتہ دے رہی ہے، میاں صاحب کے گھر جانے سے عوام کو فرق نہیں پڑتا، خان صاحب انگلی اٹھنے اور نوازشریف انگوٹھے خریدنے کے چکر میں پڑگئے۔اب یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے انہیں مجھے کیوں نکالا چاہیے یا ہر شہر میں ایسے ہسپتال جہاں مفت علاج ہوتا ہے۔بلاول کا کہنا تھا کیوں مشرف کو کورٹ سے ہسپتال اور ہسپتال سے ملک سے باہر بھیج دیا جاتا ہے؟ اور شرجیل میمن جو پہلے سے علاج کروا رہا تھا، اْسے بیل کے باوجود بغیر نوٹس دیدیا، اسلام آباد ایئر پورٹ پر گھسیٹا جاتا ہے، گرفتار کیا جاتا ہے، اْسے ہسپتال سے جیل بھیج دیا جاتا ہے، میں بڑی عاجزی سے ملک کے سب سے بڑے منصف سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں آخر نواز شریف یا مشرف کے خون میں ایسا کیا ہے، جو اْنہیں ڈاکٹر عاصم یا شرجیل میمن کے خون میں نظر نہیں آتا۔ جہاں پچھلے 5 سال میں باقی نام نہاد بڑی پارٹیاں صرف ایک شہر کی سیاست کرتی رہی، ایک شہر کو ترجیح دیتی رہی، ترقی اور تبد یلی کے جھوٹے دعوے کرتی رہی، وہاں پی پی پی کی سندھ حکومت نے صوبے بھر میں اپنی توجہ صرف عوام کی فلاح کے منصوبے پر مرکوز کی، کراچی کے بعد یہ پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا دل کا ہسپتال ہے، اس ہسپتال کے قیام سے نہ صرف سندھ بلکہ بلوچستان ، ساؤتھ پنجاب، یہاں تک کہ پورے پاکستان کے لوگ مفت علاج حاصل کر کے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول