حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر25

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر25
حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر25

  

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جعفرؓ نے آیاتِ قرآنی اس خوب صورتی سے ادا کیں کہ بلال یاد آ گیا۔ یہ مجھے اس واقعے کے دس سال بعد خود عمرو بن العاص نے کہا تھا۔ بہرکیف میں اس تقابل کی معافی چاہتا ہوں۔ بلال تو محض ایک نقارہ ہے، اہلِ ایمان کو نماز کے لئے بلانے والا مؤذن جسے اپنی آواز دور تک پہنچانے کے لئے ایک بلند جگہ مہیا کی جاتی ہے۔ ویسے عمرو کی گفتگو اب تک ویسی ہی لچھیّ دار ہے۔

میں نے اور لوگوں سے بھی سنا کہ اُس روز جعفرؓ کی آواز بڑی اثر انگیز تھی۔ انہوں نے سورۂ مریم کی آیات کی تلاوت کی تو محفل پر سحر چھا گیا۔ دربار کا ہر فرد حیرت زدہ، مبہوت، جعفرؓ کے منہ سے نکلتے ہوئے ایک ایک لفظ کو غور سے سُن رہا تھا۔ عیسائی علماء کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ انہوں نے ہر لفظ کو اُس کے معنی اور سیاق و سباق کے لحاظ سے اس حسن اور اعتماد سے ادا کیا کہ واقعی محسوس ہونے لگا یہ اللہ جل شانہ، کے الفاظ ہیں۔ وہ جو وحدہ، لا شریک ہے!

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’اور کتاب میں مریم کا بھی ذکر کرو،جب وہ اپنے خاندان سے الگ ہو کرایک مشرقی مکان میں چلی گئیں اور اپنے لوگوں سے پردہ کر لیاتو ہم نے اُن کے پاس انسان کی شکل میں ایک فرشتہ بھیجا۔جب مریم نے اُسے دیکھاتو بولیں اگر تُو خدا ترس ہے تو میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔فرشتے نے کہا:میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں کہ تمہیں ایک پاکیزہ بیٹا دوں۔مریم نے کہا:میرے یہاں بیٹا کیسے ہو سکتا ہے،مجھے تو آج تک کسی انسان نے چھوا بھی نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں۔فرشتے نے کہا: یوں ہی ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ،اُس کے لئے سب کچھ آسان ہے اور وہ بچے کو اسی صورت میں پیدا کرے گا۔تاکہ اُسے لوگوں کے لئے اپنی نشانی اور رحمت بنائے اور یہ سب طے ہو چکا ہے۔‘‘

ہر آنکھ سے آنسو رواں تھے اور خاموشی ایسی کہ دلوں کی دھڑکنیں سُنائی دے رہی تھیں۔ جب ان آیات کا ترجمہ سنایا گیا تو سب پر دوبارہ رقت طاری ہو گئی۔ نجاشی اپنے تخت سے اٹھا اور اُس نے جعفرؓ کو گلے لگا لیا۔

بادشاہِ وقت کے بازو اُن کے گرد حمائل تھے۔ اور عمرو تھا کہ انہیں زنجیریں پہنانے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ 

’’ہم سونے کے پہاڑ کے عوض بھی تمہیں اہلِ مکہ کے حوالے نہیں کریں گے‘‘

یہ کہہ کر نجاشی نے اپنی چھڑی کی نوک سے فرش پر ایک لکیر کھینچی اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

’’قرآن اور انجیل کا فرق اتنا ہی باریک ہے، آپ لوگ جب تک چاہیں یہاں رہیں‘‘۔ یہ کہہ کر بادشاہ نے عمرو کے تحائف اُسے لوٹا دئیے۔

عمرو آخر عمرو تھا۔ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی اُس نے ہار نہیں مانی۔ ڈھٹائی کے ساتھ بادشاہ کی طرف مسکرا کر دیکھتا رہا۔ گویا یہ سب کچھ محض ایک کھیل تھا، ایک جوأ تھا جس میں اُس کا پانسہ ذرا غلط پڑ گیا تھا۔

یہ تھا حبشہ، شیروں کا مسکن، شہد کا منبع اور انصاف کا گھر، میرے اجداد کا وطن لیکن مکہّ قافلوں اور تاجروں کا شہر تھا۔ یہاں کی ترازوؤں میں انصاف نہیں ریشم، مصالحے اور خوشبوئیں تولی جاتی تھیں۔ آیاتِ الٰہی اُن کے پاس بھی پہنچی تھیں لیکن اُن کے ذہنوں نے انہیں قبول نہیں کیا۔ اُن کے کان اُنہیں سنتے تھے مگر اُن کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے تھے۔

معاشرتی مقاطعہ

اب اذیتوں کا ایک نیا دور شروع ہوا جو کوڑوں سے کہیں زیادہ اذیت ناک تھا۔ یہ ایک اجتماعی سزا تھی۔ سرکار دوجہاں ﷺ کے سارے خاندان یعنی بنو ہاشم کے سب افراد کو شہری زندگی سے خارج کر دیا گیا۔ یہ محض ایک معاشرتی مقاطعہ نہیں تھا، اللہ کی زمین پر ایذارسانی کی ایک انتہائی ہولناک صورت، انسان پر انسان کے ظلم کی ایک بدترین مثال تھی۔ 

بنو ہاشم سے ہر قسم کا لین دین، شادی بیاہ ممنوع کر دیا گیا کوئی ان کو مہمان نہیں ٹھہرا سکتا تھا، کسی صورت میں ان کی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ نہ روپے پیسے کی صورت میں، نہ جنس اجناس کی صورت میں، نمک اور شکر کی چٹکی بھی انہیں نہیں دی جا سکتی تھی۔، یہاں تک کہ کوئی انہیں سایہ تک مہیا نہیں کر سکتا تھا۔ غرض یہ کہ انہیں ذات، قبیلہ ، برادری، تجارت، دوستی، مروت، رواداری ہر تعلق سے خارج کر کے بے یارومددگار سپردِ صحرا کر دیا گیا تھا۔ انہیں صرف اتنی رسد لے جانے کی اجازت تھی جو وہ اپنی پیٹھ پر لاد کر لے جا سکیں۔ اس فیصلے کا اطلاق بنو ہاشم کے ہر فرد پر ہوتا تھا۔ اس کے لئے سرکار دوجہاں ﷺ کے پیغام پر اعتقاد رکھنا یا نہ رکھنا، اُن کی باتیں سننا یا نہ سننا، اُن کو پسند کرنا یا نہ کرنا ضروری نہیں تھا۔ 

سرکار دوجہاں ﷺ کے ساتھ سب کو سزا دی گئی تھی اور سزا کے لئے اتنا ہی جرم کافی تھا کہ وہ اُن کے اہلِ خاندان ہیں۔ یہاں تک کہ عم زاد کا عم زاد بھی مستثنیٰ نہیں تھا۔ سب کو یوں صحرا میں دھکیل دیا گیا تھا جیسے وہ چھوت کے کسی خوف ناک مرض میں مبتلا ہوں۔ بنو مطلب نے اس اقدام کی مخالفت کی تو اُنہیں بھی اس مقاطعے میں شامل کر دیا گیا۔ صرف ابولہب، بنوہاشم سے ہونے کے باوجود اس سے مستثنیٰ تھا کیونکہ وہ علی الاعلان پیغامِ رسالت کا منکر تھا۔

مقاطعے کے اعلان کے فوراً بعد جب سرکار دوجہاں ﷺ اور خدیجہؓ بنو اسد کا خاندانی مکان چھوڑ کر بنو ہاشم کے محلے، میں اُٹھ آئے تو ابو الہب کو اُن کی ہمسائیگی اس درجہ ناگوار گزری کہ اُس نے اپنی بیوی امِّ جمیل سمیت مکے کے کسی اور محلے میں رہائش اختیار کر لی جہاں اُس نے پہلے ہی سے ایک گھر خرید رکھا تھا۔

مقاطعے کے ختم ہونے کی شرط یہ تھی کہ یا بنو ہاشم خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقاطعہ کریں یا سرکار دوجہاں ﷺ رسالت کے دعوے سے باز آ جائیں۔

مشرکین کی سوچ یہ تھی کہ اسلام کو صحرا کے حوالے کر دیا جائے جہاں وہ اپنی تمام جزئیات سمیت سورج کی ہولناک تپش میں جل بھن کر اپنی موت خود مر جائے۔ اس حکمت عملی کی ایجاد کا سہرا ابوجہل جیسے سازشی دشمن کے علاوہ کس کے سر ہو سکتا تھا۔ اُسی نے یہ منصوبہ بنایا، اُسی نے قریش کے سرداروں کا اجتماع کیا، اُسی نے اس کے حق میں دلائل دے کر سب کو قائل کیا اور آخرکار چالیس سرداروں کے دستخط سے یہ معاہدہ طے پا گیا۔

سب سردار اس کے حق میں نہیں تھے مگر ابوجہل کے جوش و خروش کے آگے سب نے اپنے اپنے اعتراض واپس لے لئے، سوائے بنو مطلب کے جن کو بنو ہاشم کے ساتھ ہی شاملِ سزا کر دیا گیا۔ یہ تھا سفارتِ حبشہ کی ناکامی پر ابوجہل کا ردِعمل!

اس دو سال سے زیادہ کے عرصے میں ہم پر جو گزری وہ ہم جانتے ہیں یا ہمارا اللہ۔ ہم نے بھوک اور صحرا کی پیاس برداشت کی۔ خاردار جھاڑیوں کے پیچھے عارضی پناہ گاہوں میں وقت گزارا۔ دن کی تپش سے بچے ہلاک ہوئے تو رات کی سردی میں کئی ضعیفوں نے جان دے دی ۔قدم قدم پر مشکلات کا سامنا تھا۔ آسمانوں سے ہم پر موسیٰ علیہ السلام کی امت کی طرح کوئی من و سلویٰ نہیں اُترتا تھا لیکن ہم نے حوصلہ نہ ہارا اور ہر اذیت برداشت کرتے رہے۔ اس برداشت میں بھی ہمارے لئے سبق تھا کہ اگر صعوبتیں بالکل ہی انسان کی کمر نہ توڑ دیں تو وہ آزمائش سے مضبوط تر ہو کر اُبھرتا ہے۔ ہمارے لئے یہ سبق شاید من و سلویٰ سے بھی بہتر تھا۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر26 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت بلال