نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ،فواد چودھری کا مستقبل، آج حکومت اور نظام کی سمت کا تعین ہو گا

نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ،فواد چودھری کا مستقبل، آج حکومت اور نظام کی سمت ...
نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ،فواد چودھری کا مستقبل، آج حکومت اور نظام کی سمت کا تعین ہو گا

  


آج پاکستان کی سیاسی تاریخ کااہم دن ہے آج ہونے والے دو ایسے واقعات ہیں جو پی ٹی آئی حکومت اور موجودہ نظام کی سمت کا تعین کریں گے اگر میاں نواز شریف کو آج طبی بنیادپر ضمانت مل جاتی ہے تو یہ ایک ایسا موڑ ہوگا جہاں پر پی ٹی آئی کی حکومت کا احتساب کا بیانیہ دھڑام سے نیچے گر پڑے گا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد احمد چودھری وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات اس حوالے سے اہم ہے کہ کچھ دنوں سے افواہیں گردش کر رہی تھی کہ فواد چودھری نے وزارت سے استعفی دے دیا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے۔ چلئے پہلے ہم بات کرتے ہیں نواز شریف کی۔۔ان کی زندگی کا آج اہم دن ہے۔ ڈیل کی افواہیں اپنی جگہ جس کی پورے ملک میں بازگشت بھی ہے۔ اگر ان کی ضمانت ہو جاتی ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ نامعلوم بیماری کے علاج کیلئے جعلی ٹریٹمنٹ پاکستان میں ممکن نہیں۔ اور وہ پاکستان سے باہر چلے جائیں گے اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سیاست میں کسی طرح بھی بھونچال سے کم نہیں ہوگا۔ میں بار بار عرض کر چکا ہوں کہ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ میاں نوازشریف سے پیسے لیکر ان کی جان بخشی کی تجویز بہت سنجیدگی سے لی گئی۔ ان کے غیر ملکی مہربانوں نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔ عمران خان کا غصہ اپنی جگہ لیکن وہ ”اوپر سطح کی“ گیم میں بالکل غیر متعلق ہیں۔ تاہم یہ طے ہے کہ نواز شریف کا اگلی ایک دہائی تک سیاسی کردار ختم ہو چکا ہے۔ اور یہ امر واقعہ مستقل ہی سمجھا جائے۔ تاہم ان کی ضمانت نہیں ہوتی تو عمران خان کویقینی ریلیف ضرور ملے گا اور وہ ایک شرمندگی سے بچ جائیں گے۔اب بات کرتے ہیں فواد چودھری کی ۔آخر ان کیاقصور کیا ہے اور ان کی وزارت پر حملے بار بار کیوں کئے جاتے ہیں۔ عمران خان کے گردنان الیکٹیڈ لوگوں کا میلہ ہے اور انہیں اپنی ایک رائے رکھنے والے لوگ پسند نہیں کرتے یوٹرن کے بیان سے لیکر 100دنوں تقریبات کے اشتہارات تک یہی لوگ عمران خان اور فواد چودھری کیلئے سیاسی شرمندگی کا باعث بنتے رہے کیونکہ فوادچودھری نان کمپرومائزنگ ہیں جو ان کا سب سے بڑا گناہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ تانے بانے بنے جاتے رہے ہیں۔پی ٹی وی ایک قومی ادارہ ہے اور عوام کے پیسوں سے چلتا ہے اگر اس پہ وزیر اطلاعات کا عمل دخل نہیں ہوگا تو وہ کیسے حکومتی وژن کا عکاس ہوگا۔۔اسکی روز بروز گرتی کارکردگی کا احتساب کون کرے گا؟؟ایک جانب ہم نئے پاکستان میں میرٹ کی بات کرتے ہیں دوسری جانب جعلی ڈگریوں اور خلاف ضابطہ تقرریوں پہ ہاتھ ڈالا جائے تو لوگونکے پیٹ میں۔مروڑ اٹھیں،ہمیں طے کرنا ہوگا کابینہ وزیراعظم کے وژن پہ چلے گی یا دو نمبر مافیا کے۔ آج وزیراعظم کی ملاقات میں فیصلہ ہو جائے گا کہ کیا وزیراعظم فوادچودھری کو آزادی سے کام کرنے کا موقع دینگے یا نہیں۔ فواد چودھری آج ایک بااختیار اور طاقتور وزیر اطلاعات کے طور پر واپسی کریں گے یا ایوان اقتدار کی غلام گردشوں میں ہونے والی سازشوں کی بھینٹ چڑ جائیں گے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...