بھارت اپنی فکر کرے، پاکستان کا بیانیہ واضح ہے

بھارت اپنی فکر کرے، پاکستان کا بیانیہ واضح ہے
بھارت اپنی فکر کرے، پاکستان کا بیانیہ واضح ہے

  


بھارتی یہ بات تسلیم کریں یا نہ کریں مگر حقیقت یہی ہے کہ نریندر مودی نے بھارت کو سیاسی تنہائی سے دو چار کر دیا ہے۔ جب کوئی اتنے برے طریقے سے کھیلتا ہے، جیسے بھارتی وزیر اعظم اپنی آئندہ ٹرم کو یقینی بنانے کے لئے کھیل رہے ہیں، تو وہ سیانے کوّئے کی طرح منہ کی کھاتا ہے۔ پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان پر چڑھ دوڑنے کی جلدبازی مودی سرکار کو لے بیٹھی، دنیا نے اس سارے ڈرامے کو بری طرح رد کر دیا کہ اس میں پاکستان ملوث ہے۔ کسی ایک جگہ سے بھی بھارت کے اس مؤقف کو سپورٹ نہیں ملی، پھر جس طرح نریندر مودی نے بھارتی عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کرنے کی بھونڈے انداز میں کوشش کی، وہ الٹی پڑ گئی۔ سابق جج، جرنیل، سینئر صحافی اور سیاستدان مودی پر چڑھ دوڑے اور انہوں نے جنگ کی آپشن کو پاگل پن قرار دیا۔ کئی ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان سے جنگ بھارت کی تباہی پر منتج ہو گی کیونکہ پاکستانی فوج بہت مضبوط اور پروفیشنل ہو چکی ہے، ایسا نہیں کہ ادھر بھارت پاکستان پر حملہ کرے اور اُدھر وہ چاروں شانے چت ہو جائے۔

بھارت کو امریکہ سے امیدیں تھیں کہ وہ دہشت گردی کو ایک ایشو مان کر بھارت کا ساتھ دے گا، مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سیدھا پیغام دے کر جان چھڑالی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر تشویش ہے، دونوں ممالک اسے کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ امریکہ کے پاکستان سے تعلقات پھر بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے سعودی شہزادے محمد بن سلمان بھارت کا دورہ کرتے ہوئے نریندر سرکار کی کسی سازش کا حصہ نہ بنے۔ پلوامہ کے واقعہ پر بات تک نہ کی، البتہ یہ ضرور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ کل محبوبہ مفتی ایک بھارتی چینل پر نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ وہ کس طرح یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کو تنہا کر دیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تو روس، چین، ترکی، امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ملائشیا کھڑے ہیں اور اس کے بیانیہ کی تابید کر رہے ہیں۔ اصل حقیقت یہی ہے، مگر بھارتی حکومت عوام کو چکمہ دینے کے لئے یہ تاثر دے رہی ہے جیسے پوری دنیا بھارتی مؤقف کی تائید کر رہی ہے۔

بھارت کو اس لئے بھی منہ کی کھانا پڑی کہ وہ پلوامہ واقعہ میں پاکستانی مداخلت کا ایک ثبوت بھی نہیں دے سکا، حتیٰ کہ وہ بنیادی تحقیق بھی نہیں کر سکا جو ایسے واقعہ کے بعد کی جانی چاہئے تاکہ یہ حقائق تو سامنے آ سکیں کہ خودکش حملہ آور عادل ڈار کیسے اور کہاں سے اس حملے کے لئے تیار ہو کر جائے وقوعہ پر آیا؟ اس کا مطلب ہے بھارتی سرکار کی اس میں کوئی دلچسپی ہے ہی نہیں، وہ تو بس اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا چاہتی ہے تاکہ اس سے سیاسی فائدہ حاصل کر سکے، لیکن یہ بہت بڑا مس فائر ہوا ہے جو اُلٹا نریندر مودی حکومت کے گلے پڑ گیا ہے۔ پاکستان کے خلاف الزام ثابت کرنے کے لئے ثبوت نہیں اور دنیا کے سامنے یہ تسلیم کرنے کی ہمت نہیں کہ یہ حملہ اس وجہ سے ہوا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج جو بے پناہ مظالم ڈھا رہی ہے، اس کا ردعمل ہے۔ ایسے حالات میں عموماً ایک بڑی جھنجھلاہٹ جنم لیتی ہے اور بھارتی حکومت اسی کا شکار ہے۔

اسی جھنجھلاہٹ میں نریندر مودی نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کو سبق سکھانے کا وقت آ گیا ہے اور جنگ کے حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں۔ کبھی دنیا میں ایسا ہوا ہے کہ کسی ملک میں کوئی واقعہ ہو تو وہ اگلے ہی لمحے بلا ثبوت ہمسایہ ملک پر الزام لگا کر جنگ کا اعلان کر دے۔ آج اسی وجہ سے بھارت کے اندر وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ بھارتی عوام میں پاکستانیوں جیسا جذبہ تو ہے نہیں جو بھارت سے جنگ کا سن کر اسی طرح پر جوش ہو جاتے ہیں، جیسے پاکستان و بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ دیکھنے کے لئے ہوتے ہیں، ہندو بنئے کے لئے تو خود کو جنگ میں جھونکنا ایسے ہی ہے جیسے اس کی چتا جلائی جا رہی ہو۔ سو نریندر مودی کا یہ ڈرامہ بری طرح فلاپ ہو گیا ہے۔

رہی سہی کسر پاکستان کے جواب نے پوری کر دی ہے۔ اتنا بھرپور اور مسکت جواب کہ نریندر مودی کو اپنا بیانیہ تبدیل کرنا پڑ گیا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ عمران خان نے دونوں ممالک سے غربت ختم کرنے کی جو بات وزیر اعظم بننے کے بعد کی تھی، وہ اس کو آگے بڑھائیں۔ پہلے وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے خطاب، جس میں انہوں نے بھارت کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان پر حملہ ہوا تو بلا تاخیر اس کا سخت جواب دیا جائے گا، نے بھارتی نیتاؤں کی سب غلط فہمیاں دور کردیں اور بعد ازاں فوج کی طرف سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واصح کر دیا کہ اس بار پاک فوج بھارت کو سرپرائز دے گی۔

ایسا جواب دیا جائے گا جس کی بھارت کو توقع ہی نہیں۔ انہوں نے جب یہ کہا کہ فوج کے پیچھے ملک کی منتخب حکومت کھڑی ہے، تو اس کا مطلب یہ تھا اب فوج اور حکومت کا بیانیہ ایک ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے پاک فوج کو جارحیت کی صورت میں فوری جواب دینے کا اختیار دے کر یہ دو ٹوک پیغام دے دیا تھا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں جو یہ کہا تھا کہ حملے کی صورت میں پاکستان جوابی حملے کا سوچے گا نہیں، بلکہ جوابی حملہ کرے گا، تو وہ بالکل سچ ہے، کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ آج نریندر مودی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری جنگ کشمیریوں سے نہیں دہشت گردی کے خلاف ہے۔ حالانکہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار تو صرف کشمیری عوام ہیں، یہ سات لاکھ فوج جو صبح و شام کشمیریوں کو گولیوں سے چھلنی کر رہی ہے، بچوں کے چہرے مسخ کر رہی ہے، کیا اسے نریندر مودی دہشت گردی نہیں سمجھتے۔ ایسی باتوں سے بھارت شاید اب دنیا کو مزید دھوکہ نہ دے سکے۔ مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں عوام سڑکوں پر ہیں، روز لاشے اٹھاتے ہیں، بھارتی وزیر اعظم ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ ان کی لڑائی کشمیریوں سے نہیں کشمیریوں سے لڑائی نہیں تو پھر کس کے خلاف لاکھوں فوجی ظلم و تشدد کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے اور پوری دنیا اس کی حقانیت کو تسلیم کر چکی ہے۔ پاکستان عدم مداخلت کے اصول پر کارفرما ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ کشمیریوں پر مظالم بند کر کے انہیں حق خود ارادیت دیا جائے۔ پاکستان کی کشمیریوں سے یکجہتی دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں، کیونکہ کشمیری بھی پاکستان کا جھنڈا اٹھا کر مقبوضہ علاقے میں نعرے لگاتے ہیں اب بھارت اگر یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی حمایت سے باز آ جائے تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے، ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، پاکستان کی شہ رگ کشمیر ہے، کشمیر کو ہم کیسے چھوڑ سکتے ہیں، پھر لاکھوں کشمیری بھی صبح و شام پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں، ان کی دنیا بھر میں جدوجہد پاکستانی پرچم کے ساتھ جاری ہے۔ بھارت کو اپنی اس جارحیت اور ناجائز قبضے پر پردہ ڈالنے کے لئے آئے روز نت نئے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اس کا سب سے آسان ہدف پاکستان ہے کہ بھارت میں ہونے والے ہر واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے دیا جائے۔ اس سے وہ ایک طرف اپنے عوام کو دھوکے میں رکھتا ہے اور دوسری طرف یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں پاکستان کے مداخلت کار ملوث ہیں، لیکن جھوٹ پھر جھوٹ ہوتا ہے، بالآخر پکڑا جاتا ہے۔

جیسے پلوامہ واقعہ کا جھوٹ پکڑا گیا ہے اور بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے ہاتھ اس میں صاف نظر آ رہے ہیں۔ نریندر مودی نے جنگ کی باتیں کیں تو بھارت میں گویا ایک زلزلہ آ گیا، حالانکہ زلزلہ تو پاکستان میں آنا چاہئے تھا۔ مگر پاکستان میں تو حالات نارمل ہیں اور پوری قوم اس بات کے انتظار میں ہے کہ بھارتی کوئی حماقت کریں تاکہ انہیں منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ فوج، حکومت اور عوام کی تثلیث جتنی آج مضبوط ہے، پہلے کبھی نہیں تھی۔ سب کی متفقہ رائے ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر حملے کی صورت میں وہ جنگ کریں گے جس کا بھارتی نیتاؤں نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ بھارت اس لئے بھی جنگ کا نہیں سوچ سکتا کہ اس کے اندر بھی بے تحاشہ دراڑیں ہیں، سب سے بڑی دراڑ تو سکھوں کی ہے جو آزاد خالصتان کے لئے موقع کی تلاش میں ہیں اور کسی جنگ کی صورت میں 20 لاکھ سکھ بھارت کی پیٹھ میں کرپانیں گھونپنے کے لئے باہر نکل آئیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...