صرف مشرف دورمیں کراچی میں پیسہ لگا ،کچرا اٹھانے کا منظم نظام نہ ہونے تک شہرصاف نہیں ہو سکتا،وسیم اختر

صرف مشرف دورمیں کراچی میں پیسہ لگا ،کچرا اٹھانے کا منظم نظام نہ ہونے تک ...
صرف مشرف دورمیں کراچی میں پیسہ لگا ،کچرا اٹھانے کا منظم نظام نہ ہونے تک شہرصاف نہیں ہو سکتا،وسیم اختر

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ نالوں سے کچرا سمندر میں جا رہا ہے جس کی وجہ سے آبی حیات متاثر ہو رہی ہے ،کچرا اٹھانے کا منظم نظام نہ ہونے تک شہرصاف نہیں ہو سکتا۔

میئر کراچی وسیم اختر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر کے 95 فیصد لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں،شہرکا انفراسٹرکچر ٹھیک کیوں نہیں کیا جاتا؟،انہوں نے کہا کہ کراچی کا میئر ہوں ،میری ذمہ داری نہ ہوتی تو یہاں نہ آتا،کچرے کے وجہ سے مجھے گلے کی تکلیف ہو گئی ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ میرے پاس 13 ہسپتال ہیں مگر ادویات دستیاب نہیں ، صرف پرویز مشرف کے دورمیں کراچی میں پیسہ لگا تھا،جب تک کچرا نہیں اٹھائیں گے مسائل حل نہیں ہوں گے،لوگ کچرااٹھانے کیلئے میری طرف دیکھتے ہیں،وسیم اختر نے کہا کہ کچرا اٹھانے کا کام حکومت سندھ نے پاس رکھا ہے، عدالت اور عوام چیخ رہے ہیں کہ شہر سے کچرا اٹھائیں۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

وسیم اختر نے کہا کہ سندھ حکومت کےخلاف کوئی مہم شروع نہیں کر رہا،اتنے وسائل نہیں کہ فیومیگیشن کیلئے ہر جگہ گاڑیاں بھیجوں، انہوں نے کہا کہ ہر اتوارلوگ جمع ہو کر مسائل کے حل کیلئے سندھ حکومت پر دباﺅ ڈالیں،میں بھی ہر اتوار کو یہاں آﺅں گا۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی