پنجاب کی بھینس اور صحت

پنجاب کی بھینس اور صحت
پنجاب کی بھینس اور صحت

  


دنیا بھر میں گائے دودھ کے حصول کے لئے پالی بھی جاتی ہے اور اس کا دودھ پسند بھی کیا جاتا ہے، لیکن پنجاب واحد علاقہ ہے جہاں بھینس کے دودھ کو اولیت دی جاتی ہے۔ ہم جسے ’’گوکا‘‘ کہتے ہیں، یعنی گائے کا دودھ، وہ خال خال ہی دیہاتوں میں ملتا ہے اور گائے بھی کم ہی پالی جاتی ہے۔ آپ کو بھینس کے دودھ کے حوالے سے کوئی خاص نام نہیں ملے گا، لیکن پنجاب میں گائے کا دودھ ’’گوکا‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ تمیز ہی ثابت کرتی ہے کہ اول دودھ بھینس ہی کا سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ گائے کا دودھ طالب علموں کے لئے بہترین ہے، کیونکہ اس میں چکنائی کم ہوتی ہے۔ دماغی کام کرنے والوں کو گائے اور بکری کا دودھ پینا چاہئے، لیکن پنجاب میں گائے اور بکری خال خال ہی گھروں میں رکھی جاتی ہیں۔ البتہ جب سے دودھ کا کاروبار بڑی بڑی کمپنیوں نے شروع کیا ہے، گائے کا دودھ ہمارے شہروں میں پیکٹ کی شکل میں خوب بک رہا ہے، لیکن اب ان کمپنیوں نے بھی بھینس کے دودھ کے الگ سے پیکٹ تیار کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ ہمارے وزیراعلیٰ کا نام تو بزدار (یعنی بکریاں پالنے والا) ہے، لیکن جس علاقے سے ان کا تعلق ہے وہاں بھی بھینس ہی کو پالا جاتا ہے۔

چند روز قبل لاہور کے ایک پنج سٹار ہوٹل میں عثمان بزدار نے بین الاقوامی بھینس کانفرنس کا افتتاح کیا۔ انہوں نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھینس کی جدید اور سائنسی بنیادوں پر افزائش کے حوالے سے بات کی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم پنجاب میں مویشیوں کی افزائش کے لئے بیماریوں سے پاک زون قائم کریں گے۔ یقینی طور پر اس زون میں آب وہوا کی بہتری کے لئے جدید ادویات کے استعمال سے جراثیم کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔ دنیا میں سکنڈے نیوین بہترین ممالک ہیں، خصوصاً سویڈن، ناروے اور بعض یورپی ممالک جن میں جرمنی اور انگلینڈ سرفہرست ہیں، اپنے چھوٹے چھوٹے رقبوں کے باوجود دودھ اور ڈیری مصنوعات میں اپنے لئے کئی گنا بڑا رقبہ رکھنے والے ممالک سے آگے ہیں۔

یہ بات حیرت کی نہیں کہ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک کی، جو ایک بڑا رقبہ رکھتے ہیں اور جن کے دیہات میں دودھ دینے والے جانور گھر کی ضرورت خیال کئے جاتے ہیں، ان ممالک کو بھی دودھ اور ڈیری مصنوعات کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ بھارت میں مشرقی پنجاب کے کسانوں نے یہ کمی بہت حد تک دور کرلی ہے، اس کا بنیادی سبب مشرقی پنجاب کی حکومتوں کی کسان نواز اور زرعی پیداوار کے فروغ کے حوالے سے مناسب اور مثبت پالیسیاں تھیں۔ پاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں لائیو سٹاک کے حوالے سے کئی ادارے قائم کئے گئے، لیکن یہ ادارے خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ کرسکے، لائیو سٹاک کے فروغ کے حوالے سے بیرون ممالک سے امداد بھی وصول ہوئی، لیکن کوئی ادارہ وہ نتائج نہ دے سکا۔ جس کی امید کی جاسکتی تھی۔

عثمان بزدار کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور جنوبی پنجاب کی اکثریتی آبادی کی زندگی زرعی معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔ اس وقت جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ بھی دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مویشیوں، خاص طور پر بھینسوں کے لئے، بیماری سے پاک زون بنانے جارہے ہیں ، ان میں جنوبی پنجاب کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ کے لئے ان مسائل کو سمجھنا ہرگز مشکل نہیں ہے کہ آج دودھ کے نام پر پاکستان کے مجبور محض عوام کو جو کچھ پلایا جا رہا ہے وہ کیا ہے۔ کیمیکل کو "TEA WHITNER" کے نام پر بطور دودھ عام آدمی استعمال کر رہا ہے۔ کروڑوں روپے کی تشہیر اس مصنوعی دودھ کے لئے کی جارہی ہے، جبکہ اصلی دودھ کے لئے عوام کو دودھ کی جن دکانوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں، وہاں بھی بعض اوقات ’’زہر‘‘ ہی بیچا جا رہا ہے۔ محکمہ فوڈ چند چھاپے مار کر سرخرو ہو جاتا ہے۔ لائیو سٹاک کی بہتری سے صرف دودھ اور ڈیری پراڈکٹ کی کمی ہی دور نہیں ہوگی، بلکہ گوشت کی فراہمی میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ اس کانفرنس میں کی گئی وزیراعلیٰ کی گفتگو کے مثبت نتائج پنجاب کے عوام کی صحت میں بہتری لاسکتے ہیں۔ امید کرنی چاہئے کہ پنجاب میں پھر سے بچے مکھن، روٹی اور چینی کی چوری کھانا شروع کردیں گے وہ چوری جو ہیر، رانجھے کو کھلایا کرتی تھی۔

مزید : رائے /کالم


loading...