اسرائیل زوال کی طرف 

اسرائیل زوال کی طرف 
اسرائیل زوال کی طرف 

  

سنہ 1948ء میں عالم اسلام کے قلب ’’فلسطین ‘‘ پر قائم ہونے والی صیہونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل اپنی نابودی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ اس جعلی ریاست کو قائم کرنے کے لئے برطانوی و امریکی استعمار نے بھرپور حمایت کی تھی اورآج تک دنیا بھر میں اسرائیلی نامی ا س جعلی ریاست کے تحفظ کے لئے قتل وغارت اور دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں جس فتنہ نے دنیا میں سب سے زیادہ سر اٹھایا اور توجہ حاصل کی وہ فتنہ ’’داعش‘‘ تھا کہ جس کا ایک مقصد تو دنیا کو اسلام سے بد ظن کرنا تھا اور اسلام پر ایسی کاری ضرب لگانا تھی کہ آنے والی نسلیں اسلام کے سنہری اور جامع اصولوں سے رو گردانی کر جائیں تو دوسرا بڑا مقصد خطے میں اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اگر اسرائیل کا تحفظ ان کے مقاصد میں نہ ہوتا تو پھر یہ داعش یقیناًمسلمان ممالک کی بجائے یورپ اور کسی اور مغربی ممالک میں قائم کی جاتی کیونکہ داعش کے بنانے والے امریکی و صیہونی تھے تاہم ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ اس فتنہ کو مسلمان اکثریتی ممالک میں اتارا جائے تا کہ درج بالا سطور میں بیان کئے گئے ان شیطانی قوتوں کے ناپاک عزائم حاصل ہو سکیں۔ بہرحال اللہ کے فضل اور خطے کی چند ایک مجاہدانہ صلاحیت کی حامل ریاستوں، حکومتوں اور ان کے جانبازوں کی برکت و قربانیوں کے باعث داعش کا فتنہ دم توڑ چکا ہے اور اپنے ناپاک عزائم میں ناکام ہوچکا ہے۔

مقالہ کے اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے اس پس منظر بیان کرنا نہایت ضروری تھا کیونکہ غاصب صیہونیوں نے جعلی ریاست اسرائیل کے قیام کے بعد سے ہمیشہ اپنی طاقت کا لوہا منوایا اور خطے میں اپنی مکمل بالادستی حاصل کرنے کیلئے پڑوس کی تمام ریاستوں کو تہہ و تیغ کیا ، کئی ایک جنگیں اسرائیل کے ساتھ لڑی گئیں لیکن اسرائیل کی بڑھتی ہوئی ظاہری طاقت نے ان جنگوں پر برتری حاصل کی اوراس برتری کا گھمنڈ بالآخر سنہ2000ء میں اس وقت چکنا چور ہوا کہ جب لبنان سے اسرائیل کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

اسرائیل کے تابوت میں ایک اور کیل اس وقت بھی پیوست ہوئی جب اسرائیل سنہ2006ء میں جارحیت کرتے ہوئے لبنان پر حملہ آور ہوا اور 33 روز کے بعد شکست کھاتے ہوئے ذلیل و رسواہوا۔ اس ناکامی کے بعد داعش کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے اغراض و مقاصد پہلے ہی بیان کئے جا چکے ہیں۔ اب تقریباً سات سال کی مستقل جدوجہد کے باعث اسرائیل کے ایک اور منصوبہ یعنی داعش کو ناکامی کا سامنا ہوا ہے تاہم اب اسرائیل ایک مرتبہ پھر براہ راست اپنے پڑوسی ممالک کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے پر مجبور ہو اہے۔ سیاسی ماہرین نے اسرائیل کی اس صورتحال کو اسرائیل کی شکست کے بعد بوکھلا ہٹ اور گھبراہٹ کا نام دیا ہے۔

حالیہ دنوں اسرائیل نے شام کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی اور ایف سولہ طیاروں نے بمباری کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں شامی افواج نے بھرپور کارروائی عمل میں لاتے ہوئے اسرائیل کے ایف سولہ طیاروں کو نشانہ بنایا اور نتیجہ میں ایک ایف سولہ مار گرایا گیا ہے جبکہ ایک اور واقعہ میں ایک ایف سولہ کو مارگرایا اور ایک زخمی حالت میں واپس جانے میں کامیاب ہوا۔اس ساری صورتحال نے دنیا پر موجود اسرائیل کا برتری کا رہا سہا بھرم بھی چکنا چور کر دیا ہے ۔یہ بالکل ایسا ہی ہو اہے کہ جیسا کہ سنہ2006ء میں اسرائیل کے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس تیار کردہ ٹینک ’’میرکاوہ‘‘ لبنان کیخلاف میدان میں اترے تھے لیکن دوسری طرف سے اسلامی مزاحمت کاروں حزب اللہ کے جوانوں نے اسرائیل کے اس وقت کے جد ید ترین میرکاوہ ٹینکوں کا شکار اپنے معمولی قسم کے میزائلوں اور راکٹوں کے ساتھ کیا جس کے بعد اسرائیل کے ساتھ دنیا کے کئی ممالک کے طے شدہ معاہدوں کے جس میں میرکاوہ ٹینکوں کی خرید کے سودے کئے گئے تھے منسوخ کر دئیے گئے ، کشمیریوں کی قاتل ریاست بھارت نے بھی اسرائیل کے ان جدید ترین ٹینکوں میرکاوہ کی خرید کے لئے دو سو ارب ڈالر کے سودے کئے تھے جو ان واقعات کے بعد منسوخ کرنا پڑے۔ 

حالیہ دنوں میں اسرائیل کے جدید ترین ایف سولہ طیاروں کا شامی حدود میں میزائلوں کی زد میں آکر گر جانا ایک مرتبہ پھر اسرائیل کی فضائی و عسکری برتری کی قلعی کھول چکا ہے اور صورتحال واضح ہو چکی ہے کہ اسرائیل مسلسل زوال کی طرف ہے ۔بس بد قسمتی تو مسلمانوں کی ہے کہ مسلم دنیا کے حکمران امریکہ اور اسرائیل کی کاسہ لیسی ترک کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں، عرب دنیا کے حکمران ہوں یا غیر عرب دنیا کے مسلم حکمران ہوں، ایک دو کو چھوڑ کر سب کے سب اسرائیل کی خدمت اور اس کے مفادات کے تحفظ میں اپنا سرمایہ اور تمام وسائل تک صرف کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، حتی ٰ کچھ عرب ممالک نے تو اسرائیل کی بقاء و تحفظ کی خاطر دیگرممالک پر جنگ مسلط کر رکھی ہے، جیسا کہ یمن میں ہم دیکھ رہے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسرائیل جو کہ ایک جعلی ریاست ہے اپنا وجود قائم رکھنے کی مسلسل کوشش میں ہے لیکن دنیا یہ بات جانتی ہے کہ جس کا وجود ہی جعل سازی پر مبنی ہو اسے بالآخر زوال ہونا ہی ہے، آج دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اور مظلوم قوموں کی ظالموں کے خلاف برترکامیابیاں اللہ کے بیان کئے جانے والوں وعدوں کی تکمیل کی نشانیوں میں سے ہیں کہ جس میں مظلوموں کو ظالموں سے نجات اور خدا کے نور کا حتمی ظہور ہونا ہے۔اسرائیل نابود ہو رہاہے اور اسرائیل کی نابودی ناگزیر ہے، بس وقت عنقریب فیصلہ کر دے گا، ضرورت اس امر کی ہے مسلم دنیا کے عوام اپنے ظالم و فاسق و فاجر حکمرانوں کہ جو امریکہ و اسرائیل کی غلامی میں مصروف ہیں ان سے نجات حاصل کریں ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ