تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... چھٹی قسط

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... چھٹی قسط
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... چھٹی قسط

  

داراشکوہ غسل خانے میں کھڑا تھا ۔ایک کنیز کمر میں جڑاؤ کمر بند اور دوسری بازوؤں میں جوشن باندھ رہی تھی کہ سلطان بیگم کی آمد کا شور ہوا۔سلطان بیگم ہو بہو اپنے مرحوم باپ سلطان پرویز پر پڑی تھیں ۔وہی نازک جسم، سبک نقشہ اور سنہری رنگت ۔ہلکے آسمانی رنگ کی پشواز اور بڑے بڑے موتیوں کے زیور پہنے چھوٹے چھوٹے قدم رکھتی اندر آئیں ۔کورنش بجا لائیں ۔دارا اسی طرح کھڑا مسکراتارہا۔ایک خواص نے دونوں ہاتھوں پر رکھ کر وہ مندیل پیش کی جس میں نیلم کے ہشت پہل دانوں کا سر پیچ چمک رہا تھا ۔جب تخلیہ ہوگیا تو سلطان بیگم اپنے جسم سے بھی زیادہ نازک آواز میں بولیں ۔

’’چہل ہزاری منصب مبارک ہو۔‘‘

’’آپ کو بھی مبارک ہو بیگم !‘‘

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

دارا نے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر مندیل کا زاویہ درست کیا۔

’’آپ خاموش کیوں ہوگئیں ؟‘‘

’’ہم بھی سفر کی تیاری کرتے ہیں ۔‘‘

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... پانچویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دارا نے اپنے گلے سے ایک ہار اتار کر بیگم کی گردن میں پہنا دیا ۔گوشت سے بھرے ہوئے سرخ وسفید ہاتھوں کے پیالے میں بیگم کا چہرہ بھر کر اوپر اٹھایا اور دل گرفتہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں ۔

’’قندھار کا سفر آگرے کا سفر نہیں ہے ۔یہ پھول سا جسم چند روز میں سوکھ کرکانٹا ہو جائے گا۔‘‘

’’مگر آپ کے بغیر شاہ جہاں آباد قندھار کے سفر سے بھی زیادہ عذاب ہوجائے گا ۔‘‘

دارا نے تردد سے بیگم کو دیکھا اور وہ آر سی پہن لی جس کے پتھر پر ’’پربھو‘‘کے حروف سنسکرت کے رسم اخط میں کنندہ تھے۔پھر متفکر آواز میں بولا۔

’’یہ ظلِ سبحانی کا حکم ہے بیگم !‘‘

دیوان خانہ علم میں قدم رکھتے ہی حاضرین کورنش کے لئے کھڑے ہوگئے۔

سنسکرت کے ودوان کبت رائے ،کوئی نرنجن داس ،ویدوں کے فارسی میں ترجمہ کرنے والے کا شی ناتھ ،اپنشدوں کے فارسی میں ڈھالنے والے دوارکانندن ،سب ہی نے تعظیم دی ۔یہ سب راجپوتی جامے اور پائجامے پہنے تھے۔ان کی پگڑیوں اور مندیلوں کے نیچے تِلک اور چندن کی سیدھی اور آڑھی دھاریاں تھیں ۔ان کے چہروں پر عالمانہ تمکنت کی چھوٹ پڑ رہی تھی اور آنکھوں سے تفکر برس رہا تھا۔دارا اپنی مسند پر گاؤسے لگ کر بیٹھ گیا۔

خواجہ سرا بسنت جو صد دروازے پر ہزاری خلعت پہنے المانیوں کی شجاعت وجلاوت کا پتلا بنا تصویر کی طرح کھڑا تھا،اندر آیا۔ساتھ ہی خدام کی ایک جماعت با انداز پر ٹھٹک کر طلائی طشتوں کو ہاتھوں پر اٹھا ئے آگے بڑھی ۔حاضرین کے عطر لگایا گیا ،گلوریاں پیش کی گئیں ،اگل دان اور حقے لگائے گئے ۔دارا نے ایک خواجہ سرا کے ہاتھ سے اپنی سٹک کی مہنال قبول کی ۔ایک کش لیا تو ساری محفل تمبا کوکی خوشبو سے معطر ہوگئی۔پھر کاشی ناتھ نے پہلو میں رکھی ہوئی ایک پرانی کتاب کھولی ۔چند سطریں پڑھیں پھر دوسری کتاب سے اس کا فارسی ترجمہ سنایا ۔دارا نے قبولیت کے اظہار میں گردن ہلادی ۔پھر خواجہ سرا بسنت کی اجازت سے چوبدار نے اطلاع دی کہ خانجہاں اسلام خاں مرزا راجہ جے سنگھ خاں کلاں ،معظم خاں مہاراجہ جسونت سنگھ اور راؤ چھتر سال دیوان خانہ حکومت میں باریابی کے منتظر ہیں ۔

دارا نے تھوڑی دیر بعد پہلو بدلا ۔حاضرین بزم کھڑے ہوگئے ۔وہ نیم نگاہ سے ان کی تسلیمات قبول کرتا ہوا باہر نکلا ۔دیوان خانہ حکومت کے سنگین چبوترے کے نیچے اس کا ذاتی محافظہ دستہ ۔راجپوتانے کے مغرور تاریخ ساز خاندانوں کے چشم و چراغ زعفرانی بانوں پر طلائی کمر بندوں میں دوہری جڑاؤ تلواریں باندھے ،مونچھیں مروڑے ،گیسو بنائے ،ہاتھوں میں لمبے نیزے لئے زعفرانی پگڑیوں میں آتشیں جیفے لگائے شیروں کی طرح کھڑے تھے ۔

دارا کی نگاہ اٹھتے ہی انہوں نے گھٹنوں تک سر جھکا کر تعظیم دی۔توپ خانہ ذاتی کے امیر آتش سیّد جعفر نے تین آداب کئے اور پیچھے چلتا ہوا دیوان خانہ حکومت میں داخل ہوگیا۔

تھوڑی دیر راز کی باتیں کرکے وہ مغلوں کے عہد زرّیں کے جلیل المر تبت امیروں کو جلو میں لے کر ظلِ سبحانی کی حضوری کے لئے چلا۔خادموں کے حلقے میں کھڑے ہوئے گھوڑے کی کسی نے رکاب تھام لی ۔دارا سوار ہوگیا۔ڈیوڑھی پر کھڑے المانی سپاہیوں کے سلام لے کر وہ ہجوم کرتے ہوئے سادھوؤں سنتوں کی طرح متوجہ ہوگیا۔مسکرا کر مزاج پُرسی کی۔

خواجہ سرا درشن کو حکم دیا کہ قدیم دُعا گزاروں کو انعام دیا جائے اور نوداردوں کے روزینے مقرر ہوں اور دولت خانہ شاہی کی طرف مڑگیا۔ 

ہلکی ہلکی سردیوں کا آفتاب ایک پہر کی عمر کا ہوچکا تھا ۔

مہایوگی سنتھ دیو گنوٹا باندھے بھبھوت ملے ،بالوں کی جٹاؤں کا مکٹ باندھے دھونی رمائے گیان دھیان میں مگن بیٹھے تھے۔پھر بابا نے آنکھیں کھولیں اور ہانک لگائی ۔ 

’’یوراج کوشبھ لگن مبارک ہو۔‘‘

خواجہ سراؤں نے دوڑ کر بسنت کو خبر پہنچائی ۔خواجہ سرابسنت نے اپنا پٹکا درست کیا اور چاندی کا عصا جس کے سر پر ناگ راجہ کا سنہری پھن کھڑا تھا،ٹیکتا ہوا بارگاہ کے سامنے جا کھڑا ہوا اور پردے کے پیچھے سے آواز لگائی ۔

’’بابا سنتھ دیو کے بچن کے مطابق صاحب عالم کی روانگی کا وقت ہوگیا ۔‘‘

سلطان بیگم نے سنگ سماق کی چوکی پر کھڑی ہوکر نماز کی نیت باندھ لی ۔کنیزوں کی چٹکیوں نے زرکار فولادی سینہ بند کے کانٹے لگادیئے ۔جوشن اور دست پوش اور موزے پہنا دیئے ۔سلطان بیگم نے سلام پھیرا ،کچھ وظائف پڑھے اور چھلچھلاتی ہوئی آنکھوں کو بند کرکے دارا پر دم کیا اور اس کے آہن پوش سینے پر سر رکھ دیا۔دارا نے وزنی دستانہ پوش ہاتھ اٹھا کر سلطان بیگم کا سر سہلایا ۔ٹھوڑی پکڑ کر چہرہ اٹھایا۔پیشانی پر جھولتے زیور ہٹا کر بوسہ لینے کے لئے سر جھکایا تو آنکھوں سے دو آنسو ٹپک کر بیگم کے رخساروں پر چمک اٹھے ۔وہ بیگم کو سہارا دیئے پردے تک آیا۔قدموں کی مانوس چاپ سن کر بیگم دارا سے الگ ہوگئیں ۔باہر نکلتے ہی بیگم نے نم آنکھوں سے سلیمان شکوہ کو دیکھا جو سر سے پاؤں تک لوہے میں غرق تھا۔سلیمان تسلیم کوجھکا تو بیگم نے آگے بڑھ کر اپنے کلیجے سے لگالیا اور مغل شہزادیوں کے روایتی تحمل کی ساری قوت سے اپنے آپ کو سنبھالا۔سبزہ آغاز بیٹے کی پیشانی پر جلتے کانپتے ہونٹ رکھ دیئے ۔جدا کرتے وقت آہستہ سے پہلا اور آخری جملہ کہا۔

’’جاؤ!اور آلِ تیمور کے جاہ وجلال کے علم لہرا کر آؤ۔‘‘

ڈیوڑھی پردارا کے نزول فرماتے ہی یوگیوں اورسنتوں نے ہجوم کیا اور ’’وجے‘‘کی دعائیں دیں ۔سنتھ دیو نے اپنی گردن سے سیاہ منکوں کی مالا اتاری اور ولی عہد کے جوش پر باندھ دی ۔(جاری ہے )

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... ساتویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /دارا شکوہ