احتساب، نا اہلی اور معیشت

احتساب، نا اہلی اور معیشت
احتساب، نا اہلی اور معیشت

  


پی ٹی آئی حکومت کے پہلے چھ مہینوں کے اقتصادی اعدادوشمار منظر عام پر آچکے ہیں۔ یہ نا صرف مایوس کن ہیں بلکہ ان بلند بانگ دعووں کی نفی بھی کرتے ہیں جو عمران خان اور ان کے ساتھی پچھلے کئی سال سے کرتے آرہے تھے۔ ملکی معیشت اگر تیزی سے گر رہی ہے تو اس کی بنیادی وجوہات میں نا اہلی اور خوف دونوں شامل ہیں جنہوں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کر رکھا ہے۔ خوف تو بہر حال قومی احتساب بیورو (نیب) کے یکطرفہ، غیر پیشہ ورانہ اور کسی حد تک انتقامی رویہ کی وجہ سے ہے جس نے سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ کو بھی ہراساں کیا ہوا ہے۔جہاں تک حکومتی نا اہلی کا تعلق ہے تویہ اکانومی اور گورننس کے شعبوں میں زیادہ نمایاں ہے۔ بار بار صوبوں کے آئی جی ، چیف سیکرٹری اور بیوروکریٹس تبدیل کئے جا رہے ہیں لیکن وفاق کے ساتھ ساتھ صوبوں میں بھی بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ گورننس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار لوگوں نے گیس کے بلوں پر چیخیں ماری ہیں جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان خود گیس کے مسئلہ کو ہینڈل کر رہے ہیں۔ پچھلے دو ماہ میں وہ سوئی سدرن کے تین اور سوئی ناردرن کے دو ایم ڈی تبدیل کر چکے ہیں۔ ملک میں گیس کے پانچ ایم ڈی تبدیل ہونے کے بعد بھی لوگوں کی چیخیں وہیں کی وہیں ہیں۔ شائد اسی لئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پیشکش کی ہے کہ وہ محکمہ گیس کے کسی افسر کو ان کے پاس بھیج دیں تو وہ دو گھنٹے میں گیس کے تمام مسائل کا حل نکال دیں گے۔

یہ بات اس لئے بھی درست لگتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور میں گیس کی قیمتیں نہیں بڑھیں اور عوام اس طرف سے بالکل مطمئن تھے جس میں چار سال وہ اس وزارت کے وزیر اور پانچویں سال وزیر اعظم تھے۔ پاکستان میں ایک منظر یہ بھی ہے کہ عمران خان ، دوسرے حکومتی ذمہ داران اور ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ان کے حمائتی آج کل ان سعودی اور اماراتی ڈالروں کے سحر میں مبتلا ہیں جن کے اعلانات ان دونوں بادشاہتوں کے ولی عہدوں نے پاکستان میں آکر کئے لیکن سعودی عرب اور متحدہ امارات سے بھی بڑے بزنس گروپوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں ابھی تک کچھ خاص دلچسپی نہیں لی ہے۔سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کے ساتھ تیس چالیس بزنس مینوں کا جو گروپ آیا تھا وہ اپنے ساتھ بزنس مذاکرات کرنے والے لوگوں سے ایک ہی سوال پوچھتا رہا کہ ان منصوبوں میں پاکستان کے اندرونی سرمایہ کار کیوں دلچسپی نہیں لے رہے۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ نے ان سعودی بزنس مینوں کے پاکستانی بزنس مینوں کے ساتھ ملاقاتوں کا اہتمام ضرور کیا تھا لیکن ظاہر ہے یکطرفہ سرمایہ کاری دنیا کے کسی ملک کے سرمایہ کار نہیں کرتے۔پہلے وہ خواہش مند ملک کے اپنے سیاسی اور سرمایہ کاری کے حالات اور اندرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی دیکھتے ہیں۔ اب یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان اور محمد بن سلمان کے کہنے پر سعودی سرمایہ کار پاکستان میں کاروباری پراجیکٹس شروع کر دیں جب تک کہ انہیں سیاست اور معیشت میں استحکام نظر نہ آئے۔

کسی بھی پراجیکٹ پر جب تک پاکستان کے اپنے بڑے کاروباری گروپ سرمایہ کاری نہیں کریں گے، باہر کے سرمایہ کار بھی ان پراجیکٹس میں شامل نہیں ہوں گے۔ سعودی وفد کے دورہ کے موقع پر حکومتی سطح پر ہونے والے MoUs پر دستخط ضرور ہوئے لیکن یہ بھی فی الحال اس وقت تک محض کاغذ کے ٹکڑے ہیں جب تک ان پر باقاعدہ معاہدے نہیں ہو جاتے۔ ویسے بھی لوگوں کو MoU اور agreement میں فرق معلوم ہے۔ان حکومتی مفاہمتی یادداشتوں سے ہٹ کر کاروباری معاہدوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ میری خواہش ہے کہ اللہ کرے پاکستان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین وغیرہ کے علاوہ دوسری حکومتیں بھی سرمایہ کاری کریں اور وہاں کے کاروباری گروپ اور مالیاتی ادارے بھی پاکستان میں سرمایہ لگائیں کیونکہ بیرونی سرمایہ کاری جتنی زیادہ ہوگی، ملک میں اتنی ہی ترقی اور خوش حالی ہونے کے امکانات پیدا ہوں گے اور پاکستان آگے بڑھے گا۔ اب اگر ایسا نہیں ہو پا رہا تو اس کی بنیادی وجوہات دو ہی ہیں ، حکومتی نا اہلی اور نام نہاد احتساب کا خوف۔

سب سے پہلے پی ٹی آئی حکومت کے پہلے چھ ماہ کے اعداد وشمار پر نظر ڈالتے ہیں کیونکہ حکومت کی ایسی مایوس کن کارکردگی پر تو دنیا کا کوئی سرمایہ کار پاکستان کا رخ نہیں کرے گا اور نہ پاکستان کے اپنے کاروباری لوگ سرمایہ لگائیں گے۔ان اعداد وشمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر ٹی وی ٹاک شوز کے معیشت دان ضرور ہیں لیکن ملکی معیشت اور خزانہ چلانے کے لئے درکار اقتصادی مہارت کا ان سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ سب سے پہلے اگر بجٹ خسارہ کی بات کی جائے تو پی ٹی آئی کے ان چھ ماہ کے دوران بجٹ خسارہ 796 ارب سے بڑھ کر 1030 ارب روپے ہوگیا ہے۔ یہ پاکستان کی 71 سالہ تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہے جس میں کسی بھی حکومت کے پہلے چھ ماہ میں بجٹ خسارہ ایک کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔ پاکستان کا بجٹ خسارہ لگتا ہے اپالو 17 پر بیٹھا ہوا ہے اور اگر موجودہ حکومت کی کارکردگی کا یہی حال رہا تو مالی سال کے اختتام تک یہ نیا ریکارڈ قائم کر تے ہوئے سیارہ مریخ پر پہنچ چکا ہوگا۔ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے پانچ ماہ میں دو منی بجٹ پیش کرنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ بجٹ خسارہ یا ریونیو میں تقریباً 200 ارب کے شارٹ فال کو وہ کیسے پورا کرے گی۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس رفتار سے مالی سال کے اختتام تک ریونیو میں شارٹ فال 350 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔

ہم سب کو یاد ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کہا کرتے تھے کہ جب لوگوں کو اعتماد ہو گا کہ حکومت ایماندار ہاتھوں میں ہے تو لوگ خود ٹیکس دیں گے اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد دوگنا ٹیکس اکٹھا ہو گا۔ پی ٹی آئی حکومت کے آنے کے بعد چھ ماہ میں چونکہ ترقی کی شرح 5.8 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد، افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 7 فیصد اور روپے کی قدر میں 35فیصد کمی ہو چکی ہے اس لئے اگر ٹیکس کلیکشن میں 11 فیصد اضافہ ہوتا تو اقتصادی انڈیکیٹرز کے حساب سے یہ اس مطلوبہ کلیکشن کے مساوی ہوتا لیکن 11 کی بجائے یہ صرف 2.4 فیصد ہوا ہے اور یہی وہ پریشان کن صورتِ حال ہے جو لوگوں کو کاروبار میں پیسہ لگانے اور ٹیکس دینے سے روک رہی ہے۔ دیکھا جائے تو عمران خان کا دعوی 100 فیصد اضافہ کا تھا لیکن 2.4 فیصد ان کے دعوی سے 25 گنا کم ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کا وہ اعتماد کہاں گیا جو ایک ’ماندار‘ وزیر اعظم کے دور میں ہونا چاہئے تھا۔ عمران خان جب وزیر اعظم بنے تو انہوں نے سادگی کی مہم چلائی جس میں بتایا گیا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس کی جگہ اپنے ملٹری سیکرٹری کے گھر میں رہیں گے، صدرِ مملکت ایوان صدر کی سرکاری رہائش گاہ کی بجائے پارلیمنٹ لاجز میں رہیں گے (ایسا نہیں ہوا)، وزیر اعظم سمیت تمام وزراء کمرشل فلائیٹس پر سفر کریں گے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ طعام پر پابندی، وزیر اعظم ہاؤس کے ملازمین کی تعداد 524 سے کم کرکے صرف دو کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اسی طرح وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیاں اور بھینسیں نیلام کی گئیں اور دفتر سے بنی گالہ آنے جانے کے لئے ہیلی کاپٹر کے استعمال کا بتایا گیا کہ اس میں صرف 55 روپے فی کلومیٹر خرچ آتا ہے۔ اتنے سارے اقدامات کے بعد توقع تھی کہ وزیر اعظم، صدرِ مملکت اور وزیروں کے اخراجات میں ریکارڈ کمی آ جائے گی لیکن چھ ماہ کے بعد اخراجات کی تفصیل آنے کے بعد پتہ چلا کہ پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں غیر پیداواری اخراجات پر 439 ارب روپے یعنی 17 فیصد زیادہ خرچ ہوئے ہیں۔ اب سمجھ نہیں آتی کہ جب اخراجات اتنے زیادہ ہی ہونے تھے توسادگی کی مہم کا کیا ہوا؟ ان چھ مہینوں کے دوران حکومت نے کوئی نیا پراجیکٹ، کوئی ہسپتال یا نیا تعلیمی ادارہ جیسے یونیورسٹی، کوئی صنعتی ادارہ، ڈیم، موٹر وے وغیرہ، کچھ بھی نیا شروع نہیں کیا تو یہ 439 ارب کے غیر پیداواری اخراجات کیسے بڑھ گئے۔

پہلے دو تین مہینوں میں حکومت نے تجاوزات کے خلاف مہم کا خوب ڈھنڈورا پیٹا اور بتایا جاتا رہا کہ فلاں ضلع میں اتنے ہزار کنال یا ایکڑ سے قبضہ چھڑا لیا گیا لیکن پچھلے دو ڈھائی مہینوں سے اس مہم کے بارے میں مکمل خاموشی ہے۔ پتہ نہیں اس کا کیا ہوا؟ایک بہت سادہ سوال ہے کہ اگر ریونیو اتنا ہی ہے، نئے پراجیکٹ شروع نہیں ہو رہے، غریبوں کے لئے کوئی نئی سکیم شروع نہیں ہوئی لیکن پھر بھی خسارہ میں 30 فیصد اضافہ ہو گیا ہے تو یہ رقم کہاں گئی؟پی ٹی آئی حکومت کے پہلے چھ ماہ کے اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پیداواری اخراجات میں 36 فیصد کمی اور غیر پیداواری اخراجات میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کیا یہی نیا پاکستان ہے جس کے خواب دکھائے گئے تھے اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ یہ اعداد وشمار پوچھتے ہیں کہ کئی سو ارب روپے کی رقم آخر گئی کہاں جس کا جواب وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر کو بہر حال دینا پڑے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...